• Thu, 08 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضے کیلئے فوج کے استعمال سمیت دیگر متبادلات پر تبادلہ خیال کررہے ہیں: وہائٹ ہاؤس

Updated: January 07, 2026, 4:08 PM IST | Washington

ٹرمپ نے پہلی بار اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران ۲۰۱۹ء میں گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کا خیال پیش کیا تھا۔ یہ معاملہ وینزویلا میں امریکی فوج کے حالیہ آپریشن کے بعد دوبارہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

Donald Trump. Photo: X
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

وہائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ گرین لینڈ کو حاصل کرنے کیلئے مختلف متبادلات پر غور کررہے ہیں، ان متبادلات میں امریکی فوج کا ممکنہ استعمال بھی شامل ہے۔ امریکی صدارتی محل کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”گرین لینڈ کا حصول ریاستہائے متحدہ کی قومی سلامتی کی ترجیحات میں شامل ہے۔ آرکٹک کے خطے میں اپنے دشمنوں کو روکنے کیلئے یہ اقدام ناگزیر ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ صدر اور ان کے مشیر اس مقصد کے حصول کیلئے ”کئی متبادلات“ پر غور کررہے ہیں اور فوجی طاقت کا استعمال ”کمانڈر ان چیف کے اختیار میں ہمیشہ ایک متبادل کے طور پر موجود رہتا ہے۔“

واضح رہے کہ گرین لینڈ، یورپی ملک ڈنمارک کے تحت نیم خود مختار علاقہ ہے، جو امریکہ کا اتحادی ملک ہے۔ گرین لینڈ اپنے اندرونی معاملات خود سنبھالتا ہے، لیکن ڈنمارک اس کی خارجہ پالیسی اور دفاع پر کنٹرول رکھتا ہے۔ اس جزیرے پر پہلے سے ہی امریکہ کا ایک فوجی اڈہ موجود ہے۔ گرین لینڈ اسٹریٹجک طور پر اہم آرکٹک خطے میں واقع ہے جہاں روس اور چین اپنا رسوخ بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران مظاہرہ: ٹرمپ کی دوبارہ مداخلت کی دھمکی، یواین کا خونریزی نہ کرنے کا انتباہ

یاد رہے کہ ٹرمپ نے پہلی بار اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران ۲۰۱۹ء میں گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کا خیال پیش کیا تھا۔ یہ معاملہ وینزویلا میں امریکی فوج کے حالیہ آپریشن، جس میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کیا گیا، کے بعد دوبارہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ گرین لینڈ کے لیڈران نے متعدد دفعہ صاف کہا ہے کہ جزیرے کی عوام امریکہ کا حصہ نہیں بننا چاہتی۔

نیٹو کے ایک اتحادی ملک کے علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کیلئے امریکہ کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال کے امکان نے بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر تنقید کو جنم دیا ہے۔ ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹ فریڈرکسن نے بیان دیا ہے کہ امریکہ کو گرین لینڈ کے الحاق کا ”کوئی حق“ نہیں ہے۔ انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ ”تاریخی طور پر اپنے قریبی اتحادی“ کو دھمکیاں دینا بند کرے۔ یورپی لیڈران نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حمایت کرتے ہوئے اس کی خودمختاری کیلئے اپنی حمایت کا اعادہ کیا اور زور دیا کہ یہ جزیرہ ”وہاں کے لوگوں کا ہے۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK