سندیپ ریڈی وانگا کی فلم ’’اسپرٹ‘‘ ایک بار پھر خبروں میں ہے، جہاں کترینہ کیف کے ممکنہ کیمیو سے متعلق افواہوں نے مداحوں کی دلچسپی بڑھا دی ہے۔ دوسری جانب د پیکا پڈوکون کی فلم سے علاحدگی کے حوالے سے بھی نئے دعوے اور قیاس آرائیاں سامنے آ رہی ہیں۔
EPAPER
Updated: July 26, 2026, 7:49 PM IST | Mumbai
سندیپ ریڈی وانگا کی فلم ’’اسپرٹ‘‘ ایک بار پھر خبروں میں ہے، جہاں کترینہ کیف کے ممکنہ کیمیو سے متعلق افواہوں نے مداحوں کی دلچسپی بڑھا دی ہے۔ دوسری جانب د پیکا پڈوکون کی فلم سے علاحدگی کے حوالے سے بھی نئے دعوے اور قیاس آرائیاں سامنے آ رہی ہیں۔
سندیپ ریڈی وانگا کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’’اسپرٹ‘‘ کی شوٹنگ شروع ہونے کے بعد سے ہی یہ فلم سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والے آئندہ پراجیکٹس میں شمار کی جا رہی ہے۔ اگرچہ فلم سازوں نے اب تک اس منصوبے کی کئی تفصیلات خفیہ رکھی ہیں، تاہم، تازہ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فلم کی کاسٹ میں ایک اور بڑا نام شامل ہو سکتا ہے۔ دکن ہیرالڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق، کترینہ کیف کو پربھاس اور ترپتی ڈمری کی اس فلم میں ایک اہم مہمان کردار (کیمیو)کیلئے زیرِ غور لایا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ کردار اسکرین پر مختصر وقت کیلئے ہوگا، لیکن کہا جا رہا ہے کہ کہانی میں اس کی اہمیت کافی زیادہ ہوگی اور اگر یہ کاسٹنگ حتمی شکل اختیار کر لیتی ہے تو یہ فلم کا سب سے بڑا سرپرائز ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم، یہ تمام اطلاعات فی الحال صرف افواہیں ہیں۔ فلمی صنعت سے وابستہ ایک ذریعے نے اس رپورٹ کو’’مکمل طور پر غلط اور گمراہ کن‘‘ قرار دیا۔ اس ذریعے نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا، ’’کترینہ کیف کے مستقبل کے اداکاری کے منصوبوں سے متعلق کئےجانے والے دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں۔ یہ رپورٹ مکمل طور پر قیاس آرائیوں اور غلط معلومات پر مبنی ہے، جس کی کسی بھی سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: کچھ فلموں کی تشہیر کی، مگر دل سے نہیں چاہتا تھا کہ لوگ انہیں دیکھیں: ٹام ہالینڈ
اگر کترینہ کیف واقعی اس فلم کا حصہ بنتیں تو یہ تقریباً۲۰؍ سال بعد ان کی تیلگو سنیما میں واپسی ہوتی۔ وہ آخری بار تیلگو فلموں ’’ملیشوری‘‘ میں وینکٹیش کے ساتھ اور ’’الاری پیڈوگو‘‘ میں ننداموری بالاکرشنا کے ہمراہ نظر آئی تھیں۔ حالیہ برسوں میں کترینہ کیف نے بھی پیشہ ورانہ طور پر نسبتاً کم سرگرمی دکھائی ہے۔ وکی کوشل سے شادی کے بعد انہوں نے کم فلمیں سائن کیں، جبکہ ان کی حالیہ ریلیز باکس آفس پر توقعات کے مطابق کامیاب نہ ہو سکیں۔ انہوں نے ابھی تک کسی نئی بڑی فلم کا بھی اعلان نہیں کیا ہے۔ یہ نئی افواہیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب چند ہفتے قبل خبریں آئی تھیں کہ دپیکا پڈوکون اب ’’اسپرٹ‘‘ کا حصہ نہیں رہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق وہ پربھاس کے مدمقابل مرکزی کردار ادا کرنے والی تھیں اور’’کالکی۲۸۹۸؍اے ڈی‘‘ کے بعد دونوں ایک بار پھر ساتھ نظر آنے والے تھے، لیکن بعد میں رپورٹس سامنے آئیں کہ انہوں نے فلم چھوڑ دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دی اوڈیسی: میٹ ڈیمن کے ایکشن مناظر اسٹنٹ وومن نے کئے، ناظرین حیران
کترینہ کیف کا نام سامنے آنے سے پہلے بھی دپیکا پڈوکون کے فلم سے علاحدہ ہونے کی خبریں خاصی زیرِ بحث رہیں۔ اگرچہ فلم سازوں نے اس کی وجہ کبھی باضابطہ طور پر نہیں بتائی، تاہم نیوز ۱۸؍کی ایک خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ دپیکا نے تقریباً ۲۵؍ کروڑ روپے معاوضہ اور فلم کے منافع میں ۱۰؍ فیصد حصہ طلب کیا تھا۔ رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ دپیکانے روزانہ صرف آٹھ گھنٹے کام کرنے کی شرط رکھی، بڑے عملے (اینٹوریج) کے ساتھ سفر کیا، اور تیلگو زبان میں اپنے مکالموں کی ڈبنگ کرنے پر آمادہ نہیں تھیں، جس کے باعث پروڈکشن ٹیم اور ان کے درمیان تخلیقی اختلافات پیدا ہوئے۔ بعد ازاں یہ بھی رپورٹ کیا گیا کہ ان کی جگہ ترپتی ڈمری کو نسبتاً کم معاوضے پر فلم میں شامل کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’رامائن‘‘ میں کون سا اداکار کون سا کردار ادا کرے گا؟
ترقیات سے واقف ایک ذریعے نے کہا، ’’ایسا لگتا ہے کہ جان بوجھ کر ایک مخصوص بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اداکارہ کی امیج ٹیم ان کی جگہ کسی اور اداکارہ کو لئے جانے کی حقیقت کو قبول نہیں کر پا رہی اور اسی لئے ان کے فلم چھوڑنے کو’’ورک لائف بیلنس‘‘کا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ ‘‘ذرائع کے مطابق، اصل وجوہات زیادہ عملی نوعیت کی تھیں اور پیشہ ورانہ اختلافات سے متعلق تھیں۔ اس نے دعویٰ کیا، ’’اداکارہ نے تقریباً ۳۵؍دن کی شوٹنگ کیلئے ۲۵؍ کروڑ روپے، منافع میں ۱۰؍ فیصد حصہ، اپنے بڑے عملے کے اخراجات اور تیلگو زبان میں مکالمے ادا نہ کرنے جیسی شرائط رکھیں، جبکہ ہدایت کار اس معاملے پر سخت مؤقف رکھتے تھے۔ مزید یہ کہ فلم کی خفیہ کہانی کی تفصیلات مبینہ طور پر لیک ہو گئیں، جس سے پروڈیوسرز کو شدید تشویش لاحق ہوئی۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’دی اوڈیسی ‘‘ نے ویک اینڈ پر پھر رفتار پکڑ لی، ۹؍دن میں ہالی ووڈ فلم کی شاندار کمائی
ذریعے نے مزید کہا، ’’عام قیاس آرائیوں کے برعکس، روزانہ آٹھ گھنٹے سے کم شوٹنگ کا مطالبہ بنیادی مسئلہ نہیں تھا۔ فلم سازی میں کام کے اوقات لوکیشن، روشنی اور دیگر تکنیکی عوامل کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات دو گھنٹے میں منظر مکمل ہو جاتا ہے اور کبھی آٹھ گھنٹے بھی لگ سکتے ہیں۔ اصل اہمیت لچک، باہمی تعاون اور فن کے احترام کی ہوتی ہے۔ ‘‘اس نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’اس معاملے کو بنیاد بنا کر بہت سے لوگ حقائق جانے بغیر ورک لائف بیلنس پر تبصرے کر رہے ہیں، جبکہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ایسی شرائط سے پروڈکشن اور ہدایت کار کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ معاملہ صرف کام کے اوقات کا نہیں بلکہ غیر معمولی مطالبات، حالات کے مطابق خود کو نہ ڈھالنے اور غیر پیشہ ورانہ رویے کا ہے۔ ‘‘تاہم، نہ تو د پیکا پڈوکون اور نہ ہی فلم’’اسپرٹ‘‘ کے پروڈیوسرز یا سازندگان نے اب تک ان دعوؤں کی عوامی سطح پر تصدیق یا تردید کی ہے۔