ایکناتھ شندے سے ملاقات کے بعد اپنا فیصلہ تبدیل کیا مگر کہا’’ ۲۰۲۹ء میں بی جے پی سے اتحاد کرنا ہے یا نہیں اس پر غور کرناہوگا‘‘
EPAPER
Updated: June 04, 2026, 12:05 AM IST | Mumbai
ایکناتھ شندے سے ملاقات کے بعد اپنا فیصلہ تبدیل کیا مگر کہا’’ ۲۰۲۹ء میں بی جے پی سے اتحاد کرنا ہے یا نہیں اس پر غور کرناہوگا‘‘
ایک روز قبل پورے طمطراق کے ساتھ ممبئی پہنچے سابق ریاستی وزیر عبدالستار، اپنے لیڈر ایکناتھ شندے سے ملنے کےبعد اس بات پر راضی ہو گئے ہیں کہ وہ اپنے بیٹے سمیر ستار کا ودھان پریشد الیکشن کیلئے جمع کروایا ہوا پرچہ واپس لے لیں گے لیکن بی جےپی کے تعلق سے ان کی ناراضگی اب بھی برقرار ہے اور میڈیا کے سامنے انہوں نے دوباری بی جے پی پر تنقید کی ہے۔ جلد ہی ان کی دیویندر فرنویس سے ملاقات ہوگی جس میں وہ اپنی شکایتیں ان کے گوش گزار کریں گے۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل عبدالستار نے یہ کہہ کر سیاسی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دونوں شیوسینا کو ایک ہو جانا چاہئے۔ ان کی اس بات کو شیوسینا (ادھو) کے سینئر لیڈر امبا داس دانوے نے یہ کہہ کر ہوا دی تھی کہ ’’ میرے بھی دل میں یہ بات کئی بار آچکی ہے۔‘‘ ساتھ ہی سنجے رائوت نے کہا تھا کہ اگر پچھتاوا ہو رہا ہے تو ماتوشری آکر بات کرلو۔ان خبروں کے درمیان ایکناتھ شندے نے عبدالستار اور اورنگ آباد کے دیگر ۵؍ اراکین اسمبلی کے ساتھ رکن پارلیمان سندیپن بھومرے کو ممبئی طلب کیا تھا جہاں منگل کی دیر رات تھانے میں ایکناتھ شندے نے ان لوگوں سے گفتگو کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکناتھ شندے نے عبدالستار کو تلقین کی کہ وہ ’اتحاد کا فریضہ‘ ادا کریں اور بی جے پی کے خلاف کھڑا کیا اپنا امیدوار واپس لیں۔ یاد رہے کہ عبدالستار نے اورنگ آباد۔ جالنہ ودھان پریشد سیٹ سے اپنے بیٹے کا پرچہ داخل کروایا ہے حالانکہ سیٹوں کی تقسیم میں یہ سیٹ بی جے پی کے حصے میں آئی ہے اور بی جے پی نے وہاں اپنا امیدوار بھی کھڑا کیا ہے۔ عبدالستار کا کہنا ہے کہ بی جے پی شیوسینا کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ اورنگ آباد میں ایک ایک کرکے سارے عہدوں پر اس کا قبضہ ہوتا جا رہا ہے۔
میٹنگ ختم ہونے کے بعد عبدالستار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کل ہی اپنے کارکنان کو بھیج کر سمیر ستار ( ان کے بیٹے) کا پرچہ واپس لے لیں گے لیکن انہوں نے ایک بار پھر بی جے پی پر تنقید کی ۔ انہوں نے کہا ’’ اورنگ آباد میں ہمارے ۵؍ اراکین اسمبلی اور ایک رکن پارلیمان ہے پھر بھی ہم نے بی جے پی کا احترام کرتے ہوئے اسے اونچا مقام دیا کیونکہ ہمیں اتحاد کا فریضہ ادا کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایکناتھ شندے ہمارے لیڈر ہیں ان کی کہی ہوئی بات آخری ہوگی ۔ اس لئے میں نے اورنگ آباد۔ جالنہ سیٹ سے اپنے بیٹے کا پرچہ واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ البتہ جس طرح سے اورنگ آباد میں ہماری طاقت کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمیں ۲۰۲۹ء میں بی جے پی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنا چاہئے؟ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’’ میں نے کبھی یہ بیان نہیں دیا کہ دونوں شیوسینا کو ایک ہو جانا چاہئے۔ یہ بیان شیوسینا (ادھو) کے امبا داس دانوے نے دیا تھا میں نے صرف اس پر رد عمل ظاہر کیا تھا۔‘‘ ادھر نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ ’’ میں نے عبدالستار سے اتحاد کا لحاظ کرتے ہوئے اپنے بیٹے کا پرچہ واپس لینے کیلئے کہا ہے ۔ ہاں اگر انہیں کوئی شکایت ہے تو وہ وزیر اعلیٰ کے سامنے اسے پیش کر سکتے ہیں جس کیلئے وہ وزیر اعلیٰ سے جلد ہی ملاقات کریں گے۔‘‘ یاد رہے کہ شیوسینا کے کچھ لیڈران نے بھی ناراضگی ظاہر کی ہے۔