• Sun, 11 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنیلی میں جعلی ڈاکٹر کیخلاف کے ڈی ایم سی کی جانب سے کیس درج

Updated: October 11, 2026, 12:23 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Titwala

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی) نے اپنے دائرہ اختیار میں عوام کی صحت اور زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے جعلی ڈاکٹروں کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی) نے اپنے دائرہ اختیار میں عوام کی صحت اور زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے جعلی ڈاکٹروں کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ صحت اور پولیس کے ایک مشترکہ آپریشن کے دوران مسلم اکثریتی بنیلی گاؤں میں غیر قانونی طبی پریکٹس کا پردہ فاش کرتے ہوئے ایک جعلی ڈاکٹر کے خلاف باقاعدہ فوجداری مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ 
کھڑک پاڑہ پولیس اسٹیشن نے اگست میں کے ڈی ایم سی کے محکمہ صحت کو ایک مکتوب ارسال کیا تھا جس میں مطلع کیا گیا تھا کہ ٹٹوالا کے بنیلی علاقے میں ایک جعلی معالج غیر قانونی طور پر مطب چلا رہا ہے۔ اس خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارپوریشن کے محکمہ صحت نے باقاعدہ منصوبہ بندی کی اور میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ترنالی مہاتیکر کی قیادت میں ایک تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی۔ اس ٹیم نے اچانک بنیلی امبیولی روڈ پر واقع پربھاگ نمبر ۱۱؍ کے آشیرواد کلینک اینڈ نیوٹریشن سینٹر پر چھاپہ مارا اور وہاں موجود ڈاکٹر شیو کمار سنگھ سے ان کی میڈیکل پریکٹس کی قانونی دستاویزات اور اسناد طلب کیں۔ معائنہ کے دوران ڈاکٹر سنگھ کے پاس سے ایراوت پیرامیڈیکل ایجوکیشن ادارے کی نیچروپیتھی سند، ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل یونیورسٹی کا ڈائیٹکس اینڈ ویٹ مینجمنٹ سرٹیفکیٹ اور آیوش میڈیکل ممبرشپ کے کاغذات برآمد ہوئے۔ سرکاری قوانین کے مطابق الیکٹرو ہومیوپیتھی اور نیچروپیتھی کو تسلیم شدہ طریقہ علاج نہیں مانا گیا ہے اور نہ ہی ان کورس کی بنیاد پر کسی منظور شدہ میڈیکل کونسل میں رجسٹریشن حاصل کی جا سکتی ہے جس کے باعث ان کی طبی پریکٹس سراسر غیر قانونی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: گھرگھر جاکربی ایل او کے دستاویزات حاصل نہ کرنے سے ووٹرس میں تذبذب

چھاپے کے دوران کئی سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے۔ جائے وقوعہ سے ڈاکٹر سنگھ کے نام کی مریضوں کی معائنہ پرچیاں، خون کے ٹیسٹ کی رپورٹ، نوی ممبئی کے بی ایچ ایم ایس اور ڈی این ڈبلیو ایم نام کی مہریں اور یہاں تک کہ انسویا مستری کے نام پر جاری کردہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی برآمد ہوا۔ مزید یہ کہ ان کی کوئی بھی ڈگری یا سند مہاراشٹر میڈیکل کونسل، مہاراشٹر کونسل آف انڈین میڈیسن یا مہاراشٹر ہومیوپیتھی کونسل سے رجسٹرڈ نہیں پائی گئی۔ عوام کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر دیپا شکلا اور ڈاکٹر ونود دونڈ کی رہنمائی میں ڈاکٹر ترنالی مہاتیکر نے ٹٹوالا پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت درج کروائی جس پر پولیس نے ڈاکٹر شیوکمار سنگھ کیخلاف متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کر کے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK