• Thu, 01 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی سے تیار کردہ خلاصے انسانی یادداشت میں تحریف کا سبب بن سکتے ہیں: تحقیق میں انکشاف

Updated: October 01, 2026, 10:05 PM IST | Washington

یونیورسٹی آف واشنگٹن کی پی ایچ ڈی طالبہ اور اس تحقیق میں اہم کردار ادا کرنے والی محقق یاعل ایگر نے بتایا کہ ”اے آئی کی ترقی کے اس مرحلے پر بھی، میں اس بات سے حیران رہ گئی کہ یہ خلاصے کتنے ناقص تھے۔“ ایگر نے متنبہ کیا کہ ان نتائج کے حقیقی دنیا میں سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ ”پولیس محکمے سخت جانچ پڑتال کے بغیر اور اس شعور کے بغیر کہ اے آئی کے تیار کردہ خلاصے کس حد تک غلط ہو سکتے ہیں، ویڈیو سمرائزیشن ٹیکنالوجیز کا استعمال کر سکتے ہیں۔“

Photo: X
تصویر: ایکس

جارج ٹاؤن یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف واشنگٹن کی مشترکہ طور پر جائزہ شدہ ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خبروں کے مضامین اور ویڈیوز کے اے آئی سے تیار کردہ خلاصے لوگوں کی یادداشت کو مسخ کرسکتے ہیں۔ اے آئی ٹولز اکثر اہم تفصیلات کو نظر انداز کرکے یا واقعات کا غلط خلاصہ پیش کرکے ایسا کر سکتے ہیں۔

”اے آئی کے ذریعے انسانی یادداشت میں تحریف“ (AI-Enabled Human Memory Manipulation) کے عنوان سے شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، تمام آزمائے گئے پرامپٹس اور ماڈلز کے تیار کردہ خلاصوں میں بنیادی تفصیلات کا اوسطاً ۶ء۵۱ فیصد حصہ حذف کر دیا گیا تھا۔ تحقیق میں دیکھا گیا کہ اے آئی ماڈلز خاص طور پر اس وقت غلط ثابت ہوئے جب وہ ایک اینیمیٹڈ ویڈیو کی تفصیل بیان کر رہے تھے جس میں ایک کار اور پیدل چلنے والے کے درمیان حادثے کو دکھایا گیا تھا، ان کے جواب نے شرکاء کی واقعے سے متعلق یادداشت کو نمایاں طور پر متاثر کیا۔ محققین نے پایا کہ درست خلاصہ پڑھنے والے ۶ء۸۳ فیصد شرکاء نے بعد میں پوچھے گئے سوالات کے درست جوابات دیئے، جبکہ گمراہ کن خلاصہ پڑھنے والوں میں یہ شرح صرف ۸ء۴۴ فیصد رہی۔ اس تحقیق کے دوران اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی اور گوگل کے جیمینائی کا تجربہ کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی ایک ارب اموات کا سبب بننے والے واقعات کو جنم دے سکتی ہے: بل گیٹس

یونیورسٹی آف واشنگٹن کی پی ایچ ڈی طالبہ اور اس تحقیق میں اہم کردار ادا کرنے والی محقق یاعل ایگر نے بتایا کہ ”اے آئی کی ترقی کے اس مرحلے پر بھی، میں اس بات سے حیران رہ گئی کہ یہ خلاصے کتنے ناقص تھے۔“ ایگر نے متنبہ کیا کہ ان نتائج کے حقیقی دنیا میں سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ ”پولیس محکمے سخت جانچ پڑتال کے بغیر اور اس شعور کے بغیر کہ اے آئی کے تیار کردہ خلاصے کس حد تک غلط ہو سکتے ہیں، ویڈیو سمرائزیشن ٹیکنالوجیز کا استعمال کر سکتے ہیں۔“

جارج ٹاؤن میں اسسٹنٹ ریسرچ پروفیسر میٹیا سم نے کہا کہ ان نتائج نے یہ فیصلہ کرنے میں آپ کی رہنمائی کرنی چاہئے کہ کب اے آئی کے خلاصوں سے مکمل طور پر گریز کیا جانا چاہئے۔ سم نے کہا کہ ”اے آئی غلط معلومات پھیلانے کا نیا ذریعہ ہے اور یہ ان معلومات کو پڑھنے والے لوگوں کے ذہنوں میں غلط یادیں پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ اس تحقیق کے بعد ”انتہائی حساس اور نازک شعبوں“ میں اے آئی کے استعمال کی مزید گہرائی سے جانچ پڑتال ہونی چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: چین میں لوگ اپنے چہرے، ۱۵ ہزار ڈالر تک کے عوض اے آئی کو کرائے پر دے رہے ہیں

یہ تحقیق اکتوبر میں سویڈن میں ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف اے آئی کی زیرِ اہتمام منعقدہ ایک اے آئی، اخلاقیات اور سوسائٹی کانفرنس میں پیش کی جائے گی۔ جارج ٹاؤن میں کمپیوٹر سائنس، اخلاقیات اور سوسائٹی کے چیئرمین یوشی کوہنو نے کہا کہ یہ تحقیق اے آئی اور انسانوں کے باہمی تعلق کا جائزہ لینے کی ایک وسیع تر کوشش کا حصہ ہے، جو نفسیات اور کمپیوٹر سائنس دونوں پر مبنی ہے۔ یہ تحقیقی نتائج غلط معلومات، ملازمتوں کے خاتمے اور ماحولیاتی اثرات میں اے آئی کے کردار پر بڑھتی ہوئی عوامی تشویش کے دوران سامنے آئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK