آرین کی ضمانت پرگرما گرم بحث ،آج فیصلہ متوقع

Updated: October 27, 2021, 9:23 AM IST | Nadeem asran | Mumbai

بامبے ہائی کورٹ میںسینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی نے کیس کو انتہائی کمزور قرار دیا ،آرین کو بلاوجہ گرفتار کرنے اور جیل میں رکھنے پر اعتراض کیا ،وقت کی کمی کے سبب سماعت ملتوی ہوئی

Aryan`s lawyer and the country`s senior advocate Mukul Rohatgi outside the Bombay High Court. (PTI)
آرین کے وکیل اور ملک کے سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی بامبے ہائی کورٹ کے باہر ۔(پی ٹی آئی )

بالی ووڈ  کے کنگ کہلانے والے شاہ  رخ خان  کے بیٹے آرین خان کو ممکنہ طور پر ایک اور دن آرتھر روڈ جیل میں گزانا ہوگا کیونکہ بامبے ہائی کورٹ میں ان کی  ضمانت کی  اپیل پر جرح مکمل نہیں ہوسکی ہے جس کے سبب سماعت کو بدھ تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اب امکان ہے کہ بدھ کو اس معاملے میں سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ سنایا جائے۔ بامبے ہائی کورٹ کی سنگل بنچ کے جسٹس نتن سامبرے کی عدالت میں آرین خان کی پیروی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ اور ملک کے سابق اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے  زوردار دلائل کے ذریعہ آرین کے خلاف درج کیس کو انتہائی کمزور اور انہیںگزشتہ ۲۲؍ دنوں سے جیل میں رکھے جانے کو غلط قرار دیا ۔ ساتھ ہی۲؍ صفحات پر مشتمل حلف نامہ  داخل کرکے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کا تفتیشی افسر سمیر وانکھیڈے پر لگائے گئے الزامات سے کوئی سروکار نہیں ہے اور نہ ہی وہ این سی بی کے پنچ گواہ پربھاکر سیل کو جانتے ہیں ۔ اب ہائی کورٹ میں آرین خان اور دیگر کی ضمانت پر  بدھ کو ڈھائی بجے سماعت  شروع ہوگی اور ممکنہ طور پر اسی شام فیصلہ بھی سنادیا جائے گا ۔
 آرین خان جو گزشتہ ۲۰؍ دنوں سےآرتھر روڈ جیل میں قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں ، کو ضمانت کی منظوری کا ایک بار پھر انتظار کرنے پڑے گا کیونکہ منگل کوضمانت پر جرح مکمل نہیں ہوسکی ہے ۔ منگل کو ہونے والی شنوائی کے دوران ہائی کورٹ کے احاطے اور سنگل بنچ کے جسٹس نتن سامبرے کی عدالت میں میڈیا کے نمائندوں، وکلاء اور دیگر کیسوں کے عرضداشت گزاروں کا سیلاب امڈ پڑا تھا ۔ دوپہر کے کھانے کے بعد شنوائی شروع ہونے سے قبل جسٹس سامبرے نے کووڈ  کے قواعد پر عمل نہ کرنے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے عدالت کے کارکنان اور پولیس کو حکم دیا کہ وہ سبھی کو کمرۂ عدالت سے باہر کردیں اور کورونا سے متعلق ترتیب کردہ اصول  کے مطابق ہی  سماعت کا آغاز کریں ۔ عدالت کے حکم پر نامہ نگاروں کو بھی کمرہ عدالت سے باہر کر دیا گیا تھا لیکن شنوائی شروع ہونے سے قبل نامہ نگاروں کو کمرہ عدالت میں جانے کی اجازت دے دی گئی ۔دوران سماعت ایک طرف آرین کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی ، ملزم ارباز مرچنٹ کی جانب سے امیت دیسائی نے جبکہ تفتیشی ایجنسی کی جانب سے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل انل سنگھ نے جرح کی  ۔
 دفاعی وکیل روہتگی نے منشیات کے معاملات میںسپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے کئی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ  میرے موکل کو نہ صرف بیجا طو رپر گرفتار کیا گیا بلکہ انہیں اتنے دنوں تک غیر ضروری طور پر جیل میں رکھا گیا ہے جبکہ ان کی تحویل سے نہ تو منشیات برآمد کی گئی تھیں  نہ ہی ان کے وہاٹس ایپ چیٹ سے منشیات کی تجارت  میں ان کے ملوث ہونے کا پتہ چلتا ہے اور نہ طبی جانچ میں ان کے منشیات استعمال کرنے کی تصدیق ہوئی ہے۔اس کے علاوہ ان پرجو دفعات  عائد کی گئی  ہیں وہ منشیات کے معاملہ میں قانون کی  رو سے بھی درست نہیں  ہیں ۔
 مکل روہتگی  نے یہ بھی کہا کہ یہی نہیں میرے موکل کے موبائل سے حاصل شدہ وہاٹس اپ چیٹ کی بنیاد پر منشیات کے کاروبار اور بیرون ملک ایجنٹوں سے رابطہ میں ہونے کا نہ صرف الزام لگایا گیا بلکہ سازش میں ملوث ہونے کی بات کہی گئی جو انتہائی مضحکہ خیز ہے ۔ اسی درمیان وکیل استغاثہ انل سنگھ نے آرین کی ضمانت کی اپیل کو مسترد کرنے کی  درخواست کرتے ہوئے حلف نامہ داخل کیا اور کہا کہ آرین مذکورہ بالا منشیات معاملہ میںعالمی منشیات فروشوں سے رابطہ میں ہے۔ اگر اسے ضمانت پر رہا کیا گیا تووہ تفتیش میں رخنہ ڈالنے ، ثبوتوں کو مٹانے اور گواہوں کوگمراہ کرنے کی کوشش کرے گا ۔ اس کی تازہ مثال مذکورہ بالا کیس کے پنچ گواہ پربھاکر سیل کا تفتیشی افسر پر ہفتہ وصولی کا الزام لگانا ہے ۔ گواہ کے اس بیان سے تفتیش متاثر ہورہی ہے ۔اسی درمیان ارباز مرچنٹ کے وکیل امیت دیسائی نے بھی جرح کرتے ہوئے ضمانت کو قبول کئے جانے کی اپیل کی ۔ کورٹ نے وقت کی قلت کے سبب بدھ کو دوبارہ جرح کا حکم دیتے ہوئے سماعت کو ملتوی کر دیا

aryan khan Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK