طلبہ کےذریعے طلبہ کو پڑھانےکی انوکھی کوشش

Updated: September 15, 2020, 7:43 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

’ اسکول بند تعلیم جاری‘ پروجیکٹ کے تحت شہر ومضافات کےکچھ اسکولوں کے اساتذہ نے بچوں کو تعلیمی نقصان سےبچانے کیلئے سابق طلبہ کی مدد حاصل کی ہے

School Students - PIC : Inquilab
اسکول کی سابق طالبہ بچوں کو پڑھاتے ہوئے۔

’اسکول بند تعلیم جاری ‘ پروجیکٹ کےتحت شہر و مضافات کے کچھ اسکولوں کے اساتذہ نے طلبہ کی تعداد برقرار رکھنے  اور  انہیں تعلیمی نقصان سے بچانے کیلئے آن لائن تعلیم دینے  کےعلاوہ ان سے ذاتی طورپر متواتر رابطے  میں رہنے کیلئے اپنے ہی اسکول کے سابق طلبہ کی مدد حاصل کی ہے۔سابق طلبہ اسکول کے موجودہ طلبہ کو ان کے گھروں پر جاکر پڑھا رہے ہیں۔ اس خدمت کے عوض اساتذہ اپنی جیب سے سابق طلبہ کو معاوضہ ادا کررہے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہواہےکہ کئی اسکولوں کےطلبہ کی تعداد برائے نام کم ہوئی ہے اور طلبہ متواتر اسکول اوراساتذہ کے رابطے میں ہیں۔
 نریمن لین میونسپل اردو پرائمری اسکول کرلاویسٹ کی معلمہ انصاری شمیم النساء نے انقلاب کوبتایاکہ ’’ بی ایم سی اسکول میں عموماً پسماندہ طبقے کے بچے زیر تعلیم ہیں ۔کووڈ۱۹؍ اور لاک ڈائون کےسبب ان بچوںکے والدین کا م کاج بندہونے سے مالی دشواریوںسے جوجھ رہےہیں ۔ ایسی صور ت میں ا ن بچوںکو تعلیم کی جانب متوجہ کرنا ایک دشوارکن مسئلہ تھالیکن ہمارے لئےبھی یہ ایک چیلنج تھاکہ ہم ان بچوںکو کسی بھی طرح اسکول اور پڑھائی سے جوڑے رکھیں۔ اس لئے بچوںکو آن لائن تعلیم دینے کےعلاوہ ان بچوںسے متواتر رابطے میں رہنے کیلئے سوشل میڈیا مثلاً وہاٹس ایپ ، ٹیلی گرام اور دیگر ذرائع کا استعمال کرنے کے ساتھ ہی ایک انوکھا طریقہ یہ اختیا رکیاکہ جن علاقوںمیں ہمارے بچے رہائش پزیر ہیں ، وہاں کے ان طلبہ سے رابطہ کیا جن کا تعلق ہمارے اسکول سے رہاہے اور اب وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کررہےہیں تاکہ ان طلبہ کی مدد سے اسکول کےموجودہ طلبہ کو پڑھایا جاسکے ۔‘‘
 شمیم النساء کےمطابق ’’  میرے کلاس میں ۳۵؍طلبہ ہیں جن میں سے ۱۲؍طلبہ لاک ڈائون میں آبائی وطن چلے گئےہیں باقی ۲۳؍طلبہ متواتر رابطے میں ہیں۔ ان بچوںکو آن لائن پڑھانے کےعلاوہ علاقے کےاعتبار سے ان کا ۵؍گروپ بنا دیا ہے۔ مثلاً کرلا کورٹ، عارف ہوٹل، اندرا نگر اور سائن  علاقے کے ان بچوںکو ان کے گھر  پرپڑھانےکیلئے ان ہی علاقوں   کے اُن نوجوان طالب علموں کا انتخاب کیاہے جنہوںنے  ہمارے اسکول سے ہی تعلیم حاصل کی ہے اور فی الحال وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہےہیں۔ یہ لوگ روزانہ ۲؍گھنٹے اپنے گروپ کےبچوںکو ہماری ہدایت کے مطابق  ان کے گھر جاکر پڑھاتےہیں۔ان نوجوانوںکو یہ ہدایت بھی دی گئی ہےکہ جن طلبہ کے پاس موبائل فون کی سہولت نہ ہووہ انہیں اپنے موبائل کی مدد سے پڑھائیں یاجن کے موبائل فون میں ری چارج کی ضرورت ہو ان کا موبائل فون بھی اپنی جانب سے ری چارج کرائیں تاکہ کسی بھی صورت میں بچوںکی تعلیم کا نقصان نہ ہو۔‘‘
  اسی اسکول کی معلمہ سید سعدیہ جیلانی  نے بتایاکہ ’’ لاک ڈائون کی وجہ سے ہمارے اسکول کے بچوںکے والدین بہت پریشان ہیں ۔ ایسےمیں بچوںکی پڑھائی کی جانب توجہ دینا والدین کیلئے مشکل ہے ۔اس بات کا ہمیں شدت سے احساس ہے۔ اسی لئے اسکول کے ٹیچروںنے بچوںکی فلاح کیلئے ایک مشترکہ فنڈ قائم کیاہے تاکہ ان کی بنیادی ضرورتیں پوری کی جا سکیں ۔ ان کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کے ساتھ ان کے بچوںکی تعلیم وتربیت کیلئے بھی معقول انتظام کیا ہے تاکہ یہ بچے تعلیم سے محروم نہ رہیں۔ اس کیلئے ہم نے اپنے اسکول کے سابق طلبہ کی مدد لی ہے ۔ اس خدمت کے عوض انہیں  ایک مخصوص رقم ادا کی جارہی ہے۔ اس مہم کا نتیجہ یہ ہواکہ ہمارے اسکول میں مجموعی طورپر۴۰۲؍طلبہ زیر تعلیم ہیں جن میں سے تقریباً ۳۲۷؍طلبہ  اسکول کے رابطے میں ہیں۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK