جیو فائنانس ایپ کے اکائونٹ میں اتنی بڑی رقم دیکھ کر وکاس کمار کے ہوش اڑ گئے، بینک لاعلم، فی الحال تفتیش جاری ہے کہ اتنی خطیر رقم کہاں سے آگئی۔
EPAPER
Updated: June 06, 2026, 9:51 AM IST | Patna
جیو فائنانس ایپ کے اکائونٹ میں اتنی بڑی رقم دیکھ کر وکاس کمار کے ہوش اڑ گئے، بینک لاعلم، فی الحال تفتیش جاری ہے کہ اتنی خطیر رقم کہاں سے آگئی۔
ڈیجیٹل بینکنگ کے دور میں بہار کے گیا جی سے ایک حیرت انگیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ بودھ گیا بلاک کے تحت آنے والے مست پورہ گاؤں کے ایک پلمبر وکاس کمار کے بینک اکاؤنٹ میں اچانک۲۹۴؍ کروڑ کا بیلنس ظاہر ہوا تو اس کے ہوش اڑ گئے۔ اب انہیں سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ آخر ان کے اکاؤنٹ میں اتنے سارے پیسے کہاں سے آ گئے۔ بینک اکاؤنٹ میں بھاری رقم موجود ہونے کی خبر ملنے کے بعد وکاس کمار نے بتایا کہ ان کا جیو پیمنٹس بینک کا اکاؤنٹ گزشتہ تقریباً ۵؍ سال سے ایکٹیو ہے۔ ۲؍ دن قبل جب انہوں نے جیو فنانس ایپ کے ذریعے بیلنس چیک کیا تو بینک کھاتے میں ۲؍ ارب ۹۴؍ کروڑ۸۰؍ لاکھ روپے موجود دکھائی دیے۔ پہلی بار بیلنس دیکھ کر انہیں لگا کہ شاید یہ کوئی تکنیکی خرابی ہے لیکن جمعرات(۴؍ جون) کی شام جب انہوں نے دوبارہ بیلنس چیک کیا تو اتنی ہی رقم نظر آئی۔ یہ دیکھنے کے بعد انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ وکاس کمار کا کہنا ہے کہ بینک اکاؤنٹ میں اتنی بڑی رقم کافی دیر تک دکھائی دینے کے بعد ان کی حیرت بہت بڑھ گئی۔
وکاس کمار نے بتایا کہ اکاؤنٹ کھلنے کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر ان کے اکائونٹ میں صرف ۶؍ سے ۷؍ لاکھ روپے تک کا لین دین ہوا ہوگا۔ ایسے میں اچانک اتنا بڑا بیلنس نظر آنا ان کے لئے انتہائی حیرت انگیز بات تھی۔ کسی ممکنہ بینکنگ غلطی یا تکنیکی خامی کے خدشے کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہوں نے اکاؤنٹ سے رقم نکالنے یا کسی قسم کا لین دین کرنے کی کوشش نہیں کی لیکن اس خبر کے پھیلتے ہی گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ بڑی تعداد میں لوگ وکاس کمار کے گھر ملاقات کرنے اور خبر کی صداقت جاننے کیلئے پہنچنے لگے۔ کوئی ان سے بیلنس دکھانے کی درخواست کر رہا ہے تو کوئی سوالات پر سوالات پوچھ رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ خبر تیزی سے وائرل ہونے لگی ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ اکاؤنٹ میں نظر آنے والی یہ رقم کسی تکنیکی خامی کا نتیجہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ ہے۔ اس معاملے میں فی الحال بینکنگ کی سطح پر جانچ جاری ہے۔ یادرہے کہ اس طرح کے واقعات ماضی میں بھی کئی بار سامنے آ چکے ہیں۔