• Sun, 04 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غریب نگر کے۴۰۰؍ جھوپڑا واسیوں کا معاملہ ہنوز معلق

Updated: October 04, 2026, 6:33 PM IST | Saeed Ahmad Khan | Mumbai

۱۰۰؍جھوپڑے والوں کوعدالت کےحکم پر کرلا میں ۲؍ مقامات پرمکانات الاٹ کئے گئے مگر ان عمارتوں میں بجلی ،لفٹ، پانی اورصاف صفائی کا فقدان ہے۔

Residents of Garib Nagar have been allotted homes in the same building adjacent to the Kurla Bunter Bhavan Galaxy. — Photo: INN
کرلا بنٹر بھون گلیکسی سے متصل اسی عمارت میں غریب نگر والوں کو مکانات دئیے گئے ہیں۔۔ تصویر: آئی این این
باندرہ : باندرہ غریب نگر میں تقریباً ۵؍ ماہ قبل اجاڑے گئے ۴۰۰؍مکینوں کی بازآبادکاری ہنوز معلّق ہے۔یہ متاثرین اپنے طور پرکوشاں ہیں،مسلسل  بھاگ دوڑ کررہے ہیں لیکن اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے ۔ دوسری جانب غریب نگر کے ہی قانونی قرار دیئے گئے ۱۰۰؍ جھوپڑا واسیوں کو عدالت کے حکم پر ایم ایم آر ڈی اے کی جانب سے کرلا میں ۲؍ الگ الگ مقامات پر مکان الاٹ کردیئے گئے ہیں اور بیشتر کو چابیاں بھی دے دی گئی ہیں۔ یہ مکانات کرلا (ویسٹ) پریمیئر میں واقع مہاڈا کی عمارت میں ۱۶؍ مکینوں کو دیئے گئے جبکہ بنٹر بھون گلیکسی اپارٹمنٹ کے قریب میں ۸۴؍ مکینوں کو مکان دیا گیا ہےمگر یہاں پانی اوربجلی وغیرہ کا مسئلہ ہے۔
 
 
بلڈنگ میں کئی طرح کے مسائل ہیں 
غریب نگر کےقانونی قرار دیئے گئے مکینوں سے بات چیت کرنے پر انہوں نے نمائندۂ انقلاب کو جو کچھ بتایا اسے ذیل میںدرج کیا جارہا ہے۔مکان پانے والے محبوب سید نےبتایا کہ’’ اتفاق ہے کہ آپ جس وقت مجھ سے بات چیت کررہے ہیں، میں بنٹر بھون کے پاس اسی عمارت میں ہوں جہاںمجھے مکان الاٹ کیا گیا ہے مگر یہاں ابھی بجلی اور پانی وغیرہ نہیں ہے۔ابھی مکان دیکھنے آیا تھا،منتقل ہونے کے بعد مکمل اندازہ ہوگاکہ کس طرح کے حالات ہیں۔‘‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’’۴۰۰؍ اجاڑے گئے دیگر مکینوں کے معاملے میں کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ان کے حق رائے دہی کا مسئلہ بھی حل نہیں ہوا ہے۔ ‘‘
بنٹربھون کے پاس مکان پانے والے رمضان شیخ نے بتایاکہ’’ مکان کی چابی مل گئی ہے مگرپانی،لفٹ اوربجلی کا مسئلہ ہے۔ کسی کو دسویں منزل پر تو کسی کو ۱۲؍ ویں منزل پر مکان دیا گیا ہے، بغیرلفٹ درست کئے لوگ کیسے جائیں گے۔ ‘‘ انہوں نےیہ بھی بتایاکہ’’ ہم لوگوں کے کیس کی پیروی کرنےوالی سوسائٹی کی جانب سے کہا گیا ہےکہ ’’غریب نگرمیں موجود اپنا جھوپڑا ۶؍ اکتوبر تک خالی کردیجئے مگرریلوے کی جانب سے ابھی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے ،ویسے بھی جب تک نئی رہائش گاہ میںبجلی،پانی اورلفٹ کا انتظام نہ ہوجائے،  وہاں کیسے رہا جائے گا؟ ‘‘ 
رمضان شیخ نے یہ بھی بتایاکہ’’ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ۲۵؍مکینو ںکے تعلق سے لوکل باڈی کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ان کے کا غذات دیکھ کر رہائش کا نظم کرائے مگرا ن کے لئے بھی کچھ نہیںہوا ہے حالانکہ ذیشان باباصدیقی نے بھی ہاؤس میںاس تعلق سے آواز بلند کی تھی جبکہ دیگر ۴۰۰؍ مکینوں کا معاملہ تو معلّق ہے ہی ، محض ۱۰۰؍ مکینوں کی ہی بازآبادکاری کی گئی ہے۔ اس لئے اس جانب بھی توجہ دی جائے ۔‘‘عبدالقدیر شیخ نے بتایاکہ’’ ۴۰۰؍ مکینوں کے تعلق سے کوشش کی جارہی ہے لیکن ایک بڑامسئلہ  یہ ہے کہ وہ بے گھر کئےجانے کے بعد سے نامعلو م کن کن مقامات پررہ رہے ہیں، ان سے رابطہ بھی آسان نہیں ہے۔ ویسے اس کیس کی پیروی کرنے والے سلیم  بھائی کے صاحبزادے اس تعلق سے کوشاں ہیں۔‘‘
 
 
عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی تیاری
متاثر ہونے والے غریب نگر کے مکینوں کی بازآبادکاری اور ان کے ووٹ کے حق کےلئے مدد کرنے والی تنظیم اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کے جنرل سیکریٹری شاکر شیخ نے انقلاب کو بتایا کہ ’’ ان مکینوں کے حق کی لڑائی کے لئے اب عدالت سے رجوع کرنے کی تیاری آخری مرحلے میں ہے، جلد ہی پٹیشن داخل کردی جائے گی ۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK