Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان نے ’پاکستان مقبوضہ کشمیر‘ کو ’پاکستانی کشمیر‘ کہنے پر نیویارک ٹائمز پر سخت تنقید کی

Updated: July 30, 2026, 9:06 PM IST | Washington

واشنگٹن میں ہندوستانی سفارت خانے نے ’پی او کے‘ کو ”پاکستانی کشمیر“ کہنے پر نیویارک ٹائمز پر سخت تنقید کی ہے۔ سفارت خانے نے لکھا کہ ”nytimes@ کی جانب سے گمراہ کن اور غلط سرخی۔ کوئی ’پاکستانی کشمیر‘ نہیں ہے، صرف پاکستان مقبوضہ کشمیر ہے۔“

Photo: X
پی او کے میں احتجاج کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس

ہندوستان نے ’پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر‘ (PoK) کیلئے ”پاکستانی کشمیر“ کی اصطلاح استعمال کرنے پر امریکی روزنامے ’دی نیویارک ٹائمز‘ (NYT) کے سامنے باضابطہ اعتراض درج کرایا اور ان الفاظ کے انتخاب کو ”گمراہ کن اور غلط“ قرار دیتے ہوئے دہرایا کہ یہ علاقہ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔

واشنگٹن میں ہندوستانی سفارت خانے نے اخبار کی جانب سے مقامی بلدیاتی انتخابات کے دوران ’پی او کے‘ میں ہونے والے تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے ”پاکستانی کشمیر میں مقامی انتخابات کی پولنگ شروع ہوتے ہی جھڑپیں شروع ہوگئیں“ کی سرخی کے ساتھ رپورٹ شائع کرنے کے بعد ایکس پر نیویارک ٹائمز پر تنقید کی۔ سفارت خانے نے لکھا کہ ”nytimes@ کی جانب سے گمراہ کن اور غلط سرخی۔ کوئی ’پاکستانی کشمیر‘ نہیں ہے، صرف پاکستان مقبوضہ کشمیر ہے۔“

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان نے اسرائیل کو اسلحے کے ۲۵۹۶ کھیپ بھیجے: ایمنسٹی انٹرنیشنل؛ غزہ نسل کشی میں معاونت کا انتباہ

سفارت خانے نے مزید کہا کہ ”جموں و کشمیر و لداخ کے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے، ہندوستان کا ایک اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ رہے ہیں، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ پاکستان نے ان علاقوں کے کچھ حصوں پر غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے اور اب وہ مقبوضہ لوگوں کے خلاف تشدد کا استعمال کر رہا ہے۔“

نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ میں بھی ’پی او کے‘ کے علاقے میرپور میں ہونے والی پرتشدد جھڑپوں کا تذکرہ کیا گیا ہے جہاں پولیس نے خطے میں پولیس کے تشدد کے خلاف احتجاج کرنے والے ایک شہری حقوق کے گروپ کے اراکین کا سامنا کیا۔ انگریزی روزنامے نے اپنی رپورٹ میں ”پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر“ کی اصطلاح استعمال کی اور پاکستانی ادارے ’ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان‘ کا حوالہ دیا جس نے ”تشدد کے اس چکر کو فوری طور پر ختم کرنے“ اور ایک آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ۱۴؍ عرب، فلسطینی تنظیموں کی القدس، مسجد اقصیٰ کے تحفظ کیلئے ہنگامی اپیل

واضح رہے کہ نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کے پیچھے کا وسیع تر پس منظر ’پی او کے‘ میں مظاہرین پر پاکستانی سیکوریٹی فورسیز کا وحشیانہ کریک ڈاؤن ہے جس میں اطلاعات کے مطابق ۳۰ سے زائد شہری ہلاک اور ۳۳ سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ’جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ (JAAC) معیشت کی گرانی، مبینہ انتظامی بے حسی، سیاسی تفریق اور اقلیتوں پر مظالم کے خلاف مظاہروں کی قیادت کر رہی ہے۔ پاکستانی سیکوریٹی فورسیز نے ’جے اے اے سی‘ کے راولاکوٹ سے مظفرآباد تک کے لانگ مارچ کے دوران مہلک فورس کا استعمال کیا۔ ہلاک ہونے والوں میں عثمان نذیر بھی شامل ہیں، جو ’جے اے اے سی‘ کی سینٹرل کمیٹی کے رکن عمر نذیر کے بھائی ہیں۔ نئی دہلی نے ’پی او کے‘ میں ہونے والے انتخابات کو اسلام آباد کی جانب سے ”اپنے غیر قانونی قبضے کو چھپانے“ اور خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو پردے میں رکھنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK