چیف جسٹس سوریہ کانت نے جنتر منتر پر احتجاج میں شامل طالب علم کو ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کی جانب سے نوٹس جاری کرنے پرپوچھا کہ ’’ہمارے حکم کے باوجود کسی بھی طالب علم کو نوٹس جاری کرنے کی ہمت کیسے ہوئی؟ ‘‘ اس سے قبل الٰہ آباد ہائی کورٹ ڈی ایم میدھا روپم کی سرزنش کرچکا ہے۔
سپریم کورٹ آف انڈیا نےطلبہ کے احتجاج کیخلاف درج تمام ایف آئی آر رد کردی تھیں۔ تصویر: آئی این این
’’ ہمیں اس بات پر حیرانی ہے کہ جب ہم نے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف ایف آئی آر رَد کرنے کی واضح ہدایت دی تھی اور کہا تھا کہ بعد میں بھی کسی طالب علم کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی، پھر ایک مجسٹریٹ کی کسی بھی طالب علم کو نوٹس جاری کرنے کی ہمت کیسے ہوئی۔‘‘ یہ تبصرہ بدھ کو چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے ایک طالب علم کے ذریعہ دائر اس عرضی پر کیا جس میں کہا گیا کہ گریٹر نوئیڈا کے ایگزیکٹیو مجسٹریٹ نے احتجاج میں شامل ہونے پر اسے نوٹس جاری کیا ہے۔گوتم بدھ یونیورسٹی کے طالب علم اکشت ترپاٹھی کے خلاف گریٹر نوئیڈا کے ایگزیکٹیو مجسٹریٹ نے جنتر منتر پر ہونے والے طلبہ کے احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کرنے کے الزام پر نوٹس جاری کیا تھا ۔ ساتھ ہی اسےپانچ لاکھ روپے کے مچلکہ اور اتنی ہی رقم کے دو ضمانتی بانڈ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ اکشت ترپاٹھی نےاس نوٹس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور استدلال کیا کہ یہ کارروائی سپریم کورٹ کے یکم ستمبر کے حکم کو درکنار کرکے کی گئی ہے۔اپنی عرضی میں ترپاٹھی نے کہاکہ نوٹس میں کسی مخصوص تاریخ ، وقت ،بیان ، تشد د کے خطرہ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس نے کہاکہ طلبہ کو احتجاج میں شامل ہونے کی ترغیب دینے کو جرم کی طرح پیش کیا گیا جبکہ پرامن احتجاج اور ا س میں شامل ہونے کیلئے اپیل کرنا آئین کے تحت آزادیٔ اظہار اور پرامن اجتماع کے حقوق کے دائرہ میں آتا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے یکم ستمبر کے حکم میں بھی کہا تھا کہ مجرمانہ ریکارڈ والے ۲۸۷۳؍ لوگوں کو چھوڑ کر نئے سرے سے ایف آئی آر درج نہیں ہوگی۔ ترپاٹھی نے اسی ہدایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ وہ ان ۲۸۷۳؍ لوگوں میں شامل نہیںہے۔اس کے خلاف نہ تو تشدد نہ عوامی جائیداد کو نقصان پہنچانے اور ہی کسی مجرمانہ سرگرمی کا الزام ہے۔ اس نے کہاکہ سپریم کورٹ کے حکم کے محض تین دن بعد اسے احتجاج سے جڑے معاملہ پر نوٹس جاری کیا گیا ۔عرضی میں کہا گیا کہ یہ کارروائی اس تحفظ کو ختم کرنے کی بالواسطہ کوشش ہے جو سپریم کورٹ نے طلبہ مظاہرین کو دیا تھا۔
نوئیڈا انتظامیہ عدالتوں کے نشانے پر ہے
عدالت میں نوئیڈا انتظامیہ جو ضلع مجسٹریٹ یا ڈی ایم کی قیادت میں کام کرتا ہے ، ان دنوں عدالتوں کے نشانے پر ہے۔گزشتہ دنوں ہی الٰہ آباد ہائی کورٹ نےآکرتی چودھری پر این ایس اے عائد کرنے کے معاملے میں ضلع کی ڈی ایم میدھا روپم (ملک کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی بیٹی )کی سخت سرزنش کرتے ہوئے ان پر ۵؍ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ہے اور بہت سخت آرڈر جاری کیا ہے۔ اب سپریم کورٹ نے اسی ضلع کے ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کے خلاف سخت ناراضگی ظاہر کی ہے اور وہ تمام ریکارڈ منگوالیا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے طالب علم اکشت ترپاٹھی کے خلاف نوٹس جاری کیا تھا۔ اس سے واضح ہو رہا ہے کہ ضلع انتظامیہ کیلئے اب برے دن آنے والے ہیں۔