• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہوٹلوں کی کھانے پینے کی اشیاء میں ۱۰؍ سے ۱۵؍ فیصد اضافہ متوقع

Updated: October 23, 2026, 1:49 PM IST | Agency | Mumbai

روزمرہ کے کھانے کے لئے ہوٹلوں اور ریستورانوں پر انحصار کرنے والے شہریوں کے ماہانہ اخراجات میں بھی اضافہ ہونے کا اندیشہ۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ممبئی کے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں آئندہ ایک ہفتے کے دوران کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں ۱۰؍ سے۱۵؍ فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔ سبزیوں، خوردنی تیل، دالوں، کمرشیل ایل پی جی اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث ہوٹل اور ریستوران مالکان کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے پیش نظر ہوٹل میں پیش کی جانے والی اشیاء کی قیمتوں پر نظرثانی کی تیاری کی جا رہی ہے۔  انڈین ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ اسوسی ایشن (آہار) نے اشارہ دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے کاروباری اخراجات کے پیش نظر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔ 

بازاروں میں گزشتہ چند ماہ کے دوران سبزیوں، اناج، دالوں اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں قابلِ ذکر اضافہ درج کیا گیا ہے۔ مہاراشٹر میں خشک سالی جیسی صورتحال کے باعث زرعی پیداوار کی ممبئی کو فراہمی متاثر ہونے سے سبزیوں کی قیمتوں میں بھی تیزی آئی ہے۔ دوسری جانب کمرشیل ایل پی جی کی قیمتوں کا بڑھنا اور کمرشیل گالوں کے کرایہ میں اضافے نے ہوٹلوں اور ریستورانوں کے انتظامی اخراجات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:مہاراشٹر میں تہواروں کے دوران گاڑیوں کی رجسٹریشن میں ۲؍فیصد کمی، پونے سرفہرست

ہوٹل کی صنعت سے وابستہ نمائندوں کا کہنا ہے کہ خام مال اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث موجودہ نرخوں پر کاروبار جاری رکھنا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ کسی حد تک صارفین تک منتقل کئے جانے کا امکان ہے۔ چائے اور ناشتے کی بعض اشیاء کی قیمتوں میں پہلے ہی اضافہ ہو چکا ہے جبکہ مجوزہ نظرثانی سے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں دستیاب تقریباً تمام پکوان متاثر ہو سکتے ہیں۔ ریستوران اور پکوان کی نوعیت کے لحاظ سے فی ڈش۱۰؍ سے۲۰؍ روپے تک اضافہ متوقع ہے۔ 

قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین، اہلِ خانہ سے دور رہ کر تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور آن لائن کھانے کا آرڈر دینے والے صارفین متاثر ہو سکتے ہیں۔ روزمرہ کے کھانے کے لئے ہوٹلوں اور ریستورانوں پر انحصار کرنے والے شہریوں کے ماہانہ اخراجات میں بھی اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے۔  آہار کے ممبئی اور مضافاتی علاقوں میں ہوٹلوں، ریستورانوں اور بار سمیت۲۵؍ ہزار سے زائد اراکین ہیں۔اس سلسلےمیں اسوسی ایشن کے صدر وجے شیٹی نے کہاکہ مینو کی نظرثانی شدہ قیمتیںجلد ہی سے نافذ کی جا سکتی ہیں۔ اگر مجوزہ اضافہ نافذ ہوتا ہے تو پہلے ہی مہنگائی سے پریشان صارفین پر مزید مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK