مادورو کی برطرفی کے بعد امریکہ کے تئیں روڈریگز کے بیانات میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے بعض اوقات واشنگٹن کے ساتھ محدود رابطے پر آمادگی ظاہر کی، لیکن ان کے تازہ ترین تبصروں میں مزاحمتی رنگ نمایاں تھا۔
EPAPER
Updated: January 07, 2026, 6:57 PM IST | Washington/Caracas
مادورو کی برطرفی کے بعد امریکہ کے تئیں روڈریگز کے بیانات میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے بعض اوقات واشنگٹن کے ساتھ محدود رابطے پر آمادگی ظاہر کی، لیکن ان کے تازہ ترین تبصروں میں مزاحمتی رنگ نمایاں تھا۔
امریکہ اور وینزویلا کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ کراکس جلد ہی کروڑوں بیرل تیل واشنگٹن کے حوالے کردے گا۔ منگل کو ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ عملی طور پر وینزویلا کے بحران کا ”انچارج“ ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ روڈریگز کے ساتھ مستقبل کا تعاون ملک کے تیل کے ذخائر تک رسائی پر منحصر ہوگا۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا امریکہ کو ”اعلیٰ معیار کا ۳۰؍ سے ۵۰؍ ملین بیرل تیل“ فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تیل مارکیٹ کی قیمتوں پر فروخت کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم ان کے کنٹرول میں ہوگی۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اینرجی سیکریٹری کرس رائٹ کو اس منصوبے پر فوری عمل درآمد کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ وینزویلا کے حکام نے ایسے کسی معاہدے کی کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران میں کریک ڈاؤن پر ٹرمپ کی سپریم لیڈر کو قتل کی دھمکی: امریکی سینیٹر
وینزویلا پر کوئی غیر ملکی طاقت حکومت نہیں کر رہی ہے: روڈریگز
وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز، جنہیں وینزویلا کی سپریم کورٹ کی جانب سے ملک کی قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ ملک کو اب واشنگٹن سے چلایا جا رہا ہے۔ یہ بحث امریکی فوج کے آپریشن کے بعد شروع ہوئی جس میں سابق صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ روڈریگز نے منگل کو بیان دیا کہ ”ہمارے ملک میں وینزویلا کی اپنی حکومت ذمہ دار ہے، کوئی اور نہیں۔ وینزویلا پر کوئی غیر ملکی ایجنٹ حکومت نہیں کررہا ہے۔“
کراکس سے ملے جلے اشارے
مادورو کی برطرفی کے بعد امریکہ کے تئیں روڈریگز کے بیانات میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے بعض اوقات واشنگٹن کے ساتھ محدود رابطے پر آمادگی ظاہر کی، لیکن ان کے تازہ ترین تبصروں میں مزاحمتی رنگ نمایاں تھا۔ انہوں نے حالیہ امریکی حملوں کے مہلوکین کیلئے ۷ روزہ قومی سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم وہ قوم ہیں جو ہتھیار نہیں ڈالتی، ہم وہ لوگ ہیں جو ہمت نہیں ہارتے۔“
وینزویلا کی فوج نے ۵ جنرلوں سمیت ۲۳ فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ کراکس کے قریبی اتحادی کیوبا نے بتایا کہ اس کے بھی ۳۲ فوجی اہلکار مارے گئے ہیں۔ شہری ہلاکتوں کے اعداد و شمار اب بھی غیر واضح ہیں۔ اٹارنی جنرل طارق ولیم صاب نے تفصیلات فراہم کئے بغیر کہا کہ ”درجنوں“ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔