Updated: March 12, 2026, 6:05 PM IST
| Sambhal
اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں مسلم کمیونٹی کے ایک وفد نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح کانوڑ یاترا کے دوران ہندو یاتریوں پر ہیلی کاپٹروں سے پھولوں کی بارش کی جاتی ہے، اسی طرح عیدالفطر اور الوادع جمعہ کے موقع پر بھی جامع مسجد میں نمازیوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جائیں۔ وفد نے اس مطالبے کو مذہبی تقریبات میں مساوی سلوک سے جوڑا ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ۔ کانوڑ یاترا پر پھول برساتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این۔
اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں مسلم کمیونٹی کے نمائندوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی تہواروں کے دوران بھی وہی احترام اور سرکاری انتظامات کیے جائیں جو ہندو تہواروں کے لیے کیے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں کمیونٹی کے ایک وفد نے ضلع مجسٹریٹ پردیپ ورما سے ملاقات کر کے ایک تحریری میمورنڈم پیش کیا۔ وفد نے اپنے مطالبے میں کہا کہ عیدالفطر کی نماز اور رمضان کے آخری جمعہ یعنی الوادع جمعہ کے موقع پر سنبھل کی تاریخی جامع مسجد میں جمع ہونے والے نمازیوں پر ہیلی کاپٹروں سے پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جائیں۔ ان کے مطابق یہ اقدام مذہبی تہواروں کے لیے برابری اور احترام کی علامت ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: جنگ کا اثر: حیدرآباد کے آئی ٹی کوریڈور ہاسٹلس میں گیس کی قلت، مینومیں بڑی کٹوتی
میمورنڈم میں وفد نے نشاندہی کی کہ اتر پردیش میں ہر سال ہونے والی کانوڑ یاترا کے دوران ریاستی حکومت کی جانب سے یاتریوں کے استقبال کے لیے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ اس دوران کئی مواقع پر ہیلی کاپٹروں سے کانوڑیوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں اور سرکاری سطح پر اس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔وفد نے کہا کہ ’’حکومت کو مسلمانوں کے مذہبی تہواروں کا بھی اسی طرح احترام کرنا چاہیے جس طرح وہ ہندو مذہبی تہواروں کا احترام کرتی ہے۔‘‘
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ماضی میں مسلمانوں کی طرف سے اس طرح کے مطالبات سامنے نہیں آئے تھے، لیکن اس سال انہوں نے محسوس کیا کہ مختلف مذہبی تہواروں کے ساتھ برتاؤ میں فرق کو اجاگر کرنا ضروری ہے۔ اتر پردیش میں کانوڑ یاترا کے دوران ریاستی حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے یاتریوں کے لیے کئی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ ان میں سیکوریٹی انتظامات، طبی امداد، پانی اور دیگر سہولتوں کے ساتھ ساتھ بعض مواقع پر پھولوں کی بارش جیسے اقدامات بھی شامل ہوتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی کئی مواقع پر ایسے پروگراموں میں شریک رہے ہیں جہاں یاتریوں کے استقبال کے لیے ہیلی کاپٹروں سے پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف بھی تحریک مواخذہ پیش ہوگی
تاہم سنبھل یا ریاست کے دیگر علاقوں میں عید کی نماز یا دیگر بڑے مسلم اجتماعات کے دوران اس طرح کا کوئی سرکاری انتظام پہلے نہیں کیا گیا۔ سنبھل کے مسلم نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہی فرق ان کے مطالبے کی بنیادی وجہ ہے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اتر پردیش کے مختلف حصوں میں مذہبی تقریبات کے ساتھ سرکاری برتاؤ اور سہولتوں کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ سنبھل میں حالیہ عرصے میں بین المذاہب خیر سگالی کے کئی واقعات بھی سامنے آئے ہیں جہاں مختلف کمیونٹیز کے افراد نے ایک دوسرے کے تہواروں میں شرکت کی اور پھولوں کا تبادلہ کیا۔ تاہم یہ سرگرمیاں زیادہ تر مقامی کمیونٹی کی سطح پر تھیں اور سرکاری طور پر منظم نہیں کی گئی تھیں۔
ضلعی انتظامیہ نے مسلم کمیونٹی کی جانب سے دیا گیا میمورنڈم وصول کر لیا ہے۔ تاہم اس درخواست پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل یا فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ بڑے عوامی اجتماعات اور سیکوریٹی انتظامات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاملے کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ انتظامی ضابطوں اور سیکوریٹی خدشات کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مقامی مسلم کمیونٹی مذہبی تقریبات کے حوالے سے ریاستی سطح پر مساوی سلوک اور یکساں احترام کی توقع رکھتی ہے۔