Inquilab Logo Happiest Places to Work

تمل ناڈو میں سیکولر اورسماجی انصاف کےنئے دور کا آغاز

Updated: May 11, 2026, 10:44 AM IST | Chennai

’’ میں  آپ جیسا عام آدمی ہوں، میں  عوام کو دھوکہ نہیں  دوں  گا، یہ وِجے خودکچھ غلط کرےگا نہ اپنی حکومت میں  کسی کو کرنے دیگا‘‘

Joseph Vijaychandshekhar with Rahul Gandhi at the swearing-in ceremony. Photo: INN
حلف برداری کے وقت جوزف وجے چند شیکھر، راہل گاندھی کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این

وزیر اعلی کا حلف لینے کے بعد تھلاپتی وجے نے نہرو انڈور اسٹیڈیم میں اپنے حامیوں کے پرجوش مجمع سے خطاب کرتے ہوئے ایسی کئی باتیں کہیں جو ان کے زمین سے جڑا ہونے، ریاست کے مسائل کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے کے مخلصانہ جذبہ اور عزم کی نشان دہی کرتی ہیں۔ 
۲؍ سال میں  وزارت اعلیٰ تک پہنچ گئے
دو سال پہلے اکتوبر میں جب ان کی پارٹی ٹی وی کے قائم کی گئی تھی تب بھی اتنا ہی بڑا مجمع ان کی ایک جھلک پانے کو بے تاب تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے یہ کسی بڑی فلم کا یوم افتتاح ہو۔ شائقین پرچم لہرا رہے تھے، ایک جانب پٹاخے چھوڑے جارہے تھے اور مجمع میں ہزاروں لوگ اپنے ہاتھوں میں موبائل فون لئے کھڑے تھے تاکہ اس تاریخی تقریب کا ایک ایک لمحہ ریکارڈ کرسکیں۔ اتوار کو نہرو اسٹیڈیم میں بھی کچھ ایسا ہی منظر تھا، فرق صرف اتنا تھا کہ تب پارٹی لانچ کی جارہی تھی اور اب وجے کی پارٹی پہلے ہی الیکشن میں شاندار کامیابی کے بعد حکومت سازی کے پہلے مرحلے، تقریب حلف برداری، میں داخل ہوئی تھی۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اکثر سیاستداں کئی بار ہارنے کے بعد جیت پاتے ہیں، وجے کو پہلی ہی جست میں وجے ملی۔ 
بحیثیت وزیر اعلیٰ اپنے پہلے خطاب میں سی جوزف وجے نے، جن کا تعلق اقلیتی فرقے سے ہے کہ وہ عیسائی ہیں، کئی موضوعات کا احاطہ کیا۔ انہوں نے تمل ناڈو کے عوام سے جذباتی سطح پر جڑتے ہوئے کہا کہ میں کسی بڑے خاندان سے نہیں ہوں، آپ کے بیٹے، بیٹی، بڑے بھائی، چھوٹے بھائی جیسا ہوں اور خود کو اسی طرح دیکھتا ہوں۔ چونکہ آپ نے بھی مجھے اسی طرح دیکھا اس لئے سنیما میں مجھے ایک عظیم منصب عطا کیا۔ اس کے بعد آپ کا قرض ادا کرنے کیلئے جب میں نے سیاست میں قدم رکھا تو آپ نے بڑی محبت اور شفقت سے گلے لگایا اور کہا وجے ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تمہارا خیال رکھیں گے۔ آپ ہی نے مجھے سیاست میں قدم رکھنے کیلئے آمادہ کیا اور پھر یہ دن آیا کہ آپ نے مجھے ریاست کا وزیر اعلیٰ بنا دیا۔ 
نوجوانوں  کو وجے نےبطور خاص مخاطب کیا
اس کے ساتھ ہی وجے نے نو عمروں (جنریشن زیڈ) کو مخاطب کیا اور کہا کہ میں ان پیارے دوستوں کا خاص شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنے اہل خانہ کو راضی کیا کہ وہ مجھے کامیاب بنائیں۔ وجے نے انہیں ’’وجے ماما‘‘ کہنے والے نوعمروں کو یقین دلایا کہ وہ ان کی اس چاہت کا قرض اس طرح ادا کرینگے کہ ان کے مستقبل کیلئے سرگرم عمل رہیں گے۔ اپنے خطاب میں وجے نے کہا کہ یہ سیکولر اور سوشل جسٹس کے نئے عہد کا آغاز ہے، میں کوئی آسمانی فرشتہ نہیں ایک عام انسان ہوں اور معمول کی زندگی گزارتا ہوں، آپ سب سے صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ جھوٹے وعدے کرکے آپ کو دھوکہ نہیں دوں گا، وہی وعدہ کروں گا جس کو پورا کرنا میرے لئے ممکن ہوگا۔ آپ کا ساتھ میری سب سے بڑی طاقت ہے جو ہر ہدف کو پانے اور ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے پر صرف ہوگی۔ 
وجے تھلاپتی کا عوام سے وعدہ
تمل فلموں  کے اسٹار نے بطور وزیراعلیٰ  اپنے پہلے خطاب میں  تمل ناڈو کے شہریوں  کو یقین دلایا کہ ’’میں عوام کے پیسے میں سے ایک پیسہ بھی نہیں لوں گا۔ یہ وجے کبھی کوئی غلط کام نہیں کرے گا۔ وہ حکومت میں شامل کسی شخص کو بھی غلط کام نہیں کرنے دے گا۔ میرے اراکین اسمبلی بدعنوانی کرنے کی ہمت نہیں کریں   گے۔ ‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ریاست کی مالی حالت خراب ہے اور وہ اس پر ایک وہائٹ پیپر جاری کروں گا تاکہ تاکہ شفافیت برقرار رہے اور ہم آگے بڑھ سکیں۔ ‘‘تقریر کے بعد وجے نے خود راہل گاندھی اور وہاں موجود لوگوں کے ساتھ سیلفی لی۔ وجے نے اپنے طرز عمل سے یہ پیغام دیا کہ وہ مختلف قسم کے لیڈر ہیں۔ ان کی انتخابی مہم بھی بالکل مختلف تھی۔ یاد رہے کہ پورے انتخابی عمل کے دوران انہوں نے کوئی انٹرویو نہیں دیا، یہاں تک کہ ایک ساؤنڈ بائٹ بھی نہیں دی۔ پوری انتخابی مہم سوشل میڈیا کی مدد سے چلائی گئی۔ 
 ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار سی جوزف وجے سے ٹیلی فون پر بات کی اور انہیں تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لینے پر مبارکباد دی۔ اس سے قبل دن میں وجے نے وزیر اعظم نریندر مودی کے تہنیتی پیغام پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ ریاست کی ترقی کیلئے مرکز کی فعال حمایت کے متمنی ہیں۔ وجے کی حلف برداری کوتمل ناڈو کی سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ حلف برداری کے فوراً بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے نئے وزیر اعلیٰ کیلئےنیک خواہشات کا اظہار کیا اور ایکس پر ایک پوسٹ میں انہیں  مبارک باد پیش کی ۔ 
’ٹی وی کے‘ سربراہ جوزف وجے چندشیکھر جنہیں   عرف عام میں  ’ تھلاپتی وِجے‘ کے طور پر جانا جاتا ہے، نے اتوار کو تمل ناڈو کے ۹؍ ویں   وزیراعلیٰ کے طور پر حلف لے لیا۔ حلف لیتے کے بعد انہوں  نے اسٹیج پر ہی تین اہم احکامات پر دستخط کرتے ہوئے اپنے ۳؍ انتخابی وعدے وفا کردیئے۔ انہوں   نے ماہانہ ۲۰۰؍ یونٹ مفت بجلی، خواتین کے تحفظ کیلئے علاحدہ فورس اور منشیات سےنمٹنے کیلئے ٹاسک فورس کی تشکیل کے احکامات پر اسٹیج پر ہی دستخط کئے اور تمل ناڈو میں’’حقیقی سکولرازم اور سماجی انصاف کا نیا دور‘‘شروع ہونے کا اعلان کیا۔ ان کے ساتھ ۹؍وزراء نے حلف لیا۔ راہل گاندھی اسٹیج پر دائیں  جانب ان کے بغل میں بیٹھے تھے۔ 
حلف برداری کے موقع پر وجے کچھ اس قدر پرجوش تھے کہ انہوں  نے اپنے حلف کو تقریر کی طرح جوشیلے انداز میں  پڑھنا شروع کردیا۔ جیسے ہی گورنر نے انہیں حلف دلانا شروع کیا، وجے نے طے شدہ متن سے ہٹ کر کہنا شروع کردیا کہ ’’ میں، سی جوزف وجے، ہندوستان کے آئین کے ساتھ وفادار رہوں گا.... تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے میں اپنی ذمہ داریاں ایمانداری اور لگن سے نبھاؤں گا۔ میں قانون کی حکمرانی پر عمل کروں گا، ایمانداری سے کام کروں گا، نفرت کو ختم کروں گا اور عوام کے تمام طبقات کیلئے دیانتداری سے کام کروں گا۔ میں خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ حلف لیتا ہوں۔ ‘‘
یہ کہتے ہوئے وجے نے خدا کے نام پر حلف لیتے وقت اپنا دائیں   ہاتھ کی مٹھی بھینچ کر اسے ہوا میں  لہرایا۔ اس پر وہاں  موجود ان کی پارٹی نومنتخب ایم ایل اے اے راج موہن جو وجے کے پیچھے کھڑے تھے، خوش ہو کر تالیاں بجانے لگے جبکہ پارٹی اسٹیڈیم میں  موجود کارکن بھی جوش میں آ گئے۔ گورنر نے مداخلت کی اور وجے سے کہا کہ انہیں دیئے گئے کاغذ میں  موجود حلف ہی پڑھنا ہے۔ اس پر وجے نے گورنر سے کچھ وضاحت طلب کی اور پھر تحریری حلف پڑھا۔ اسٹیج کے سامنے ان کے والدین، فلم ساز ایس اے چندر شیکھر اور شوبھا بیٹھے ہوئے تھے جو بیٹے کو وزیراعلیٰ بنتے ہوئے دیکھ کر جذباتی ہو گئے۔ دونوں  نے اپنے ہاتھ جوڑ رکھے تھے۔ 
وجے نے حلف لینے کے فوراً بعد تین اعلان کئے جن میں ماہانہ ۵۰۰؍ یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو۲۰۰؍ یونٹ مفت بجلی فراہم کرنا، خواتین کے تحفظ کیلئے فورس کا قیام اور منشیات کے خاتمے کے لیے اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس کو تشکیل دینا شامل تھا۔ حلف لینے اور بطور وزیراعلیٰ  پہلے سرکاری دستاویزات پر دستخط کے فوراً بعد وجے نے ذاتی طور پر اسٹیج سے ایک میز ہٹانے میں حکام کی مدد کی۔ انہوں نے گورنر، کانگریس لیڈر راہل گاندھی، اسٹیج پر موجود دیگر معزز شخصیات اور حاضرین کے ساتھ ایک گروپ سیلفی بھی خود لی۔ گریٹر چنئی کارپوریشن نے عوام کو تقریب دیکھنے کا موقع فراہم کرنے کیلئے شہر کے۲۰؍ سے زائد مقامات پر ایل ای ڈی اسکرین لگائے تھے جن پر وجے کی حلف برداری براہِ راست نشر کی گئی۔ حلف برداری اور مذکورہ بالا ۳؍ احکامات پر دستخط کے بعد تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ نے جواہر لال نہرو اسٹیڈیم میں موجود حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’’حقیقی، سیکولر اور سماجی انصاف کے ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔ ‘‘انہوں نے کہاکہ ’’چاہے عیسائی ہوں یا مسلمان، اقلیتی برادریوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، ہماری حکومت سب کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK