احتیاط سےپانی استعمال کرنےکی اپیل، پائپ لائنوں کے ٹوٹ پھوٹ جانے سے خارج ہونے والےپانی کوضائع ہونے سے بچانےکیلئے نئے سسٹم کو متعارف کرایاجائے گا۔
EPAPER
Updated: October 11, 2026, 12:19 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
احتیاط سےپانی استعمال کرنےکی اپیل، پائپ لائنوں کے ٹوٹ پھوٹ جانے سے خارج ہونے والےپانی کوضائع ہونے سے بچانےکیلئے نئے سسٹم کو متعارف کرایاجائے گا۔
جہاں ایک طرف شہری انتظامیہ پانی کی قلت کے سبب احتیاط سے پانی استعمال کرنے کی اپیل کر رہا ہے، وہیں دوسری جانب پانی کی چوری اور اس کے غیر قانونی استعمال کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ پانی بچایا جاسکے۔ اس کے علاوہ پانی کے اخراج کی وجہ سے ضائع ہونے والے لاکھوں لیٹر پانی کو بچانے کیلئے ایک نئے اور اپ ڈیٹیڈ سسٹم کو متعارف کرانےکامنصوبہ ہے۔ اس سسٹم کی جانچ کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا کہ پانی کے اخراج کو روکنے کیلئے جو آلہ استعمال کیا جائے گا وہ موزوں ہے یا نہیں ۔ اس کے بعد اس آلہ کو خریدا جائے گا۔
خیال رہے کہ پائپوں کے ٹوٹ پھوٹ جانے سے پانی کااخراج ہوتاہے۔ ممبئی میں روزانہ اوسطاً ۳۰۰؍ سے ۳۵۰؍ ملین لیٹر پانی ضائع ہو رہا ہے، اس لئے محکمہ ہائیڈرولک انجینئرنگ پانی بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کیلئے ایک اپڈیٹیڈ سسٹم کی تلاش جاری ہے تاکہ پائپوں سے لیک ہونے پانی کا فوری طور پرپتہ لگاکر ان پائپوں کی مرمت کی جا سکے۔ ہائیڈرولک ڈپارٹمنٹ مارکیٹ میں ایسے جدید آلات تلاش کر ر ہاہے جن کی مدد سے زیر زمین پانی کے پائپوں میں زیادہ تیزی اور مؤثر طریقے سے خارج ہونے والے پانی کا پتہ لگایا جا سکے۔ میونسپل انجینئرز نے تقریباً ۵؍ سے ۶؍ کمپنیوں کے ساتھ بات چیت کی ہے جو لیک کا پتہ لگانے کے آلات تیار کرتی ہیں۔ ان کمپنیوں کے پاس دستیاب جدید ترین آلات کا مطالعہ کرنے کے بعد ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی جائے گی کہ یہ آلات لیکس کا پتہ لگانے میں کس حد تک کامیاب ہیں۔ محکمہ واٹر انجینئرنگ کے سینئر انجینئر نے کہا کہ اس کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا کہ کون سا آلہ خریدنا ہے؟
فی الحال اسکیننگ کے ذریعے لیکس کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے واٹر انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے پاس فی الحال پانی کے پائپوں سے پانی کے اخراج کا پتہ لگانے کیلئے ٹی ۱۰؍نامی آلہ ہے۔ یہ آلہ اخراج کے ممکنہ مقامات کی نشاندہی کرتاہے اور ضرورت کے مطابق وہاں کھدائی کی جاتی ہے۔ پانی کے پائپ کا ذاتی طور پر معائنہ کیا جاتا ہے اور اس کی مرمت کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ لیکیج کا پتہ لگانے کیلئے سی سی ٹی وی کیمرے کا استعمال کرتے ہوئے پانی کے پورے پائپ کو اسکین کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی رکاوٹ نہ ہو تو ایک وقت میں تقریباً ۱۰۰؍ میٹر پانی کے پائپ کو اسکین کیا جاتا ہے۔
زیر زمین پانی کے پائپوں سے خارج ہونےوالے پانی کو بچانےکیلئے نئے آلات کی تلاش
بی ایم سی ہائیڈرولک ڈپارٹمنٹ کے انجینئرمنگیش شیوالے سے اس بارےمیں استفار کرنے پر انہوں نے بتایا کہ ’’ریاست میں پائی جانے والی خشک سالی اور شہرومضافات میں پانی کی قلت کے سبب جہاں عوام سےاحتیاط برتنےکی اپیل کی گئی ہے وہیں پانی کے موجودہ ذخیرہ کو محتاط اندازمیں استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی پانی کے پائپ لائنوں سےخارج ہونے والے پانی کی شکایت ملنے پر اس پائپ لائن کی ترجیحی بنیاد پر مرمت کی جا رہی ہے تاکہ پانی کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔ ‘‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ ہم ایسی جدید ٹیکنالوجی اور جدید آلات کی تلاش میں ہیں جو زیر زمین پانی کے پائپوں سے خارج ہونے والے پانی کا پتہ لگا سکے۔ ہم نے تقریباً ۵؍ سے۶؍ کمپنیوں سے رابطہ کیا ہے جو لیک کا پتہ لگانے کے آلات تیار کرتی ہیں۔ ان کمپنیوں کے پاس دستیاب جدید ترین آلات کا مطالعہ کرنے کے بعدفیصلہ کیاجائے گاکہ کونسا آلہ خریدناہے۔ ‘‘
ابھی سے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ
ممبئی کو پانی فراہم کرنے والے آبی ذخائر میں پانی کی سطح میں کمی کے پس منظر میں ممبئی میونسپل کارپوریشن کی اپوزیشن لیڈر کیشور ی پیڈنیکر نے مطالبہ کیا ہے کہ’’ شہری انتظامہ سےپانی کی ممکنہ قلت سے نمٹنے کیلئے ابھی سے ٹھوس اقدامات کرے۔ اسی طرح پانی کے اخراج اور غیر قانونی استعمال کو روکنے، تعمیرات کیلئے پینے کے پانی کے استعمال کو کنٹرول کرنے، بند کنوؤں کو بحال کرنے اور پانی کے متبادل ذرائع کے استعمال کو بڑھانے پر توجہ دی جائے۔ ‘‘