مہاراشٹر کے عوام کا بڑا طبقہ یوپی میں   بلڈوزر کارروائی سے نالاں

Updated: June 15, 2022, 9:50 AM IST | Mumbai

ریاست کے مختلف شہروں کی ملی وسماجی تنظیموںکے نمائندوں سے لےکر عام آدمی تک سبھی نے اسے انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی اور قانون کی حکمرانی کے خلاف قرار دیا،یوگی حکومت کے اقدام کی شدید لفظوں میںمذمت ،جمہوری ملک میںہر کسی کو اپنی بات رکھنے کے حق کی پُرزور وکالت

Uttar Pradesh government is openly coercing innocents (file photo)
اترپردیش حکومت بے گناہوں کے ساتھ کھلے عام جبرکر رہی ہے( فائل فوٹو)

مالیگاؤں/جلگاؤں/ناندیڑ/پونے :پیغمبر اسلام کی شان اقدس میںگستاخی کے خلاف احتجاج کے دوران یوپی میں پھوٹ پڑنے والے تشدد کے بعد پولیس کی ایک فرقہ کے خلاف  کارروائی اورکارروائی نام پر مسلمانوں کے مکانات پر بلڈوزر چلائے جانے کیخلاف انصاف پسند آواز اٹھا رہے ہیں۔ مہاراشٹر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والوںنے بھی یوگی حکومت کی اس کارروائی پر شدید برہمی کا اظہارکرتے ہوئے اسے سراسرظالمانہ ، غیر آئینی  اور غیر قانونی قراردیا ہے۔
 مالیگاؤں کےسبکدوش پروفیسر مصطفیٰ خان  نے کہا کہ ’’یوپی میں جو کچھ ہورہا ہے ، وہ بہت ہی افسوسناک اور شرمناک  ہے ۔ پہلے تو پرامن مظاہرین پر تشدد کیاگیا ہےا ور اسکے بعد ان کے گھروں پربلڈوزر چلادیا گیا۔یہ سازش لگتی ہے، بلڈوزر چلادینانا بالکل اسرائیلی طرز کی کارروائی  ہے۔ ‘‘مالیگاؤں سے  ہی تعلق رکھنے والے ایڈوکیٹ مصدق مومن (بامبے ہائی کورٹ) نے کہا کہ فوری فیصلہ کے نام پر سرکاری و درباری افسران کے ذریعے بلڈوزر مہم عدالتی نظام کے وقار کے منافی ہے۔ فقط الزام عائد کرکے رہائش گاہوں کی مسماری تعزیراتی قوانین اور بنیادی انصاف کے اصولوں اور قدروں کی صریح خلاف ورزی ہے۔یہ جمہوری نظام کے لئے انتہائی مضر اقدام ہے۔
 ناندیڑ میں ونچت بہوجن اگھاڑی کے ریاستی ترجمان فاروق احمد سے جب اس مسئلہ پر بات کی گئی تو انہوں نے کہا ’’ یوگی حکومت مظاہرین کیخلاف کارروائی کے نام پر مسلمانوں کو جو نشانہ بنارہی ہے وہ سراسر ظلم ہے اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔یوگی حکومت کی یہ کارروائی نہ صرف مسلمانوں کے خلاف ایک منظم حملہ ہے بلکہ ملک کے دستور پر بھی حملہ کے مترادف ہے ۔اس معاملے میں سپریم کورٹ کو از خودنوٹس لینا  چاہئےاور یوگی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہئے ۔‘‘ مسلم نمائندہ کونسل کے صدر عابد علی نے کہا ’’ یوپی میں جو کچھ ہورہاہے وہ مسلمانوں کے خلاف کھلے عام نا انصافی ہے ۔اگر کسی نے غیر قانونی طریقے سے اپنے مکان کی تعمیر کی ہے تو اس کو باضابطہ نوٹس دیکر اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقع دینا چاہئے ایسا نہیں کہ یکطرفہ مکانوں کو منہدم کردیاجائے۔‘‘
 پرتیبھا شندے (آدیوسی لیڈر و صدر لوک سنگھرش مورچہ جلگاؤں )  نے کہا ’’ہمارا ملک جمہوری ہے اسی لئے ہر کسی کو اپنی بات رکھنے کا دستوری حق ہے ۔ایسے میں اگر کسی سے کوئی غلطی ہوتی ہے تو  ایک پروسیس کے تحت کارروائی ہونی چاہئے ، پھر کوئی کسی بھی طبقے اور سماج کا فرد ہو ،مگر یوپی اور ملک کے وہ علاقے جہاں پر پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کے خلاف احتجاج کے دوران امن امان کی حالت خراب ہوئی  وہاں ایک خاص فرقے کے لوگوں کو نشانہ بنا کر ان کے گھروں پر بلڈوز چلانے کی میں سخت مذمت کرتی ہوں۔‘‘
  عبدالکریم سالار (سابق میونسپل میئر و صدر اقراء ایجوکیشن سوسائٹی جلگاؤں ) نے اپنے رد عمل میں کہا ’’یو پی انتظامیہ کی جانب سے فطری انصاف کئے بغیر اسی طرح یک طرفہ کاروائی   کھلی اقلیت دشمنی کی مثال ہے ۔یہ یوپی کی موجودہ حکومت اقتدار کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہے ۔‘‘فاروق شیخ (جنرل سیکریٹری عید گاہ و مسلم قبرستان ٹرسٹ جلگاؤں )کے مطابق ’’یہ یک طرفہ کاروائی ہے۔اگر اقلیتی طبقے کی وجہ سے کہیں فساد بھڑکا ہے ،سرکاری املاک کا نقصان ہوا ہے اس پر انتظامیہ مسلمانوں کے گھر منہدم کرنے کی کاروائی کررہی ہے تو پھر نپور شرما اور نوین جندل  کےبھی مہندم کئے جائیں کہ مجرم وہ بھی ہیں۔‘‘
 پونے کے اسلم چشتی نے اپنے تاثرات میں کہا ’’اگر انصاف بلڈوزر سے ہی ہوگا تو  عدالتیں کس لیے ہیں ؟ اس طرح کسی کے آشیانے کو توڑ ڈالنا اترپردیش سرکار کا شرمناک چہرہ ہے ۔ کسی بھی ظلم کی عمر زیادہ نہیں ہوتی اس حرکت کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔‘‘
 شولاپور کے وجاہت عبدالستار نے کہا کہ ’’اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ   کی دفعہ ۱۹۷۳ءکے تحت اس طرح کی کارروائی سے۱۵؍ دن قبل نوٹس دینا ضروری ہےاور یوپی  بلڈننگ ریگولیشن ایکٹ۱۹۵۸ء  کی دفعہ۱۰؍کے مطابق انہدامی کارروائی سے قبل فریق کو اپنی صفائی کا ایک موقع دیا جانا لازمی ہے ۔ اس کے باوجود یو پی حکومت نے ان تمام قوانین کو بالائے طاق رکھ کر انہدامی کارروائی بلکہ انتقامی کارروائی شروع کر دی ہے اور نیشنل میڈیا ( گودی میڈیا) ظالم اقتدار کی حمایت میں ایک فریق کی حیثیت سے پوری پلاننگ کے ساتھ فرضی مواد تیار کرکے فسطائیوں کی مدد کر رہی ہے۔‘‘
 مروڈ کےمولانا قاضی حسین ماہمکر نے کہا ’’ یہ ہندوستان ہے، یہاں جمہوریت کا راج ہے ،یہاںبلڈوزر راج نہیں چلے گا۔یوگی حکومت کا بلڈوزر راج  ملک کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا۔یوگی حکومت کی بلڈوزر کارروائی سے یہ صاف ظاہرہوتا ہے کہ کسی ایک خاص فرقہ کو ٹارگیٹ کیا جا رہا ہے۔ اترپردیس میں زیادہ تر مسلمان خوف کے سایہ میں جی رہے ہیں۔ یوگی سرکار کی اس بلڈوزرسیاست کو تاریخ ایک بڑے جرم کے طور پر یاد رکھے گی۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK