Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناسک ٹی سی ایس معاملے میں اب ’بلڈوزرایکشن‘کی تیاری!

Updated: May 11, 2026, 11:37 AM IST | Aurangabad

ندا خان کی گرفتاری کے بعد اب وہ مکان نشانہ پر ہے جس میں انہوں  نے کچھ دنوں  کیلئے پناہ لی تھی، انتظامیہ نے تعمیرات کو غیرقانونی قرار دیا۔

The house that has been declared illegal. Photo: INN
وہ مکان جسے غیرقانونی قراردیا گیا ہے۔ تصویر:آئی این این

ناسک کے ٹی سی ایس معاملے میں   ’بلڈوزر ایکشن‘ کارروائی کے آثار نظر آرہے ہیں۔ اس کیس کی خاتون ملزم ندا خان نے اورنگ آباد میں جس مکان میں عارضی قیام کیا تھا اسے غیرقانونی تعمیرات قرار دے کر منہدم کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ میونسپل انتظامیہ نے نوٹس جاری کرکے اس مکان کو غیر قانونی طریقے سے تعمیر کرنے کا جواز دیا ہے اور تین دنوں  کے اندر جواب نہ موصول ہونے پر انہدامی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔ 
مراٹھی روزنامے ’پرہار‘ کی خبر کے مطابق ٹی سی ایس معاملے کی ملزمہ ندا خان کو پناہ دینے کے الزام کے بعد ایم آئی ایم کے کارپوریٹر متین پٹیل کی مشکلات میں بڑا اضافہ ہو گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے اس معاملے میں متین پٹیل کو ملزم بنائے جانے کے بعد اب چھترپتی سمبھاجی نگر میونسپل کارپوریشن بھی جارحانہ انداز میں حرکت میں آ گئی ہے اور ان کے گھر سمیت دفتر کے خلاف کارروائی کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔ 
پرہار کی رپورٹ کے مطابق سمبھاجی نگر میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کی ابتدائی جانچ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ جس مکان میں ندا خان رہ رہی تھی، وہ غیر قانونی تجاوزات کرکے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد متعلقہ مکان کو نوٹس جاری کیا گیا ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ اگر تین دن کے اندر تسلی بخش وضاحت پیش نہ کی گئی تو کارروائی کرتے ہوئے عمارت کو منہدم کر دیا جائے گا۔ خاص بات یہ ہے کہ نارے گاؤں علاقے میں واقع متین پٹیل کے دوسرے رہائشی مکان اور ان کے دفتر کو بھی تجاوزات کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: مذہبی تعلیم دینے والے اداروں کیخلاف پٹیشن پر کل سپریم کورٹ میں شنوائی

انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ اس وقت مزید گرم ہو گیا جب تحقیقات میں کارپوریٹر متین پٹیل کا نام سامنے آیا۔ ابتدا میں کہا جا رہا تھا کہ نہری گاؤں علاقے میں واقع یہ مکان متین پٹیل کا ہے، لیکن بعد میں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مکان کے اصل مالکان حنیف خان اور سید سرور ہیں۔ دونوں نے یہ مکان تقریباً۲۳؍ لاکھ روپے میں خریدا تھا۔ مکان مالکان کا دعویٰ ہے کہ انہیں اس بات کی کوئی جانکاری نہیں تھی کہ وہاں رہنے والی خاتون ناسک مذہب تبدیلی کیس کی ملزمہ ندا خان ہے۔ ان کے مطابق، متین پٹیل نے بتایا تھا کہ ان کے کچھ مہمان چند دنوں کے لیے رکنے والے ہیں، اسی لیے مکان کرائے پر دلایا گیا۔ لیکن جیسے ہی پولیس جانچ میں یہ انکشاف ہوا کہ مفرور ندا خان کو یہیں پناہ دی گئی تھی، معاملہ پوری طرح بدل گیا۔ 
میونسپل کارپوریشن نے اب اس مکان کو غیر مجاز تعمیر قرار دیتے ہوئے نوٹس جاری کر دیا ہے۔ متین پٹیل کے دفتر کو بھی غیر قانونی تعمیر مانتے ہوئے وہاں بھی نوٹس چسپاں کیا گیا ہے۔ اس کے بعد سیاسی اور انتظامی حلقوں میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ 
خیال رہے کہ گرفتاری کے بعد ندا خان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے اسے۱۱؍ مئی تک پولیس تحویل میں بھیج دیا۔ سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ ندا خان حاملہ ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے اس کی والدہ کو دن میں دو بار ملاقات کی اجازت دی ہے۔ عدالتی حکم کے مطابق، اس کی والدہ روز صبح اور شام مقررہ وقت پر اس سے ملاقات کر سکیں گی۔ ساتھ ہی ضروری دوائیں دینے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ دوسری جانب ندا خان کے وکیل راہل کاسلیوال نے اس پر لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK