ان کےمطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں پر پابندیاں تیل، گیس، کھاد اور دیگر ضروری اشیاء کی ترسیل میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔
EPAPER
Updated: May 02, 2026, 11:09 AM IST | New York
ان کےمطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں پر پابندیاں تیل، گیس، کھاد اور دیگر ضروری اشیاء کی ترسیل میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ سے پیدا ہونے والا بحران تیسرے مہینے میں داخل ہونے پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر جاری پابندیاں عالمی معیشت کے لئے سنگین خطرہ ہیں جن سے انسانی اور معاشی بحران مزیدسنگین ہو رہا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان نازک جنگ بندی تاحال برقرار رہنے کے باوجود یہ بحران تیزی سے سنگین جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں پر پابندیاں تیل، گیس، کھاد اور دیگر ضروری اشیاء کی ترسیل میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ توانائی، نقل و حمل، صنعت اور خوراک کی منڈیوں کو متاثر کر رہی ہیں اور عالمی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہیں۔ سیکریٹری جنرل نے خبردار کیا کہ اس بحران کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا اس کی زد میں ہے۔ ہر جنگ کی طرح اس تنازع کی قیمت بھی پوری انسانیت ادا کرے گی چاہے چند لوگ اس سے بہت بڑا منافع ہی کیوں نہ کما لیں؟
انہوں نے متحارب فریقین کو براہ راست پیغام دیتے ہوئے کہا کہ جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کو فوری بحال کیا جائے، آبنائے کو کھولا جائے اور عالمی معیشت کو دوبارہ سانس لینے دیا جائے۔ ان کے مطابق صرف راستے کھولنا کافی نہیں بلکہ تجارتی اشیاء کی ترسیل کو محفوظ، قابل بھروسہ اور یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔
سیکریٹری جنرل نے اس بحران سے متعلق۳؍ ممکنہ منظرنامے پیش کئے:
پہلا (بہترین منظرنامہ): اگر پابندیاں فوری طور پر ختم کر دی جائیں تو تب بھی تجارتی ترسیلی نظام کو بحال ہونے میں کئی ماہ لگ جائیں گے۔ اس کے نتیجے میں عالمگیر معاشی ترقی۳ء۴؍ فیصد سے کم ہو کر۳ء۱؍ فیصد رہ جائے گی جبکہ مہنگائی۴ء۴؍ فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔
دوسرا منظرنامہ: اگر آبنائے ہرمز میں خلل سال کے وسط تک جاری رہا تو معاشی شرح نمو۲ء۵؍ فیصد تک گر سکتی ہے اور مہنگائی۵ء۴؍ فیصد تک پہنچ جائے گی۔ ان حالات میں ۳؍ کروڑ۲۰؍ لاکھ افراد غربت کا شکار ہو جائیں گے جبکہ مزید ۴؍کروڑ ۵۰؍لاکھ شدید بھوک کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
تیسرا (بدترین منظرنامہ): اگر بحران سال کے آخر تک جاری رہا تو مہنگائی۶؍ فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے اور اقتصادی ترقی صرف۲؍ فیصد رہ جائے گی۔ اس سے عالمی کساد بازاری کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے جس کے تباہ کن نتائج ہوں گے۔