Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹیسلا کے مالک ایلون مسک کو بڑا دھچکا، ۶۰۰؍ ارب ڈالر ہاتھ سے نکل گئے

Updated: July 30, 2026, 9:06 PM IST | New York

چھ ہفتے قبل ایلون مسک تاریخ میں اب تک گزرنے والے سب سے امیر شخص تھے۔ ۱۶؍ جون کو، یعنی اسپیس ایکس کی ۱۲؍ جون ۲۰۲۶ء کو ہونے والی ابتدائی عوامی پیشکش مکمل ہونے کے تین دن بعد، اس کی مارکیٹ ویلیو تاریخ کی بلند ترین سطح۶۴ء۲؍ ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی تھی، جب کہ مسک کی دولت تقریباً ۴۵ء۱؍ ٹریلین ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچی۔

Elon Musk.Photo:INN
ایلون مسک۔ تصویر:آئی این این

 چھ ہفتے قبل ایلون مسک تاریخ میں اب تک گزرنے والے سب سے امیر شخص تھے۔ ۱۶؍ جون کو، یعنی اسپیس ایکس کی ۱۲؍ جون ۲۰۲۶ء کو ہونے والی ابتدائی عوامی پیشکش مکمل ہونے کے تین دن بعد، اس کی مارکیٹ ویلیو تاریخ کی بلند ترین سطح۶۴ء۲؍ ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی تھی، جب کہ مسک کی دولت تقریباً ۴۵ء۱؍ ٹریلین ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچی۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹیسلا کے مالک ایلون مسک کو بڑا مالی دھچکا پہنچا ہے، اور ان کی دولت میں۷۱۲؍ ارب ڈالر کی ریکارڈ کمی ہوئی۔ ۱۶؍ جون کو مسک کی دولت تقریباً ۴۵ء۱؍ ٹریلین ڈالر تھی، ۲۳؍ جولائی کو بلومبرگ بلینئر انڈیکس کے مطابق وہ تقریباً ۷۳۸؍ بلین ڈالر رہ گئی۔ یعنی تقریباً پانچ ہفتوں میں ان کی دولت میں تقریباً ۷۱۲؍ بلین ڈالر کی کمی ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق پانچ ہی ہفتوں کے اندر ایلون مسک کی،۶۵۰؍ سے ۷۰۰؍ ارب ڈالر کے درمیان دولت بخارات بن کر اڑ گئی۔ امریکی میڈیا کے مطابق اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے شیئرز میں بڑی گراوٹ کے باعث ان کی دولت میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ تاہم فی الحال وہ اب بھی بڑے فرق سے کرۂ ارض کے سب سے امیر شخص ہیں اور دوسرے امیر ترین شخص سے تقریباً ۶۵۰؍ارب ڈالر آگے ہیں۔
اسپیس ایکس کی اسٹاک مارکیٹ میں آمد تاریخ کی سب سے بڑی آئی پی او  تھی  اور مارکیٹ نے اسی حساب سے اسے پذیرائی دی، حصص ابتدائی پیشکش کی قیمت سے کہیں اوپر فروخت ہوئے اور راکٹ اور سیٹیلائٹ بنانے والی اس بڑی کمپنی کی قدر چند ہی دنوں میں ۶ء۲؍ ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی لیکن ۱۶؍ جون کی بلند ترین سطح سے ۲۳؍ جولائی کو کاروبار کے اختتام تک حصص میں۴۱ء۴۱؍ فی صد کمی آچکی ہے، جو  ۸۰ء۲۰۱؍ ڈالر سے گر کر۲۴ء۱۱۸؍ ڈالر پر آ گیا۔ مارکیٹ ویلیو اب۲۴ء۸۹۵؍  ارب ڈالر ہے۔ بلند ترین سطح سے ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی مارکیٹ ویلیو ختم ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:فیفا نے اے ایف اے اور متعدد کھلاڑیوں کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کر دی


امریکی میڈیا کے مطابق جولائی کا مہینہ اسپیس ایکس کے لیے بھاری ثابت ہوا، اور ایلون مسک صرف چند ہفتوں تک ہی ٹریلینیئر رہ سکے ہیں۔ اس گراوٹ کے اسباب یکے بعد دیگرے سامنے آئے، ۱۶؍ جولائی کو اسٹار شپ کی لانچ میں تاخیر نے مارکیٹ کے بعد کے اوقات میں اسٹاک کو متاثر کیا  اور مصنوعی ذہانت سے منسلک کمپنیوں کی قدر کے بارے میں وسیع تر نظرثانی نے بھی مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ۲۱؍ جولائی تک اسپیس ایکس کچھ دیر کے لیے  ۱۲۰؍ ڈالر فی حصص سے نیچے چلا گیا اور مسلسل سات سیشنز میں کمی کے بعد اپنی  آئی پی او قیمت سے بھی نیچے آ گیا۔ دوسری طرف شارٹ سیلرز نے اس گراوٹ سے ۵ء۱۵؍ ارب ڈالر کا منافع کمایا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:سیامی کھیر کی فلم ’’پل بھر کے لیے‘‘ کا آئی ایف ایف ایم ۲۰۲۶ء میں ورلڈ پریمیئر


ٹیسلا کے حصص میں کمی نے بھی مسک کی دولت کو متاثر کیا۔۲۲؍جولائی کو ٹیسلا نے دوسری سہ ماہی کی ۲۴ء۲۸؍ ارب ڈالر آمدنی رپورٹ کی، جو اندازوں سے زیادہ تھی۔ کمپنی نے ریکارڈ ۴؍ لاکھ ۸۰؍ہزار  ۱۲۶؍ گاڑیاں بھی فراہم کیں  تاہم کمپنی کا منافع توقعات سے کہیں کم رہا۔ فی حصص آمدنی  ۳۳ء۰؍ ڈالر رہی، جبکہ اندازہ  ۵۳۶۷ء۰؍ ڈالر تھا۔ آپریٹنگ آمدنی بھی  ۸۸ء۵۶؍ فیصد کم ہوکر ۳۹۸؍ ملین ڈالر رہ گئی۔ ٹیسلا کے آپریٹنگ اخراجات ۴۷؍ فیصد بڑھ کر۳۵ء۴؍ ارب ڈالر ہوگئے۔ اس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت، روبوٹیکسی، آپٹیمس اور ڈوجو پر بڑھتے ہوئے اخراجات تھے۔ ۲۳؍جولائی کو ٹیسلا کے حصص ۵۲ء۱۴؍ فیصد گر کر۶۹ء۳۱۹؍ ڈالر پر بند ہوئے۔ گزشتہ ایک ماہ میں حصص ۲۳ء۱۶؍ فیصد اور رواں سال اب تک ۹۱ء۲۸؍ فیصد گر چکے ہیں۔ ٹیسلا کی موجودہ مارکیٹ ویلیو  ۲۰ء۱؍ ٹریلین ڈالر ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK