شکایت کے ایک سال بعد افسران تفتیش کیلئے پہنچے

Updated: November 22, 2022, 12:24 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai

یہاں محکمہ زراعت کے ذریعہ پانی کی ٹنکی کی تعمیر اور بورویل کی تنصیب میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی شکایت کے ایک سال بعد اس کی تفتیش کا آغاز ہوا ہے

Bhiwandi: A case of corruption in water tank and borewell installation
بھیونڈی:پانی کی ٹنکی اور بورویل کی تنصیب میں بدعنوانی کا معاملہ

یہاں محکمہ زراعت کے ذریعہ پانی کی ٹنکی کی تعمیر اور بورویل کی تنصیب میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی شکایت کے ایک سال بعد اس کی تفتیش کا آغاز ہوا ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک سال قبل  شکایت کے باوجود ٹھیکیدار کی ادائیگی کردی گئی نیز کام کی تکمیل سے قبل ہی اسے سندبھی دے دی گئی ہے۔ بدعنوانی کے سنگین الزام کے باوجود انتظامیہ کی اس بے توجہی پر شکایت کنندہ نے ناراضگی کااظہار کیا ہے۔ 
 واضح رہے کہ۴؍ فروری۲۰۲۰ء کو محکمہ زراعت نے چاوندرا میں پھلوں کی پیداوار کے محکمے میں باغبانی  کو فروغ دینے کے منصوبے کے تحت پانی کی ٹنکی کی تعمیر اور بورویل لگانے کی منظوری دی تھی۔ اس کیلئے تھانے ضلع پریشد (دیہات)کے محکمہ آب رسانی کے ذریعہ پھلوں کی پیداوار کی نرسری کی آبپاشی کیلئے۲۵؍ہزار لیٹر کی گنجائش والی پانی کی ٹنکی بنانے کیلئے ۳۲؍لاکھ ۶۴؍ہزار روپے اور بورویل لگانے کیلئے ۸؍لاکھ ۶۳؍ہزار روپے سمیت کُل ۴۱؍لاکھ ۲۷؍ہزار روپے کا فنڈ منظور کیا تھا۔
 پانی کی ٹنکی کی تعمیر کے بارے میں شکایت کرتے ہوئے ایم این ایس ودیارتھی سینا کے تھانے ضلع کے صدرپریش چودھری نے بتایا کہ ٹنکی کو پرانے کنکریٹ کے ستونوں پر بنایا گیا ہے اور اس کی تعمیر میں ناقص تعمیراتی اشیاء کا استعمال کیا گیا ہے۔یہاں تک کہ ٹھیکیدار نے بغیر پلاسٹرہی ٹنکی کا رنگ و روغن  کروادیا ۔ انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ بورویل نصب کئے بغیر ہی محکمہ زراعت کی جانب سے ٹھیکیدار کو مکمل ادائیگی بھی کردی گئی تھی۔اس کی شکایت انہوں نے ایک سال قبل ہی اعلیٰ افسران اور لیڈران سے کی تھی۔تاہم اس افسران نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی۔
 شکایت کے ایک سال بعد انتظامیہ نے  تھانے ضلع پریشد کے آبپاشی محکمہ کے پانی کے تحفظ کے افسر ڈی ایم جوکر، پنچایت سمیتی کے پانی کی فراہمی کے محکمے کے وجئے پانڈھرے، پانی کے تحفظ کے افسر آر پی پلوانی شکایت کنندہ پریش چودھری کے ساتھ موقع پر جا کر تفتیش کی۔ بدعنوانی کی شکایت کرنے والے پریش چودھری نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے کہا کہ  شکایت کے ایک سال بعد آفیسرتفتیش کیلئے آئے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انتظامیہ شکایت  سے متعلق کتنی سنجیدہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نرسری میں ایک کنواں ہے اور اس سے نرسری کو براہ راست پانی کی فراہمی ممکن ہے۔ اس کے باوجود لاکھوں روپے خرچ کر کے واٹر ٹینک بنا نے کا مقصد صرف بدعنوانی اور بھرشٹاچارکرنا تھا۔ تفتیشی افسر ڈی ایم جوکرنے بتایا کہ اس کام میں ناقص  مٹیریل کے استعمال اوربدعنوانی پائے جانے کی صورت میں اس کی رپورٹ اعلیٰ حکام کو پیش کی جائے گی۔  

bhiwandi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK