آج سےانڈیا اتحادکی ملک گیر مہم، جمہوریت بچائو مارچ ، ڈی کے شیو کمارکا کمیشن کے دفتر پر احتجاج۔ آج ہی کاکروچ جنتا پارٹی شیواجی پارک ممبئی میں جیل بھروآندولن کریگی،تیاریاں مکمل۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 10:47 AM IST | Agency
آج سےانڈیا اتحادکی ملک گیر مہم، جمہوریت بچائو مارچ ، ڈی کے شیو کمارکا کمیشن کے دفتر پر احتجاج۔ آج ہی کاکروچ جنتا پارٹی شیواجی پارک ممبئی میں جیل بھروآندولن کریگی،تیاریاں مکمل۔
انڈیا اتحادالیکشن کمیشن کی من مانی اور ملک میں جاری ایس آئی آر کے خلاف کمر کستے ہوئے جس احتجاج کا اعلان کیا ہے اس کا پہلا مرحلہ آج سے پورے ملک میں شروع ہو جائے گا۔ اس کے تحت دہلی اور ممبئی سمیت کئی شہروں میں جمہوریت بچائو مارچ نکالا جائے گی۔ کانگریس پارٹی نے اس مارچ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں سے شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔ یہ مارچ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس میں اپوزیشن کے اتحاد کا بھرپور مظاہرہ ہو گا۔
یہ بھی پڑھئے: مکہ: مسجد الحرام میں خودکش بمبار کی افواہ، سیکوریٹی حکام نے تردید کی
دریں اثناءکرناٹک حکومت نے ریاست میں جاری ایس آئی آر کے دوران انتخابی فہرستوں سے ووٹروں کے نام حذف کرنے کیلئے فارم - ۷؍کی بڑی تعداد میں درخواستیں جمع کرائے جانے کے معاملہ پر بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔ کرناٹک کے وزیراعلیٰ ڈی کےشیو کمار نے بنگلور میں ایک پریس کانفرنس میں بالکل واضح انداز میں کہاکہ وہ اپنی کابینہ کے ساتھیوں کے ساتھ چیف الیکٹورل آفیسر وی انبو کمار کے دفتر میں اس وقت تک بیٹھے رہیں گے، جب تک اس معاملہ کی تحقیقات کا حکم نہیں دیا جاتا۔ وزیراعلیٰ نے یہیں دھرنا شروع کردیا ہے۔ واضح رہے کہ شیو کمار نے فارم-۷؍ کی ایسی درخواستیں بھی پیش کیں جن میں ووٹروں کے نام پہلے ہی درج تھے اور ان کے نام انتخابی فہرست سے حذف کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ درخواستیں بی جے پی کے لیڈروں اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں جمع کرائی ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اقلیتی، ایس سی اور ایس ٹی برادریوں سے تعلق رکھنے والے اہل ووٹروں کے نام حذف کرنے کی یہ ایک بڑی مجرمانہ سازش ہے۔شیو کمار نے کہا ہماری معلومات کے مطابق کم از کم۵۰؍ لاکھ فارم-۷؍ پرنٹ کئےگئے ہیں۔ اس کے خلاف ہم میدان میں اتر گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: زیادہ اسکرین ٹائم کے سبب بچوں کی نشوونما متاثر: تحقیق
ابھیجیت دپکے اور ان کی ٹیم نے پریس کانفرنس میں اپنے ارادے بالکل واضح کردئیے ہیں۔(فائل فوٹو)
کاکروچ جنتا پارٹی نےجمعہ(۲؍اکتوبر) کو ممبئی کے شیواجی پارک میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئےسی جے پی ممبئی میں احتجاج کرنے جا رہی ہے۔ اگرچہ ممبئی پولیس نے ابھی تک احتجاج کی اجازت نہیں دی ہے لیکن سی جے پی نے شام ۴؍بجے گیٹ نمبر ۶؍ پر لوگوں سے اکٹھا ہونے کی اپیل کی ہے۔سی جے پی کے کنوینر ابھیجیت دِپکے، شریک کنوینر آشوتوش رانکا، اور سورو داس بھی ممبئی پہنچ چکے ہیں۔کاکروچ جنتا پارٹی کے قومی کنوینر ابھیجیت دِپکے نے ممبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید تین مطالبات کا اعادہ کیا ہے۔چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کی مانگ کو لے کر ’’ممبئی چلو‘‘ کی اپیل کرنے والے دِپکے نے کہا کہ ایس آئی آر کو رد کیا جانا چاہئے۔ ساتھ ہی سابقہ ووٹر لسٹ کو ہی منظوری دی جائے۔دپکے نے طنز کیاکہ ایس آئی آر پر مبنی ووٹر لسٹ کی بنیاد پر الیکشن ہواتووزیر اعظم مودی امریکہ میں بھی الیکشن جیت سکتے ہیں۔ انہوں نے گیانیش کمار کے خلاف مجرمانہ کیس درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ابھیجیت دپکے نے ممبئی کے پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطابمیں کہا کہگیانیش کمار سی ای سی کہلانے کے لائق نہیں ہیں۔وہ ملک کے سب سے بڑے غدار ہیں۔ان کے استعفیٰ کے لئے کل سے ہماری ملک گیر تحریک شروع ہوگی۔میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں کیوں کہ یہ تحریک ملک کی جمہوریت کو بچانے کے لئے ہے۔
سی جے پی کا احتجاج کیوں اہم ہے ؟
کاکروچ جنتا پارٹی نے چند ماہ قبل ہی اپنے احتجاج کے ذریعے مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا تھا۔اسی وجہ سے سی جے پی کے میدان میں اترنے سے حکومت میں کافی گھبراہٹ ہے کیوں کہ سی جے پی کے ساتھ جین زی کی بہت بڑی تعداد میدان میں آجاتی ہے۔ ساتھ سوشل میڈیا پربھی احتجاج کے ویڈیوز کا سیلاب آجاتا ہے جس سےحکومت کا بیانیہ کہیں ٹک نہیں پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ حکومت نے سی جے پی کو احتجاج کی ہی اجازت نہیں دی ہے لیکن پارٹی بھی احتجاج اور جیل بھروآندولن کے لئےبضد ہے۔