مقدس ماہِ رمضان کے دو عشرے گزرگئے ، اس دوران شہر میں افطار اور سحری کی رونقیں عروج پر ہیں۔ بازاروں، ہوٹلوں اور فوڈ اسٹالوں پر دیر رات تک گہماگہمی کا ماحول نظر آ رہا ہے، مگر ان رونقوں کے درمیان ایل پی جی گیس سلنڈروں کی قلت نے ہوٹل کاروباریوں اور شہریوں کے لیے نئی پریشانی کھڑی کر دی ہے۔
بھیونڈی کے جئے ملہارڈھابے پر گیس ختم ہونے سے لکڑی کے چولہے پر کھانا پکایا جارہا ہے۔تصویر: آئی این این
مقدس ماہِ رمضان کے دو عشرے گزرگئے ، اس دوران شہر میں افطار اور سحری کی رونقیں عروج پر ہیں۔ بازاروں، ہوٹلوں اور فوڈ اسٹالوں پر دیر رات تک گہماگہمی کا ماحول نظر آ رہا ہے، مگر ان رونقوں کے درمیان ایل پی جی گیس سلنڈروں کی قلت نے ہوٹل کاروباریوں اور شہریوں کے لیے نئی پریشانی کھڑی کر دی ہے۔اطلاعات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات اب ہندوستان میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث ایل پی جی گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ بھیونڈی اور اطراف کے علاقوں میں گھریلو اور کمرشل گیس سلنڈروں کی دستیابی کم ہونے سے ہوٹل مالکان، ڈھابہ چلانے والوں اور عام صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رمضان کے دوران جب افطار سے لے کر سحری تک کھانے پینے کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، ایسے میں گیس کی قلت نے کاروباریوں کی تشویش بڑھا دی ہے۔
مقامی ہوٹل مالکان کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے کمرشیل ایل پی جی سلنڈروں کی سپلائی میں واضح کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس کے باعث کئی ہوٹل اور ریسٹورنٹس کو محدود وسائل کے ساتھ کام چلانا پڑ رہا ہے جبکہ کچھ جگہوں پر کھانے کی تیاری بھی متاثر ہو رہی ہے۔ دوسری جانب گھریلو صارفین کو بھی گیس ایجنسیوں کے باہر طویل قطاروں میں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
غیبی نگر کے جعفر ریسٹورنٹ کے مالک جعفر انصاری نے بتایا کہ کمرشل گیس سلنڈر حاصل کرنا اب انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی مشکل سے۱۹؍ کلو کا ایک سلنڈر تقریباً۲۸۰۰؍ روپے میں حاصل ہوا جبکہ سپلائرز پہلے ہی بتا رہے ہیں کہ آئندہ دنوں میں گیس کی فراہمی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو کئی ہوٹلوں کو عارضی طور پر بند کرنے کی نوبت آ سکتی ہے۔
اسی طرح رمضان میں افطار سے لے کر سحری تک خدمات فراہم کرنے والے چھوٹے ہوٹل اور فوڈ اسٹال بھی اس مسئلے سے پریشان ہیں۔ شيرو بھائی، جو رات دیر تک گاہکوں کو کھانا فراہم کرتے ہیں، نے بتایا کہ گزشتہ تین دنوں سے گیس کی شدید قلت برقرار ہے اور زیادہ قیمت ادا کرنے کے باوجود سلنڈر آسانی سے دستیاب نہیں ہو رہے۔
بھیونڈیناسک ہائی وے پر واقع بھائی جان ڈھابہ کے مالک سعید احمد کے مطابق سلنڈروں کی کمی کے باعث بلیک مارکیٹنگ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ۱۹؍ کلو کا کمرشیل سلنڈر۲۸۰۰؍ روپے سے زیادہ قیمت میں خریدنا پڑ رہا ہے، اور اگر یہی صورتحال رہی تو ہوٹل مالکان کو گیس کے بجائے کوئلے پر کھانا تیار کرنا پڑ سکتا ہے جس سے لاگت میں مزید اضافہ ہوگا۔
رمضان کے مہینے میں بھیونڈی کی راتیں عام طور پر افطار اور سحری کے باعث کافی مصروف رہتی ہیں اور شہر کے متعدد ہوٹل اور ڈھابے دیر رات تک کھلے رہتے ہیں۔ مگر موجودہ صورتحال اگر جلد بہتر نہ ہوئی تو گیس سلنڈروں کی کمی سے یہ ہوٹلیں اور ڈھابے بند ہوسکتے ہیں اور گیس سلنڈرکی یہ قلت شہر کی رات کی ’فوڈ اکنامی‘ پر بھی گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔