آسٹریلیائی اسپن گیند باز ایڈم زمپا نے کہا کہ شاید معاملات اس طرح نہیں ہوئے جس طرح ہم نے سوچا تھا۔
EPAPER
Updated: September 10, 2026, 3:10 PM IST | Agency | Sydney
آسٹریلیائی اسپن گیند باز ایڈم زمپا نے کہا کہ شاید معاملات اس طرح نہیں ہوئے جس طرح ہم نے سوچا تھا۔
آسٹریلیا کے لیگ اسپنر ایڈم زمپا کا ماننا ہے کہ نئے معاہداتی نظام کے نفاذ کے باوجود بگ بیش لیگ میں اب بھی غیر ملکی کھلاڑیوں کو مقامی کھلاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مل رہا ہے ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ہوبارٹ ہریکینز کے ساتھ۲؍ سال کا معاہدہ کرنے کے بعد ٹورنامنٹ میں ان کی شرکت کے حوالے سے کبھی کوئی حقیقی شک نہیں تھا۔ہوبارٹ ہریکینز زمپا کا بگ بیش لیگ کا پانچواں کلب ہوگا۔ اس سے قبل وہ سڈنی تھنڈر، ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز، ملبورن اسٹارز اور ملبورن رینیگیڈز کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ آسٹریلیا کی جانب سے صرف محدود اوورز کا کرکٹ کھیلنے والے زمپا پورے سیزن کیلئے دستیاب ہوں گے اور انہوں نے اپنی نئی ٹیم کے ساتھ مکمل طور پر جڑے رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
بی بی ایل نے گزشتہ ماہ غیر ملکی کھلاڑیوں کا انتخابی مسودہ ختم کردیا تھا اور کلبوں کو اپنی تنخواہوں کی حد خرچ کرنے کے معاملے میں زیادہ آزادی دی تھی۔ اصولی طور پر اس سے آسٹریلیا کے بڑے نام والے کھلاڑیوں کیلئے زیادہ رقم دستیاب ہونے کی راہ ہموار ہوئی، تاہم زمپا کے برعکس ان میں سے زیادہ تر کھلاڑی پہلے ہی معاہدوں میں بندھے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ایشین گیمز: جاپان میںسیلاب کے سبب اتھلیٹس کو محفوظ مقام پرمنتقل کرنا پڑا
زمپا نے کہا’’ میرے خیال میں، میں ہمیشہ بی بی ایل کھیلنے والا تھا۔ غیر ملکی کھلاڑیوں کے انتخابی مسودے اور رقم کے معاملے پر پردے کے پیچھے بہت کچھ چل رہا تھا اور مقامی کھلاڑی بھی امید کر رہے تھے کہ اس کا فائدہ انہیں ملے گا۔ اس لیے پس پردہ اس بارے میں کافی بات چیت ہورہی تھی۔انہوں نے کہا کہ شاید معاملات اس طرح نہیں ہوئے جیسے ہم نے سوچا تھا۔ میرے خیال میں غیر ملکی کھلاڑیوں کو اب بھی بہتر فائدہ مل رہا ہے، لیکن، میں اپنے فیصلے سے خوش ہوں۔ جیسے ہی پابندی ختم ہوئی، میں ہوبارٹ کے ساتھ معاہدہ کرنے کیلئے کافی پُرجوش تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ میں نے بہت اچھا انتخاب کیا ہے۔‘‘
منگل کو کرکٹ آسٹریلیا نے بی بی ایل کی نجکاری کی منظوری دے دی ۔ زمپا نے تسلیم کیا کہ بین اسٹوکس جیسے کھلاڑیوں کی موجودگی لیگ کے لیے اچھی بات ہے، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ نجی سرمایہ کاری میں اضافے سے مقامی کھلاڑیوں کے لیے حالات میں توازن پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔