وزیراعلیٰ کےذریعہ افتتاح کے ۲؍ گھنٹوں بعد بھی راستہ شروع نہ کئے جانے پر گاڑی والے برہم ہوگئے اوررکاوٹیںہٹادیں۔ سائن اور ودیا وہار میں ایک طرف کی سڑک پر بائیک سواروں کی آمدورفت شروع۔
EPAPER
Updated: October 23, 2026, 1:56 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
وزیراعلیٰ کےذریعہ افتتاح کے ۲؍ گھنٹوں بعد بھی راستہ شروع نہ کئے جانے پر گاڑی والے برہم ہوگئے اوررکاوٹیںہٹادیں۔ سائن اور ودیا وہار میں ایک طرف کی سڑک پر بائیک سواروں کی آمدورفت شروع۔
وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کے ہاتھوں جمعرات کو سائن بریج، ودیا وہار فلائی اوور اور ’گوریگائوں۔ملنڈ لنک روڈ‘ کا ویڈیو کانفرنسنگ سے ذریعہ افتتاح کیا گیا۔ دیویندر فرنویس اپنی سرکاری رہائش گاہ ورشا میں موجود تھے اور وہیں سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعہ افتتاح کیا۔ تاہم افتتاحی تقریب ختم ہونے کے تقریباً ۲؍ گھنٹوں بعد بھی جب ان پلوں کو گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے نہیں کھولا گیا تو سڑک پربے صبری سے انتظار کررہے سیکڑوں موٹرسائیکل سوار برہم ہوگئے اور انہوں نے خود ہی رکاوٹیں ہٹا کر سائن اور ودیا وہار فلائی اوور کی ایک طرف کی سڑک پر آمدورفت شروع کردی۔
ممبئی کی میئر ریتو تائوڑے، نائب میئر سنجے گھاڑی، میونسپل کمشنر اشوینی بھیڈے، ممبئی کے متعدداراکین پارلیمان، اراکین اسمبلی، بی ایم سی کے اپوزیشن لیڈران، میونسپل کارپوریٹرس اور میونسپل افسران اس تقریب میں شریک تھے۔
یاد رہے کہ سائن بریج بن کر تیار ہوچکا تھا لیکن افتتاحی تقریب کے انتظار میں اسے کھولا نہیں جارہا تھا جس سے شہریوں میں سخت ناراضگی پائی جارہی تھی اور تقریباً ۳؍ روز قبل ہی عوام نے خود ہی ’بیریکیڈ‘ ہٹا کر سائن بریج کا استعمال شروع کردیا تھا جس کی وجہ سےشہری انتظامیہ نے ایک طرف کے راستے پر لوہے کی سلاخوں پر ویلڈنگ کرکے اسے بند کردیا اور اس حصہ پر جہاں سائن ریلوے اسٹیشن کا پرانا ٹکٹ کائونٹر ہوا کرتا تھا، اس طرف افتتاحی تقریب کیلئے اسٹیج بنا دیاتھا۔
ودیا وہار اور جی ایم ایل آر پر بھی بریج کی ایک طرف کی سڑکوں پر اسٹیج بنایا گیا تھا جس پر افتتاح کے وقت مقامی سیاستداں اور بی ایم سی کے افسران و اہلکار موجود تھے۔
یہ بھی پڑھئے:بھیونڈی: ’ٹورینٹ گو بیک تحریک‘ کو کُل جماعتی تنظیم کی حمایت
افتتاحی تقریب ختم ہونے کے بعد سیاستداں اور بی ایم سی افسران بریج پر فوٹو کھنچوا کر اپنے اپنے راستے چل دیئے اور یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ بریج کو عوام کیلئے کب کھولا جائے گا۔ چونکہ سائن بریج بند ہونے سے مقامی افراد کو کافی دور سے گھوم کر اپنی منزل تک پہنچنا پڑرہا تھا اس لئے افتتاح کی خبر عام ہونے پر بہت سے افراد سڑک کھلنے کے انتظار میں کھڑے تھے۔ جب ۲؍ سے ڈھائی گھنٹے گزر گئے اور راستہ شروع نہیں کیا گیا اور نہ ہی وہاں کوئی ٹریفک پولیس کا افسر یا اہلکار موجود تھا تو شہریوں نے خود ہی سیمنٹ کے بیریکیڈ ہٹادیئے۔ چونکہ سیمنٹ کے ڈیوائیڈر کافی وزنی ہوتے ہیں اس لئے کئی کئی افراد کے مل کر ہٹانے پر بھی یہ مشکل سے سرک رہے تھے اس لئے جب یہ اڑچنیں اتنی ہٹ گئیں کہ کسی طرح موٹر سائیکل گزر سکے تو دھاراوی سے سائن سرکل کی طرف جانے والے راستے پر دو پہیہ گاڑیوں کی آمدورفت شروع ہوگئی۔
یاد رہے کہ سائن بریج کو یکم اگست ۲۰۲۴ء کو از سر نو تعمیر کیلئے بند کردیا گیا تھا۔ اگرچہ اس بریج کو ۱۸؍ مہینوں میں تعمیر کرنے کا ہدف طے کیا گیا تھا لیکن اس سے بہت زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود مکمل نہیں ہوسکا تھا۔ بعد میں اسے شروع کرنے کیلئے فروری ۲۰۲۷ء کی تاریخ طے کی گئی تھی لیکن اس سے پہلے کام پورا ہونے پر دعویٰ کیا جانے لگا کہ اسے متعینہ وقت سے ۴؍ ماہ قبل ہی شروع کردیا گیا ہے۔
ودیا وہار فلائی اوور پر بھی ایک طرف اسٹیج بنا ہوا تھا اور دوسری طرف کی سڑک پر سے گاڑیوں کی آمدورفت شروع کردی گئی۔ جس راستے پر اسٹیج بنایا گیا تھا ،اس کے سروں پر پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا جو عوام کو اس پر جانے سے روک رہے تھے۔
ودیا وہار بریج ۶۵۰؍ میٹر طویل ہے اور مشرقی سمت میں رام چندرا چمبورکر مارگ اور مغربی سمت میں لال بہادر شاستری روڈ کو جوڑتا ہے اور ودیا وہار ریلوے اسٹیشن کے قریب ریلوے ٹریک کے اوپر سے گزرتا ہے۔ اس بریج کی وجہ سے آدھے گھنٹے کا سفر ۱۰؍ منٹ میں طے ہوسکے گااور اس سے گھاٹ کوپر ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع فلائی اوور پر ٹریفک کم کرنے میں مدد کرے گا۔
گوریگاؤں-ملنڈلنک روڈ بھی شروع
’جی ایم ایل آر (گوریگائوں-ملنڈ لنک روڈ)‘ ایک وسیع پروجیکٹ کا حصہ ہے جسے مختلف مراحل میں شروع کیا جارہا ہے۔ اس پروجیکٹ میں ’سنجے گاندھی نیشنل پارک‘ کے درمیان سے ۲؍ سرنگیں کھود کر بھی راستہ تعمیر کیا جانا ہے اور سرنگ کی کھدائی کیلئے ۱۷؍ اگست ۲۰۲۶ء کو ہی ’تُلسی‘ نامی ’ٹی بی ایم‘ مشین سے کام شروع کیا گیا ہے۔ جمعرات کو جو حصہ شروع کیا گیا ہے، وہ گوریگائوں مشرق میں رتناگیری ہوٹل جنکشن کے پاس تعمیر کیا گیا ہے اور جنرل ارون کمار ویدیا مارگ سے دادا صاحب پھالکے چتر نگری مارگ پر سنتوش نگر تک جاتا ہے۔ اس فلائی اوور کے ذریعہ ایسٹرن ایکسپری ہائی وے کو ویسٹرن ایکسپریس ہائی وے سے جوڑا جائے گا۔