Updated: May 11, 2026, 11:38 AM IST
| Kolkata
سابق وزیر اعلیٰ نے پولیس اور بی جے پی پر رابندرجینتی تقریبات پر پابندی لگانے کا الزام لگایا، بی جے پی کیخلاف اپوزیشن سے متحد ہونے کی اپیل، للکارتے ہوئےکہا کہ ’’میں خود ایک وکیل ہوں، ہمارے پاس کلیان بنرجی جیسے کئی اور لیڈران ہیں جو یہ لڑائی لڑیں گے‘‘۔
ممتا بنرجی کولکاتا میں ایک تقریب کےدوران۔ تصویر: آئی این این
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے ہفتہ کے روز پولیس انتظامیہ اور بی جے پی پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ دیش بچاؤ گن تانترک منچ کی جانب سےرابندر جینتی منانے کیلئے منعقد پروگراموں کی اجازت نہیں دی گئی۔ اپنی کالی گھاٹ رہائش گاہ کے قریب منعقد ایک مختصر پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے تنظیم کورابندر جینتی کی تقریبات کے لیے مجوزہ تین مقامات پر جن میں کالی گھاٹ فائر اسٹیشن کراسنگ اور کالی گھاٹ موڑ شامل ہیں ، پروگرام منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا، ہم بچپن سےرابندر جینتی، گاندھی جینتی اور نیتاجی جینتی مناتے آ رہے ہیں۔ اب ایسے ثقافتی پروگراموں کیلئے بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ترنمول سربراہ نے دعویٰ کیا کہ سجاوٹ کرنے والوں اور سامان فراہم کرنے والوں کو بھی تقریب میں تعاون نہ کرنے کی وارننگ دی گئی جس کے باعث انہیں ایک چھوٹے کینوس میں پروگرام منعقد کرنا پڑا۔ واضح رہےکہ مذکورہ مقامات پر اجازت نہ ملنے کے سبب ممتا بنرجی نے پارٹی دفتر کے باہر رابندر ناتھ ٹیگور جینتی منانے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: بنگال میں بی جے پی کی پہلی حکومت قائم، بھگوا خیمہ سرشار
انہوں نے کہا کہ آج ہم نے خود دو چھوٹے اسٹیج خریدے کیونکہ ڈیکوریٹرز کو تعاون نہ کرنے کیلئے کہا گیا تھا۔ سابق وزیر اعلیٰ نے بی جے پی حامیوں پر الزام لگایا کہ وہ بنگال میں حالیہ سیاسی تبدیلی کے بعد ریاست بھر میں ترنمول کارکنوں اور حامیوں کے خلاف بے لگام دہشت پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ہر طرف لاقانونیت کا ماحول ہے۔ یہاں تک کہ میرے گھر میں کام کرنے والی درج فہرست ذات سے تعلق رکھنے والی گھریلو ملازمہ کی ۹۲؍ سالہ ماں کو بھی بی جے پی حمایت یافتہ شرپسندوں کے حملوں کے خوف سے دوسری جگہ منتقل کرنا پڑا۔ ممتا بنرجی نے مزید دعویٰ کیا کہ کئی علاقوں میں اسلحہ کے زور پر دھمکیاں دی جارہی ہیں اور تشدد ہو رہا ہے جبکہ پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ۲۰۱۱ء میں اقتدار کی تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے ممتا نے کہا کہ ترنمول کانگریس نے بائیں محاذ حکومت کو شکست دینے کے بعد کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی کی اجازت نہیں دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ۲۰۱۱ء میں اقتدار میں آنے کے بعد ہم نے اپنے سیاسی مخالفین کی سلامتی کو یقینی بنایا تھا۔ میں نے بدھا دیب بھٹاچاریہ کیلئے اپنی بلٹ پروف گاڑی بھی بھیجی تھی اور انہیں زیڈ پلس سیکوریٹی فراہم کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ریاست میں بی جے پی کے اقتدار سنبھالتے ہی ترنمول لیڈروں کو فراہم کردہ سیکوریٹی واپس لے لی گئی۔ انہوں نے کہا جس دن سے وہ جیتے ہیں، ہماری سیکوریٹی واپس لے لی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ندا خان کو عدالت سے انصاف ضرور ملے گا‘‘
ممتا بنرجی نے اس موقع پر بی جے پی کے خلاف ’سیاسی و اخلاقی جنگ‘ کا اعلان کرتے ہوئے تمام اپوزیشن پارٹیوں سے متحد ہونے کی اپیل کی۔ ممتا بنرجی نے الزام عائد کیا کہ مغربی بنگال میں ’دہشت کا راج‘ شروع ہو چکا ہے اور اس کے خلاف ان کی سیاسی اور اخلاقی لڑائی شروع ہو گئی ہے۔ ممتا نے کہا کہ ’’میں این جی اوز اور دیگر سماجی تنظیموں سے بھی اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس تحریک میں شامل ہوں۔ ‘‘بی جےپی کے خلاف جنگ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’میں خود ایک وکیل ہوں۔ ہمارے پاس کلیان بنرجی جیسے کئی اور لیڈران ہیں جو یہ لڑائی لڑیں گے۔ ہمیں معلوم ہے کہ لڑائی کیسے لڑی جاتی ہے۔ ‘‘ممتا بنرجی نے کہا کہ اپوزیشن کے تمام قومی لیڈران نے اُن سے رابطہ کیا ہے۔ سونیا گاندھی، راہل گاندھی، ملکارجن کھرگے، ادھو ٹھاکرے اور تیجسوی یادو سے اُن کی بات ہوئی ہے۔ اکھلیش یادو خود ان سے ملنے آئے تھے۔ ہیمنت سورین اور اروند کیجریوال سے بھی اُن کی بات چیت ہوئی ہے۔ کپل سبل اور ابھشیک منو سنگھوی نے بھی انہیں فون کیا ہے۔ پرشانت بھوشن اور مینکا گروسوامی بھی اس لڑائی میں ان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’میں خود ایک وکیل ہوں۔ ہمارے پاس کلیان بنرجی جیسے کئی اور لیڈران ہیں جو یہ لڑائی لڑیں گے۔ ‘‘