اقوام متحدہ کی ایک انکوائری ٹیم کورونا وائرس کی تحقیق کیلئے جلد ہی چین جائے گی

Updated: July 02, 2020, 10:56 AM IST | Agency | Geneva

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈنہم کا اعلان۔ فی الحال ٹیم کے اراکین اور تحقیقات کے خطوط سے متعلق کوئی تفصیل نہیں، البتہ اگلے ہفتے ٹیم بیجنگ روانہ ہو سکتی ہے

Health Worker - Pic : PTI
ہیلتھ ورکر ۔ تصویر : پی ٹی آئی

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ کچھ  دنوں میں ایک تحقیقاتی ٹیم چین بھیجے گا تاکہ کورونا وائرس  کے تعلق سے صحیح معلومات حاصل کی جا سکیں۔ یہ پیش رفت امریکہ کی جانب سے شدید تنقید اور یورپی ممالک کی جانب سے کورونا وائرس کی اصل کے بارے میں تحقیق کی ضرورت پر مسلسل زور دینے  کے بعد سامنے آئی ہے۔ واضح رہے کہ اس وبا نے دنیا بھر میں اب تک ۵؍ لاکھ سے زیادہ انسانوں کو نگل لیا ہے۔
 عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈنہم نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ عالمی ادارہ آئندہ ہفتے ایک ٹیم چین بھیجے گا تا کہ کوروونا وائرس کی وبا کی اصل کے حوالے سے تحقیق کی جا سکے۔امریکی انتظامیہ اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کئی ماہ سے عالمی ادارۂ صحت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کر رہے تھے ۔ ساتھ ہی ادارے پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ چین کے حوالے سے جانب داری کا مظاہر کر رہا ہے۔ٹرمپ نے عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے کاکردگی میں مطلوبہ بنیادی اصلاحات نہ کئے جانے پر گزشتہ ماہ ادارے کیلئے اپنے ملک کی جانب سے مالی معاونت کا سلسلہ روک دینے کا اعلان کیا تھا۔
 ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے اعلیٰ ٰذمے داران بیجنگ پر الزام عائد کرتے آئے ہیں کہ اس نے کورونا وائرس کے حوالے سے معلومات پر پردہ ڈالا اور اس وبا کے ساتھ نمٹنے میں شفافیت کا مظاہرہ نہیں کیا۔  حالانکہ چین نے امریکہ کی جانب عائد ہر الزام کو بے بنیاد بتایا ہے۔ ساتھ ہی ڈبلیو ایچ او نے بھی  امریکی الزامات  سے اتفاق نہیں کیا ہے ۔ اس کے باوجود   تحقیقات  کیلئے ٹیم بھیجنا کسی حد تک حیران کن بھی ہے۔
 اقوام متحدہ میں ہنگامی پروگرام کے ڈائریکٹر مائیک ریون نےایک روز قبل دئیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ’’ اگرچہ کئی ممالک نے عالمی سطح پر کووڈ ۱۹؍کے خلاف پیش رفت کو یقینی بنایا ہے  اس کے باوجود یہ وبا اپنے اختتام کے قریب نہیں آئی ہے بلکہ اس میں شدت آ رہی ہے۔‘‘ فی الحال یہ نہیں معلوم ہو سکا ہے کہ اقوام متحدہ کی ٹیم چین جا کر بنیادی طور پر کن خطوط پر تحقیق کرے گی۔ آیا وہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گی کہ کورونا وائرس کس طرح پیدا ہوا اور  دیگر مقامات پر کیسے پھیلا ، یا پھر وہ اس بات کا پتہ لگائے گی کہ اس کو پھیلانے میں خود چین کا کتنا ہاتھ ہے؟ واضح رہے کہ امریکی صدر چین پر یہاں تک الزام لگا چکے ہیں کہ بیجنگ دیگر ممالک کی معیشت کو تباہ کرنے کی غرض سے  اس وبا  کو پھیلایا ہے۔  اس الزام کی اہم وجہ یہ تھی کہ چین میں یہ وائرس سب سے پھیلا تھا لیکن سب سے پہلے وہیں اس پر قابو بھی پایا گیا۔  اس کے بعد دیگر ممالک میں کورونا کے جتنے مریض پائے گئے چین میں اس کے مقابلے انتہائی کم  لوگ متاثر ہوئے ۔ جبکہ اس کے سبب ہونے والی اموات تو چین میں نہ کے برابر ہے۔ حالانکہ شروع میں چین میں ہونے والی اموات کو ایک  غیر معمولی واقعہ سمجھا جا رہا تھا۔ 
 یاد رہے کہ دسمبر ۲۰۱۹ءمیں چین میں کورونا وائرس کے نمودار ہونے کے بعد سے اب تک دنیا بھر میں ایک کروڑ سے  زیادہ لوگ اس وبا کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سے ۵؍ لاکھ سے زائد افراد کی موت ہو چکی ہے ۔ ان میں سب سے زیادہ متاثرین اور مہلوکین امریکہ میں پائے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK