یاد آیا کہ کسی طالب علم کی نمایاں کامیابی پر اس کے ساتھ ہی اس کے اہل خانہ، اس کے عزیز و اقارب، اس کے اساتذہ، اس کے اسکول کا انتظامیہ، اس کے شہر، اس کی ریاست، یہاں تک کہ اس کی پوری قوم کے لوگ کس طرح اپنی خوشیوں کااظہار کرتے تھے۔
EPAPER
Updated: May 11, 2026, 10:50 AM IST | Qutbuddin Shahid | Mumbai
یاد آیا کہ کسی طالب علم کی نمایاں کامیابی پر اس کے ساتھ ہی اس کے اہل خانہ، اس کے عزیز و اقارب، اس کے اساتذہ، اس کے اسکول کا انتظامیہ، اس کے شہر، اس کی ریاست، یہاں تک کہ اس کی پوری قوم کے لوگ کس طرح اپنی خوشیوں کااظہار کرتے تھے۔
یاد آیا کہ کسی طالب علم کی نمایاں کامیابی پر اس کے ساتھ ہی اس کے اہل خانہ، اس کے عزیز و اقارب، اس کے اساتذہ، اس کے اسکول کا انتظامیہ، اس کے شہر، اس کی ریاست، یہاں تک کہ اس کی پوری قوم کے لوگ کس طرح اپنی خوشیوں کااظہار کرتے تھے۔ یاد آیا کہ کسی ایک کی کامیابی پر کس طرح دوسرے بھی جشن مناتے تھے اور کس طرح پورے شہر میں عید کا سماں ہوتا تھا۔ یہ بھی یاد آیا کہ ایک طالب علم کی کامیابی سے کس طرح دیگر طلبہ کو حوصلہ ملتا تھا اور اس سے کس طرح پورے شہر کو فائدہ پہنچتا تھا۔
۱۹۹۷ءکا ایک واقعہ یاد آیا۔ ایس ایس سی کے نتائج کا اعلان ہوا تھا۔ اُن دنوں طلبہ کو ن کے اسکولوں سے تین بجے رزلٹ دیئے جاتے تھے۔ آج کی طرح اُس وقت انٹرنیٹ کی سہولت ہر جگہ نہیں تھی۔ موبائل بھی عام نہیں ہوا تھا، اسلئے فوری طور پر مجموعی نتائج کا پتہ نہیں چلتا تھا کہ کس شہر میں کون ٹاپر ہے البتہ نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی ایک میرٹ لسٹ بھی جاری ہوتی تھی۔ اس میرٹ لسٹ میں ہر بورڈ کے ۱۰۰؍ ٹاپرس کے نام ہوتے تھے۔ نتائج کااعلان ہوتے ہی میرٹ لسٹ میں مسلم طلبہ کے نام تلاش کئے جاتے تھے۔ اُن دنوں میں انقلاب سے وابستہ نہیں ہوا تھا لیکن تب بھی کسی خبر کو جاننے یا کسی خبر کی تصدیق کیلئے محور و مرکز انقلاب ہی تھا۔ مغرب کا وقت رہا ہوگا، میرٹ لسٹ میں کتنے مسلم بچے ہیں، یہ جاننے کیلئے ’کوائن باکس‘ والے ٹیلی فون سے میں نے دفتر انقلاب کو فون کیا۔ کسی نے نہایت پُرجوش انداز میں جواب دیا کہ ’’مسلم بچہ مہاراشٹر کا ٹاپر ہے۔ ‘‘ اور فون کاٹ دیا۔ میں سامنے والے کے لہجے کو محسوس نہیں کرسکا، اسلئےمجھے لگا کہ انہوں نے میرے ساتھ مذاق کیا ہے یا پھرجھلاہٹ میں اس طرح کا جواب دیاہوگا کیونکہ تین بجے سے ان سے یہی سوال بہت سارے لوگ پوچھ چکے ہوں گے۔ ہمت کرکے ایک اور سکہ استعمال کیا اور اپنا سوال دہرایا۔ ایک بار پھر وہی جواب اور وہی لہجہ۔ میں نے تھوڑی سی تفصیل جاننی چاہی تو صرف اتنا بتایا گیا کہ تنویر منیار نام ہے اور شولا پور کا طالب علم ہے۔ میرے لئے اتنا کافی تھا۔ میرے ساتھ خالد عبدالقیوم اور ہاشم خان بھی تھے۔ اس خبر پر ہم پھولے نہیں سما رہے تھے۔ ہم تینوں ڈاکٹر ریحان انصاری کے مطب پر پہنچے اور انہیں خوش خبری سنائی۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے بھی دواخانہ بند کیا اور پھر ہم لوگوں نے جگہ جگہ دیواروں پراس خبر کو لکھ کر شہر میں خوشیاں تقسیم کرنے کی کوشش کی۔ صبح ’انقلاب‘ آیا تو شہر میں واقعی ایک انقلاب سا آگیا۔