Inquilab Logo Happiest Places to Work

الزامات سے بری کئے جانے کے باوجود گزٹ سے نام نہ ہٹانے پر ہائی کورٹ برہم

Updated: January 11, 2020, 6:58 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

سلسلہ وار ٹرین بم دھماکوں اور ممنوع تنظیم سیمی کا ممبر ہونے کے الزامات سے بری ہونے کے باوجودپیشہ سے ٹیچر عبدالواحد کو پولیس کے ذریعہ ہراساں کئے جانےکا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

عبد الواحد ۔ تصویر : انقلاب
عبد الواحد ۔ تصویر : انقلاب

ممبئی : سلسلہ وار ٹرین بم دھماکوں اور ممنوع تنظیم سیمی کا ممبر ہونے کے الزامات سے بری ہونے کے باوجودپیشہ سے ٹیچر عبدالواحد کو پولیس کے ذریعہ ہراساں کئے جانےکا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ پولیس کی اس ذیادتی کے خلاف متاثرہ نے دہلی ہائی کورٹ کے ٹربیونل جج کے روبرو عرضداشت داخل کرتے ہوئے اپنے بری ہونے کے تمام شواہد پیش کئے تھے اور ایجنسی کے ذریعہ گمراہ کن اطلاعات فراہم کرنے پران کے خلاف کارروائی کرنے اور گزٹ میں درج کردہ ان کے نام کو حذف کرنے کی اپیل کی تھی ۔ جمعہ کو اس سلسلہ میں ہونے والی کارروائی کے دوران دہلی ہائی کورٹ کے ٹربیونل نے ایجنسی کی سرزنش کرتے ہوئے ایجنسی کو گزٹ سے نام کو فوری طور پر حذف کرنے کا حکم دیا ہے۔ 
  سلسلہ وار بم دھماکوں کے تمام الزامات سے بری ہونے والے عبد الواحد نے نامہ نگار سے بات چیت کے دوران بتایا کہ ’’ گزشتہ سال فروری میں اسٹوڈنٹس اسلامک مومنٹ آف انڈیا ( سیمی ) پر مرکزی حکومت نے مزید ۵؍ سال کی پابندی عائد کی ہے ۔وہیں سیمی پر پابندی کے بعد سیمی سے تعلق رکھنے اور سیمی کا ممبر ہونے کے سبب سزا پانے والوں کے تعلق سے ایجنسی نے جو تفصیلات ترتیب دی تھیں اس میں میرا نام بھی شامل کیا تھا۔ ایجنسی نے مجھے نہ صرف سیمی سے تعلق ہونے کے بنا پر سزا یافتہ ملزم قرار دیا تھا بلکہ ممبئی میں ہوئے  وار ٹرین بم دھماکوں کا بھی سزا یافتہ مجرم بتایا تھا ۔ 
  انہوںنےمزید کہا کہ’’ مذکورہ بالا دونوں کیسوں میں عدالت سے وہ بری ہوچکے ہیں ۔ اس فاش غلطی کا جب مجھے پتہ تو میں نے ہیومن رائٹس کمیشن اور متعلقہ محکموںکو اس بات سے آگاہ کیا تھا لیکن مجھے اس وقت شدید دھچکا لگا جب ایجنسی نے اپنی تیار کردہ رپورٹ کو گزٹ کرتے ہوئے اس میں بھی مجھے سزا یافتہ مجرمین کی فہرست میں رکھا۔‘‘ عبدالواحد نے گزٹ میں ملزمین میں اپنا نام شامل ہونے سے دل برداشتہ ہو کر گزشتہ سال جولائی میں دہلی ہائی کورٹ کے ٹربیونل کے روبرو وکیل شری دیوی پنیکر کے ذریعہ عرضداشت داخل کی تھی۔ دوران سماعت وکیل نے ایجنسی کے ذریعہ ہراساں کئے جانے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ عبدالواحد نے ایجنسی کی گمراہ کن رپورٹ سے متعلق پہلےبھی آگاہ کیا تھا اس کے باوجود ا ن کا نام سزا یافتہ مجرمین کی فہرست میں برقرار رکھا گیا اور اسے گزٹ کر دیا گیا جبکہ میرے موکل کو نہ صرف سیمی کا ممبر ہونے کے الزامات سے بری کر دیا گیا بلکہ۲۰۱۵ء میں ممبئی میں ہوئے سلسلہ وار ٹرین بم دھماکوں سے بھی بری کیا جاچکا ہے ۔
  وکیل نے ایجنسی کے ان افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے فوری طور پر گزٹ سے نام حذف کرنے کی اپیل کی تھی۔ موصولہ اطلاع پر ٹربیونل نے نہ صرف ایجنسی کی سرزنش کی بلکہ گزٹ سے عبدالواحد کا نام فوری طورپر حذف کرنے کا حکم بھی دیا تھا ۔
 واضح رہے کہ عبدالواحد شیخ جنہوںنے جیل میں رہتے ہوئے وکالت کی تعلیم شرو ع کی تھی ، رہائی کے بعد نہ صرف انہوں نے وکالت کی سند حاصل کی بلکہ ’بے گناہ قیدی‘ نام سے ایک کتاب بھی لکھی ہے ۔ اس کے علاوہ سلسلہ وار ٹرین بم دھماکوں میں سزا پانے والے اپنے دیگر ۱۲؍ ساتھیوں کی رہائی کے سلسلہ میں مسلسل’ انوسینٹ نیٹ ورک‘ کے ذریعہ مہم چلا رہے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK