مہاراشٹر ،دہلی ، ہریانہ، آندھرا، جھارکھنڈ اور ناگا لینڈ میں ’غیر حاضر، منتقل، فوت اور دو جگہ اندراج ‘قرار دیئے گئے افراد کی شمولیت کا حکم۔
EPAPER
Updated: November 07, 2026, 1:31 PM IST | Agency | New Delhi
مہاراشٹر ،دہلی ، ہریانہ، آندھرا، جھارکھنڈ اور ناگا لینڈ میں ’غیر حاضر، منتقل، فوت اور دو جگہ اندراج ‘قرار دیئے گئے افراد کی شمولیت کا حکم۔
ایس آئی آر کے دوران کروڑوں ووٹرس کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کے الزامات میں گھرے الیکشن کمیشن آف انڈیا نےناقدین کو خاموش کرنے کیلئے ۷؍ ریاستوں میں چھوٹ گئے ووٹرس کو شامل کرنےکیلئے ایک اور موقع دینے کافیصلہ کیا ہے۔
’اے ایس ڈی ڈی‘لسٹ کے ووٹرس
الیکشن کمیشن نے ایک خط کے ذریعہ دہلی، مہاراشٹر، ہریانہ، آندھرا پردیش، جھارکھنڈ، تلنگانہ اور ناگالینڈ کے چیف الیکٹورل افسران کو ہدایت دی ہے کہ ’’ غیر حاضر، منتقل، فوت اور دوہرے اندراج والے ‘‘(اے ایس ڈی ڈی) کے زمرہ میں شامل کئے جانے کی بنا پر جن ووٹرس کے نام ایس آئی آر مہم کے دوران’’ڈراف ووٹرس لسٹ‘‘ شامل نہیں ہو سکے تھے، ان کے نام حتمی ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کیلئےضروری اقدامات کریں۔
کن ووٹرس پر اطلاق ہوگا؟
اس فیصلے کا اطلاق ان ووٹرس پر ہوگا جنہیں ایس آئی آر کے پہلے مرحلے میں ووٹر تفصیلات کی تصدیق کیلئے فارم جاری کئے گئے تھے لیکن ان کی جانب سے بھرے ہوئے فارم موصول نہیں ہوئے جس کے نتیجے میں ان کے نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے خارج ہوگئے۔اپوزیشن کاالزام ہے کہ الیکشن کمیشن نے بی جے پی کے اشارے پر کروڑوں اہل شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کئے ہیں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے اس نظرثانی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے بھی اس عمل کی توثیق کی ہے۔
پولنگ اسٹیشنوں پر فہرست
چھوٹ جانے والے ووٹروں کو دوبارہ شامل کرنے کیلئےہر پولنگ بوتھ کے لحاظ سے ایسے ووٹروں کی فہرستیں تیار کی جائیں گی۔ ان پر نام خارج ہونے کی ممکنہ وجوہات بھی درج ہوں گی۔ یہ فہرستیں پولنگ اسٹیشنوں اور مقررہ مقامی سرکاری دفاتر میں آویزاں کی جائیں گی۔
متعلقہ چیف الیکٹورل افسران کی ویب سائٹوں پر بھی انہیں اَپ لوڈ کیا جائے گا۔ کمیشن نے افسران کو ہدایت دی ہے کہ ایسے ووٹروں کو نئے تصدیقی فارم فراہم کئے جائیں اور بوتھ لیول افسران (بی ایل اوز) کے ذریعے ان سے رابطہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ اس کیلئے گھر گھر دورے کرنے کے علاوہ واٹس ایپ، ای میل اور ایس ایم ایس کا بھی استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
منتقلی پر فارم ۸؍ بھرنے کی ضرورت نہیں
جن ووٹرس نے اپنی رہائش تبدیل نہیں کی ہے وہ بھرے ہوئے تصدیقی فارم کے ساتھ ایک تحریری وضاحت جمع کرا سکتے ہیں کہ وہ پہلے یہ فارم کیوں نہیں دے سکے تھے۔ اندرونِ ریاست ہی کسی اور جگہ منتقل ہونے والے ووٹرس کو پتے کی تبدیلی کیلئے فارم۸؍جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم انہیں تصدیقی فارم کے ساتھ اپنے نئے پتے اور اسمبلی حلقے کی تفصیلات پر مشتمل بیان اور پتے کا ثبوت دینا ہوگا۔
طریقہ کار کیا ہوگا؟
۱۔ بوتھ وار فہرستیں تیار کرکے پولنگ اسٹیشنوں اور سرکاری دفاتر میں آویزاں کی جائیں گی۔ ان میں نام خارج ہونے کی وجہ بھی ہوگی ۔
۲۔ یہ فہرستیں چیف الیکٹورل افسران کی ویب سائٹوں پر بھی اپ لوڈ کی جائیں گی۔
۳۔ بی ایل اوز ایسے ووٹروں سے گھر گھر جاکر رابطہ کریں گے۔ واٹس ایپ، ای میل اور ایس ایم ایس کے ذریعے بھی اطلاع دی جائے گی۔
۴۔ انہیں نئے فارم دیئے جائیں گے۔
۵۔ ووٹرس کو مکمل بھرا ہوا فارم جمع کرنا ہوگا۔
۶۔ یہ بھی بتانا ہوگا کہ پہلے فارم کیوں نہیں بھرا۔
۷۔ اندرونِ ریاست رہائش بدلنے پر فارم ۸؍ کی ضرورت نہیں صرف فارم پر پتہ بدلنا ہوگا۔