• Thu, 08 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران میں کریک ڈاؤن پر ٹرمپ کی سپریم لیڈر کو قتل کی دھمکی: امریکی سینیٹر

Updated: January 07, 2026, 5:06 PM IST | Washington

امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے ایران میں جاری مظاہروں کے تناظر میں سخت بیان دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے عوام کے خلاف تشدد جاری رکھا تو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ انہیں ’’قتل کر دیں گے۔ ‘‘

Trump and Ali Khamenei. Photo: INN
ٹرمپ اور علی خامنہ ای۔ تصویر: آئی این این

امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بہتر زندگی کے مطالبے پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا تو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ انہیں ’’قتل کر دیں گے۔ ‘‘منگل کو فوکس نیوز کو د یئے گئے ایک انٹرویو میں گراہم نے کہا:’’آیت اللہ صاحبان کیلئے میرا پیغام ہے، آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر آپ اپنے ان لوگوں کو قتل کرتے رہے جو بہتر زندگی کا مطالبہ کر رہے ہیں، تو ڈونالڈ جے ٹرمپ آپ کو قتل کر دیں گے۔ ‘‘گراہم نے کہا کہ ’’ایران میں تبدیلی آ رہی ہے‘‘، اور اسے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلی قرار دیا جس کا مقصد ’’اس نازی حکومت کا خاتمہ‘‘ہے۔ انہوں نے مزید کہا:’’ایران کے عوام کیلئے پیغام ہے کہ مدد راستے میں ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضے کیلئے فوج کے استعمال سمیت دیگر متبادلات پر تبادلہ خیال کررہے ہیں: وہائٹ ہاؤس

حالیہ ہفتوں میں ایران شدید احتجاج کی لپیٹ میں ہے، جس کی وجہ بگڑتی ہوئی معیشت اور ایرانی کرنسی ریال کی تیز گراوٹ ہے، جو امریکی ڈالر کے مقابلے میں ۱۳؍ لاکھ۵۰؍ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ مختلف شہروں میں تشدد کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں مظاہرین اور پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد کی ہلاکتیں شامل ہیں۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آیت اللہ خامنہ ای نے مظاہرین کے مطالبات کو جائز تسلیم کیا، تاہم، یہ بھی کہا کہ ہنگامہ آرائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکومت نے صورتِ حال کو سنبھالنے کیلئے دکانداروں کے نمائندوں سے کئی ادوار میں مذاکرات کئے ہیں، خاص طور پر دارالحکومت تہران میں صورتحال انتہائی سنگین رخ اختیار کر چکی ہے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر تہران مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت استعمال کرتا ہے تو واشنگٹن ’’مددکیلئے آگے آئے گا‘‘، جس پر ایران کے اعلیٰ حکام کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK