• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرانس کے بعد یونان میں بھی احتجاج شروع، اسکولوں میں۱۵؍ ہزار ٹیچروں کی کمی

Updated: October 23, 2026, 1:43 PM IST | Agency | Athens

فرانس میں مہنگائی اور عوامی مسائل کے خلاف جاری احتجاج کے بعد یونان میں بھی ہزاروں طلبہ، اسکول کے بچوں، اساتذہ اور ملازمین نے مہنگائی، تعلیمی سہولیات کی کمی اور کم اجرتوں کے خلاف احتجاج کیا۔فرانس پریس کے مطابق دارالحکومت ایتھنز میں تقریباً ۵؍ ہزار افراد نے مارچ کیا، جبکہ ملک کے دوسرے بڑے شہر تھیسالونیکی میں ۳؍ ہزار کے قریب مظاہرین سڑکوں پر نکلے۔

A scene from a march held in Athens. Photo: INN
ایتھنز میں نکالے گئے مارچ کا منظر۔ تصویر: آئی این این

فرانس میں مہنگائی اور عوامی مسائل کے خلاف جاری احتجاج کے بعد یونان میں بھی ہزاروں طلبہ، اسکول کے بچوں، اساتذہ اور ملازمین نے مہنگائی، تعلیمی سہولیات کی کمی اور کم اجرتوں کے خلاف احتجاج کیا۔فرانس پریس کے مطابق دارالحکومت ایتھنز میں تقریباً ۵؍ ہزار افراد نے مارچ کیا، جبکہ ملک کے دوسرے بڑے شہر تھیسالونیکی میں ۳؍ ہزار کے قریب مظاہرین سڑکوں پر نکلے۔ سرکاری ٹیلی ویژن ای آر ٹی کے مطابق مغربی شہر پاتراس میں بھی ۳؍ہزار سے زیادہ افراد نے احتجاجی مارچ میں شرکت کی۔مظاہرین نے اسکولوں میں بنیادی سہولتوں، عملہ کی کمی اور خستہ حال عمارتوں کی شکایت کرتے ہوئے تعلیم کے شعبے کے لیے سرکاری اخراجات بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ سیکنڈری اسکول ٹیچرز یونین کے مطابق ملک کے اسکولوں میں تقریباً ۱۵؍ ہزار اساتذہ کی کمی ہے۔تھیسالونیکی کی ارسطو یونیورسٹی کے طلبہ نے کہا کہ یونان اور فرانس سمیت مختلف یورپی ممالک میں نوجوانوں کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:مہاراشٹر میں تہواروں کے دوران گاڑیوں کی رجسٹریشن میں ۲؍فیصد کمی، پونے سرفہرست

مظاہرین نے مفت اور سرکاری تعلیم کے مطالبے کے ساتھ بڑھتے ہوئے اخراجات زندگی کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔ بعض طلبہ نے اسکولوں میں ٹوٹی کھڑکیوں اور ہیٹنگ کا نظام خراب ہونے کی شکایت کی۔تھیسالونیکی میں مظاہرین نے یونان اور فرانس، ہر جگہ انقلاب، وہی مسائل اور وہی دشمن جیسے نعروں پر مشتمل بینرز اٹھائے۔ منگل کی شام ایتھنز اور تھیسالونیکی میں درجنوں طلبہ نے احتجاج کے طور پر خیمے بھی نصب کیے۔ پبلک سیکٹر کے ملازمین کی یونین’ ادیدی‘ نے بھی اجرتوں میں اضافے اور اساتذہ کے لیے بہتر سہولتوں سمیت مختلف مطالبات کی حمایت کی۔یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا ہے جب یونان میں مہنگائی کی شرح یورو زون کے اوسط سے زیادہ ہے۔ یوروپی شماریاتی دفتر کے مطابق گزشتہ ستمبر میں یونان کی سالانہ افراط زر کی شرح۱ء۵؍فیصد رہی، جبکہ یورو زون کی اوسط شرح۳ء۸؍ فیصد تھی۔ یونان نے ۲۰۲۳ء میں اپنی مجموعی ملکی پیداوار کا۳ء۳؍فیصد تعلیم پر خرچ کیا تھا، جبکہ یوروپی یونین کی اوسط شرح۴ء۷؍ فیصد تھی۔اس دورانمغربی تھریس ترک اقلیت مشاورتی کونسل کے صدر اور اسکیچے کے منتخب مفتی مصطفی ترامپا نے اعلان کیا کہ۲۷-۲۰۲۶ء تعلیمی سال میں رودوپ میں۵؍، اسکیچے میں۲؍ اور مریچ میں ایک یعنی کل۸؍ ترک اقلیتی پرائمری اسکولوں کی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ اسکول عارضی طوربند کئے ہیںمگر انہوں نے فیصلے  پر تنقید کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK