Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپریہ سلے کی فرنویس تعریف کی اور مہایوتی سے نرمی، یہ معاہدہ وجہ قرار

Updated: May 02, 2026, 12:02 PM IST | Mumbai

این سی پی (شرد) کی کارگزار صدرکے ہونے والے داماد کی کمپنی کے ساتھ مہایوتی حکومت نے ۵؍ ہزار ۷۶۰؍ کروڑ روپے کا معاہدہ کیا ہے، شادی طے کروانے میں بھی وزیر اعلیٰ پیش پیش تھے ۔

Sarang Lakhani (left of Farnavis) will provide electricity to the state. Photo: INN
سارنگ لکھانی ( فرنویس کے بائیں ) ریاست کو بجلی فراہم کریں گے۔ تصویر: آئی این این

جب ۲۰۲۴ء میں مہایوتی دوبارہ اقتدار میں آئی تو وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے نکسل وادیوں کی خود سپردگی کا پروگرام نافذ کیا اور ایک کے بعد ایک کئی نکسل وادی کمانڈر حکومت کے آگے ہتھیار ڈالنے لگے۔ اس سلسلے کی پہلی یا دوسری خودسپردگی کے وقت ہی این سی پی (شرد) کی کار گزار صدر سپریہ سلے نے وزیر اعلیٰ کی اس بات پر تعریف کی کہ وہ نکسل واد پر قدغن لگانے میں کامیاب رہے ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے برسراقتدار طبقے کی تعریف پر لوگوں کو حیرانی لازمی تھی لیکن اس معاملے نے سرخیوں میں جگہ نہیں بنائی کیونکہ معاملہ دہشت گردی کا تھا لہٰذا سپریہ کی طرف سے دیویندر فرنویس کی تعریف ایک معمول کی بات لگی۔ 
وقتاً فوقتاً سپریہ سلے نے دیویندر فرنویس کی کئی بار تعریف کی، این سی پی ( اجیت) کے تئیں بھی ان کا رویہ شروع سے نرم رہا۔ جب پارتھ پوار کا نام زمین گھوٹالے میں سامنے آیا تو انہوں نے کہا کہ پارتھ پوار بے قصور ہے میں نے ان سے بات کی ہے۔ یہاں بھی لوگ اس بات کو یہ کہہ کر نظر انداز کر گئے کہ پارتھ پوار آخر ان کا بھتیجا ہے لہٰذا انہوں نے سیاست کو درکنار کر کے جذبات کو ترجیح دی ہوگی۔ کچھ عرصہ پہلے جب اشوک کھرات نامی فرضی بابا کے انتہائی غلیظ کارنامے سامنے آئے اور اس کی وجہ سے خواتین کمیشن کی چیئر پرسن روپالی چاکن کر کو استعفیٰ دینا پڑا تو مہا وکاس اگھاڑی کی طرف سے حکومت پر سخت تنقیدیں کی گئیں کیونکہ مہایوتی حکومت کے کئی بڑے لیڈران اس فرضی بابا کے معتقد تھے۔ حیران کن طور پر حکومت کے گھیرنے کیلئے اتنا بڑا موقع ہاتھ آنے پر بھی سپریہ سلے حکومت سے سوال پوچھنے کے بجائے دیویندر فرنویس کی یہ کہہ کر تعریف کی کہ انہوں نے جنسی استحصال کے اس بڑے معاملے کو سختی سے نپٹا ہے اور پولیس کو فوری طور پر کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے یہ پوچھنا ضروری نہیں سمجھا کہ آخر حکومت کے اتنے اہم وزراء کیسے اس فرضی بابا کے آگے ہاتھ باندھ کر کھڑے رہا کرتے تھے، اس کے پیر چھوتے تھے اور اس کی ہدایت کے مطابق اپنی زندگی میں کوئی بھی قدم اٹھاتے تھے؟

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: عیدالاضحی کے پیشِ نظر ڈی سی پی کے ساتھ میٹنگ

اس دوران کئی بار یہ بات بھی سر اٹھاتی رہی کہ اجیت پوار کی حیات میں دونوں این سی پی کے ایک ہو جانے کی باتیں ہو رہی تھیں بلکہ اس معاملے میں پیش رفت بھی ہوئی تھی۔ شرد پوار گروپ کے کئی لیڈران اس بات پر زور دے رہے تھے کہ اجیت پوار کے منشا کے مطابق اب پارٹی کو ایک ہو جانا چاہئے لیکن اجیت پوار کے خیمے میں شامل لیڈران نے اس بات سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اجیت دادا نے اس تعلق سے انہیں کچھ نہیں بتایا تھا۔ یاد رہے کہ دونوں پارٹیوں کے ایک ہونے کا مطلب تھا کہ شرد پوار گروپ بھی مہایوتی میں شامل ہو جائے۔ حالانکہ سپریہ سلے نے بعد میں یہ کہہ کر اس معاملے کو ختم کر دیا کہ اجیت دادا کی کہی ہو ئی بات انہی کے ساتھ چلی گئی۔ اب دونوں پارٹیوں کا انضمام ممکن نہیں ہے۔ 
یاد رہے کہ جب اجیت پوار حیات تھے تو گوتم اڈانی نے شرد پوار فائونڈیشن کی ایک تقریب میں شرکت کی تھی جس میں شرد پوار، اجیت پوار، سپریہ سلے، سونیترا پوار اور روہت پوار سمیت پوار خاندان کا ہر ایک فرد شریک تھا۔ اس وقت اس تقریب کی تصاویر وائرل ہوئیں مگر کسی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ شرد پوار اور گوتم اڈانی کی اتنی پرتکلف ملاقات کس مقصد سے ہوئی ہوگی؟
اس کے کچھ دنوں بعد ہی اجیت پوار اس دنیا سے چلے گئے اور ان کی جگہ سونیترا پوار کو پارٹی کا سربراہ نیز ریاست کا نائب وزیر اعلیٰ بنایا گیا۔ سونیترا پوار کیلئے اس نائب وزیر اعلیٰ بننے کیلئے ضروری تھا کہ وہ اسمبلی کے کسی ایک ایوان کی رکنیت حاصل کریں۔ سونیترا پوار نے اپنے شوہر کی جگہ بارامتی سیٹ سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ابھی مہا وکاس اگھاڑی میں اس بات پر غوروخوض ہو ہی رہا تھا کہ آخر اجیت پوار سے تعلقات کی بنا پر سونیترا پوار کی حمایت کی جائے یا بی جے پی کا مقابلہ کرنے کیلئے سونیترا پوار کے سامنے امیدوار اتارا جائے، سپریہ سلے نے اپنے طور پر میڈیا کے سامنے یہ اعلان کر دیا کہ این سی پی (شرد) سونیترا پوار کی حمایت کرے گی اور مہا وکاس اگھاڑی بھی ان کے سامنے امیدوار نہیں اتارے گی۔ اس پر کانگریس کے کچھ لیڈران ناراض بھی ہوئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: نیٹ یوجی کے طلبہ کی سہولت کیلئے اتوار کو سینٹرل ریلوے میں میگا بلاک نہیں ہوگا

کانگریس نے سونیترا پوار کے سامنے اپنا امیدوار تو اتارا لیکن بعد میں شرد پوار کے اصرار پر اسے واپس لے لیا۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال بار بار دہرایا جا رہا تھا کہ آخر سپریہ سلے کا مہایوتی کی جانب یوں یکطرفہ جھکائو کیوں دکھائی دے رہا ہے؟ اس کا عقدہ اس وقت کھلا جب ۱۳؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو یہ خبر آئی کہ دیویندر فرنویس نے بذات خودسپریہ سلے کے ہونے والے داماد سارنگ لکھانی کی کمپنی وشوراج گروپ کے تحت کام کرنے والی فرم نوویرین انرجی پرائیویٹ لیمٹیڈ کے ساتھ ۵؍ ہزار ۷۶۰؍ کروڑ روپے کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ یہ معاہد محکمہ آب پاشی کے تحت کیا گیا ہے۔ سارنگ لکھانی کی کمپنی ۱۲؍ سو واٹ بجلی پیدا کرکے گی جس کی وجہ سے ریاست میں بجلی کی سپلائی میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔ اس موقع پر وزیر برائے آبپاشی رادھا کرشن وکھے پاٹل اور وزیر برائے قدرتی آفات گریش مہاجن بھی موجود تھے۔  اگرمیڈیا رپورٹ پر یقین کریں تو سپریہ سلے کی بیٹی ریوتی سلے اور ارون لکھانی کے بیٹے سارنگ لکھانی کی شادی طے کروانے میں بھی دیویندر فرنویس اور سینئر مرکزی وزیر نتن گڈکری نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کی اطلاع سشیل کمار شندے کی بیٹی سمرتی شندے نے سوشل میڈیا پر دی تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK