Updated: July 30, 2026, 9:06 PM IST
| New York
امریکی وفاقی جیوری نے ۲۰۲۲ میں ہند نژاد مصنف سلمان رشدی پر چاقو سے حملہ کرنے کے جرم میں ہادی مطر کو دہشت گردی سے متعلق متعدد الزامات کا مرتکب قرار دیا ہے۔ جیوری نے مطر کو حزب اللہ کو مادّی امداد فراہم کرنے کی کوشش، قومی سرحدوں سے آگے بڑھ کر دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث ہونے اور دہشت گردوں کو مادّی تعاون فراہم کرنے کا مجرم پایا۔
سلمان رشدی اور ہادی مطر۔ تصویر: ایکس
امریکی وفاقی جیوری نے ۲۰۲۲ میں ہند نژاد مصنف سلمان رشدی پر چاقو سے حملہ کرنے کے جرم میں لبنانی امریکی شہری ہادی مطر کو دہشت گردی سے متعلق متعدد الزامات کا مرتکب قرار دیا ہے۔ جیوری اس نتیجے پر پہنچی کہ اس حملے کے پیچھے وجوہات میں رشدی کے ناول ”دی سیٹانک ورسیز“ (The Satanic Verses) کی وجہ سے ان کے خلاف جاری کیا گیا دہائیوں پرانا فتویٰ بھی شامل تھا۔ ۲۸ سالہ مطر، جو پہلے ہی اقدامِ قتل کے جرم میں ۲۵ سالہ ریاستی قید کی سزا کاٹ رہا ہے، کو اب ۳ نومبر کو امریکی ڈسٹرکٹ جج رچرڈ جے آرکارا کی جانب سے سزا سنائے جانے پر زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
ریاستِ نیویارک کے شہر بفیلو میں جیوری نے مطر کو حزب اللہ کو مادّی امداد فراہم کرنے کی کوشش، قومی سرحدوں سے آگے بڑھ کر دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث ہونے اور دہشت گردوں کو مادّی تعاون فراہم کرنے کا مجرم پایا۔ جیوری کے ارکان نے تمام الزامات پر گناہ گار قرار دینے کا فیصلہ سنانے سے پہلے تقریباً دو گھنٹے تک غور و خوض کیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی فوجیوں سے فون واپس لینے پرغور، ایران ان کی مدد سے حملے کررہا ہے: سینٹ کوم
وفاقی پراسیکیوٹرز نے دلیل دی کہ مطر نے ۱۹۸۸ء میں ”دی سیٹانک ورسز“ کی اشاعت کے بعد ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی کی طرف سے ۱۹۸۹ء میں جاری کردہ فتوے پر تحقیق کرنے میں ایک سال سے زیادہ کا وقت گزارا۔ مقدمے کے دوران پیش کئے گئے ثبوتوں سے پتہ چلا کہ مطر نے ایران، آسٹریلیا اور کنیڈا کے افراد کے ساتھ اس فتوے اور حزب اللہ کی جانب سے اس کی توثیق پر بات چیت کی تھی۔ اس نے ”رشدی فتویٰ ۰ء۲“ اور ”رشدی فتویٰ ۶ء۱“ کے عنوان سے ویڈیوز بنائیں جن میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی جانب سے ۲۰۰۶ء میں فتوے کی کی گئی توثیق کو دکھایا گیا تھا۔ حملے کی صبح، اس نے حزب اللہ کی ویب سائٹ کا دورہ کیا اور تنظیم کے ”شہداء“ کے اسکرین شاٹس لئے تھے۔ مطر نے جعلی ڈرائیونگ لائسنس کا استعمال کرتے ہوئے ”حسن مغنیہ“ کے فرضی نام سے میول، نیویارک میں واقع چوٹاکوا انسٹی ٹیوشن کا سفر کیا۔ ۱۲ اگست ۲۰۲۲ء کو جب ایک پروگرام میں رشدی مصنفین کی حفاظت کے موضوع پر بولنے کی تیاری کر رہے تھے، اسی لمحے مطر اسٹیج کی طرف بھاگا اور ان پر ۱۵ بار چاقو سے وار کیا۔ رشدی کے سر، گردن، دھڑ اور ہاتھ پر زخم آئے، ان کی دائیں آنکھ کی بینائی چلی گئی اور اندرونی اعضاء کو نقصان پہنچا۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان نے اسرائیل کو اسلحے کے ۲۵۹۶ کھیپ بھیجے: ایمنسٹی انٹرنیشنل؛ غزہ نسل کشی میں معاونت کا انتباہ
ایف بی آئی (FBI) کے کاؤنٹر ٹیررزم کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جیرڈ براؤن نے کہا کہ ”یہ کوئی جذباتی یا ناگہانی عمل نہیں تھا۔ مطر نے ایک نامزد غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کی حمایت میں پرتشدد حملہ کیا اور وہ متاثرہ شخص کے خلاف فتوے پر عمل کرنا چاہتا تھا۔“