ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ٹرمینل وَن بی کے شمالی حصے کو آئندہ سال جنوری سے مرحلہ وار بند کرکے منہدم کیا جائے گا۔ اس کے بعد اس حصے کی ازسرنو تعمیر کی جائے گی۔
EPAPER
Updated: October 04, 2026, 6:04 PM IST | Mumbai
ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ٹرمینل وَن بی کے شمالی حصے کو آئندہ سال جنوری سے مرحلہ وار بند کرکے منہدم کیا جائے گا۔ اس کے بعد اس حصے کی ازسرنو تعمیر کی جائے گی۔
ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ٹرمینل وَن بی کے شمالی حصے کو آئندہ سال جنوری سے مرحلہ وار بند کرکے منہدم کیا جائے گا۔ اس کے بعد اس حصے کی ازسرنو تعمیر کی جائے گی۔ ہوائی اڈے کی انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ پرانی عمارت سے وابستہ حفاظتی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ تعمیر نو کا پہلا مرحلہ ۲۰۲۷ء کے جنوری میں شروع ہوگا اور اس دوران کوشش کی جائے گی کہ مسافروں اور فضائی کمپنیوں کو کم سے کم دشواری کا سامنا کرنا پڑے۔
یہ بھی پڑھئے:ورلڈ کپ سے پہلے فیلڈنگ اور ڈیتھ اوورز میں گیندبازی بہتر کرنا ہوگی: گِل
ٹرمینل ایک بی کا شمالی حصہ ٹرمینل ایک کی گنجائش کا تقریباً ایک تہائی ہے اور اس حصے سے سالانہ تقریباً ۵۰؍ لاکھ مسافروں کی آمدورفت ہوتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق تعمیر نو کے دوران ممبئی ہوائی اڈے کی مجموعی مسافر آمدورفت کا تقریباً ۹ ؍فیصد عارضی طور پر متاثر ہوگا، جبکہ تقریباً ۹۱ ؍فیصد مسافروں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری رکھنے کا منصوبہ ہے۔ ہوائی اڈے کی انتظامیہ نے بتایا کہ ٹرمینل ایک کی پرانی عمارت سے متعلق حفاظتی خدشات کئی برس سے موجود تھے اور اس دوران عارضی حفاظتی اقدامات کے ذریعے کام جاری رکھا گیا۔ رواں سال اپریل میں ٹرمینل ایک میں پیش آنے والے آتش زدگی کے واقعہ کے بعد پرانی عمارت میں کام جاری رکھنے سے متعلق خطرات مزید نمایاں ہوئے۔ انتظامیہ کے مطابق اب نوی ممبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کی دستیابی نے پروازوں کو متبادل جگہ منتقل کرنے کا راستہ فراہم کر دیا ہے، جس کے باعث تعمیر نو کا کام مرحلہ وار شروع کرنا ممکن ہوا ہے۔
منصوبے کے تحت متاثرہ فضائی کمپنیوں کو اپنی پروازیں عارضی طور پر نوی ممبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے منتقل کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔ اس منتقلی کے عمل میں ہوائی اڈے کی انتظامیہ فضائی کمپنیوں کو ضروری تعاون فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ ممبئی ہوائی اڈے کے دوسرے ٹرمینل پر بھی پروازوں کی منتقلی کا انتظام کیا جا رہا ہے تاکہ ٹرمینل ایک کی تعمیر نو کے دوران فضائی سفر کا سلسلہ زیادہ سے زیادہ معمول کے مطابق برقرار رہے۔ تعمیر نو سے قبل پروازوں کی مرحلہ وار تنظیم نو کی جائے گی۔ منصوبے کے تحت نوی ممبئی ہوائی اڈے کی جانب بین الاقوامی پروازوں کی گنجائش کا ایک بڑا حصہ منتقل کیا جائے گا، جبکہ ٹرمینل ایک سے متعلق کچھ پروازیں ممبئی ہوائی اڈے کے دوسرے ٹرمینل منتقل کی جائیں گی۔ اس منتقلی کا مقصد جنوری ۲۰۲۷ء میں ٹرمینل ایک بی کے شمالی حصے کو بند کرنے سے پہلے فضائی کمپنیوں کو مناسب وقت فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’دِرِیشیَم ۳‘‘ نے دو دن میں ۱۰۰ ؍کروڑ روپے کا ہندسہ پار کرلیا
ازسرنو تعمیر مکمل ہونے کے بعد ٹرمینل ایک کی سالانہ مسافر گنجائش موجودہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ سے بڑھ کر دو کروڑ تک پہنچنے کی توقع ہے، یعنی گنجائش میں تقریباً ۳۳ ؍فیصد اضافہ ہوگا۔ انتظامیہ کے مطابق اس کے بعد پہلے سے موجود فضائی اوقات اور پروازوں کے لیے نئے مواقع بھی بحال کیے جائیں گے، جس سے مستقبل میں ممبئی ہوائی اڈے پر زیادہ فضائی آمدورفت سنبھالنے میں مدد ملے گی۔
نوی ممبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کو اس منتقلی میں اہم متبادل کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ وہاں نئی بین الاقوامی پروازوں کے لیے اترنے کی فیس میں مکمل رعایت دینے کی پیشکش بھی کی گئی ہے، جبکہ بین الاقوامی مسافروں کو ممبئی اور نوی ممبئی ہوائی اڈوں کے مسافر ترقیاتی فیس کے فرق کو کم کرنے کے لیے نقد رعایتی رقم دینے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ ہوائی اڈے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مرحلہ وار تعمیر نو کا مقصد پورے ٹرمینل کو ایک ساتھ بند کرنے سے پیدا ہونے والی بڑی رکاوٹ سے بچنا ہے۔ ممبئی اور نوی ممبئی کے دونوں ہوائی اڈوں کو باہم معاون مراکز کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ممبئی کے وسیع شہری علاقے میں بڑھتی ہوئی فضائی آمدورفت کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی جائے گی۔