Inquilab Logo Happiest Places to Work

نتائج کا دباؤ: طلبہ کے اہل خانہ کو کیا نہیں کرنا چاہئے؟

Updated: May 02, 2026, 11:55 AM IST | Dr Sharmin Ansari | Mumbai

ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ کامیابی صرف نمبرات کا نام نہیں۔ کامیابی یہ ہے کہ وہ مشکلات کا سامنا کر سکیں، ناکامی کے بعد دوبارہ کھڑے ہو سکیں، اور خود پر یقین رکھ سکیں۔ زندگی کا اصل امتحان مارکس شیٹ سے کہیں بڑا ہوتا ہے، اور اس میں وہی کامیاب ہوتا ہے جو ہمت نہیں ہارتا۔

Students celebrating their success in the board exam with distinction marks. Photo: INN
بورڈ امتحان میں  امتیازی نمبرات سے کامیاب طلبہ جشن مناتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

آج بارہویں جماعت کا نتیجہ آنے والا ہے، اور چند ہی دنوں میں دسویں (ایس ایس سی) کا بھی اعلان ہوگا۔ گھروں میں بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق ہے، مگر فضا میں ایک انجانا سا دباؤ محسوس ہوتا ہے۔ ماں باورچی خانے میں مصروف ہے، مگر اس کے ہاتھوں کی رفتار میں وہ سکون نہیں جو روزمرہ کا حصہ ہوتا ہے۔ اس کی نظریں بار بار اپنے بچے کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ بچہ سامنے بیٹھا ہے، کبھی موبائل دیکھتا ہے، کبھی خاموشی سے چھت کو تکتا ہے… مگر اس کے اندر ایک طوفان برپا ہوتا ہے جس کی آواز باہر نہیں آتی۔ یہ صرف ایک نتیجہ نہیں ہوتا…یہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے جہاں ایک بچہ اپنی پوری محنت، اپنی قابلیت، حتیٰ کہ اپنی پہچان کو چند نمبروں میں سمٹتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ بھی اس لمحے کو اس طرح پیش کرتا ہے جیسے زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ یہی ہو۔ 
’’کتنے فیصد آئے؟‘‘، ’’پوزیشن کیا ہے؟‘‘، ’’فلاں کے بچے سے کم کیوں ؟‘‘یہ سوالات بظاہر معمولی ہیں، مگر ایک بچے کے نازک دل پر یہ پہاڑ بن کر گرتے ہیں۔ یہ دباؤ صرف امتحان کا نہیں ہوتا، بلکہ ان تمام توقعات کا مجموعہ ہوتا ہے جو ہم نے بچوں کے گرد بُن دی ہیں۔ رشتہ داروں کی نظریں، پڑوسیوں کے تبصرے، اسکول کی درجہ بندی، اور سب سے بڑھ کر ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘کا خوف، یہ سب مل کر ایک ایسا بوجھ بن جاتے ہیں جسے ایک کم عمر ذہن اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ 
یہی وجہ ہے کہ جب نتیجہ توقع کے مطابق نہیں آتا تو بچہ صرف مایوس نہیں ہوتا، بلکہ ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ خود کو ناکام نہیں بلکہ بے وقعت سمجھنے لگتا ہے۔ اس کے ذہن میں یہ خیال جڑ پکڑ لیتا ہے کہ شاید وہ اپنے والدین کی امیدوں پر پورا نہیں اترا، شاید وہ محبت کے لائق نہیں رہا۔ اور یہی سوچ، یہی خاموش اذیت، بعض اوقات اسے ایسے اندھیرے کی طرف لے جاتی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہتی۔ ہر سال نتائج کے دنوں میں آنے والی وہ خبریں، جن میں بچے صرف چند نمبروں کی وجہ سے اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں، ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے کافی ہونی چاہئیں۔ مگر افسوس، ہم چند دن افسوس کرتے ہیں اور پھر وہی رویہ، وہی دباؤ، وہی موازنہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: گرمی کا موسم اور میک اَپ: چند کارآمد باتیں

یہاں ہمیں رک کر سوچنا ہوگا:کیا واقعی مسئلہ نمبرات ہیں ؟یا ہم نے ان نمبرات کو حد سے زیادہ اہمیت دے دی ہے؟یہاں سب سے اہم کردار ماں کا سامنے آتا ہے۔ ماں وہ ہستی ہے جو بچے کے دل کی دھڑکن کو محسوس کر سکتی ہے، اس کی خاموشی کو سمجھ سکتی ہے، اس کے خوف کو لفظوں کے بغیر پڑھ سکتی ہے۔ نتیجے کے دن ماں کا ایک جملہ بچے کے لئے زندگی اور موت کے درمیان فرق بن سکتا ہے۔ اگر ماں محبت سے کہے:’’بیٹا، جو بھی نتیجہ آئے، تم میرے لئے سب سے قیمتی ہو‘‘تو یہ الفاظ بچے کے دل میں روشنی بن جاتے ہیں۔ اور اگر وہی ماں مایوسی سے کہہ دے:’’میں نے تم سے یہ امید نہیں رکھی تھی…‘‘تو یہی جملہ بچے کے اندر ایک اندھیرا بھر دیتا ہے۔ ہم اکثر انجانے میں اپنے بچوں کا دوسروں سے موازنہ کرتے ہیں۔ ’’دیکھو، فلاں کا بیٹا ٹاپ کر گیا‘‘، ’’فلاں کی بیٹی نے۹۵؍فیصد لئے یہ جملے ہمارے لیے عام ہو سکتے ہیں، مگر بچے کے دل میں یہ احساس پیدا کرتے ہیں کہ وہ کسی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔ 
ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر بچہ منفرد ہوتا ہے۔ کسی کی ذہانت پڑھائی میں ظاہر ہوتی ہے، کوئی تخلیقی صلاحیتوں میں آگے ہوتا ہے، کوئی کھیل میں اپنی پہچان بناتا ہے، اور کوئی اپنی نرم دلی اور اچھے اخلاق سے سب کے دل جیت لیتا ہے۔ اگر ہم سب کو ایک ہی پیمانے پر ناپیں گے تو ہم نہ صرف ان کی انفرادیت کو ختم کریں گے بلکہ ان کی خود اعتمادی کو بھی مجروح کریں گے۔ ماہرینِ نفسیات بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ مسلسل ذہنی دباؤ بچوں کے دماغ پر منفی اثرات ڈالتا ہے۔ اس سے نہ صرف ان کی یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے بلکہ ان میں اضطراب، بے چینی اور افسردگی بھی پیدا ہوتی ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ بچہ اپنی ناکامی کو اپنی ذات کی ناکامی سمجھنے لگتا ہے، اور یہی سوچ اسے اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سوچ کو بدلیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہر کسی کی اسکن ٹائپ مختلف ہوتی ہے، بغیر سوچے سمجھے کوئی نسخہ نہ آزمائیے

ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ کامیابی صرف نمبرات کا نام نہیں۔ کامیابی یہ ہے کہ وہ مشکلات کا سامنا کر سکیں، ناکامی کے بعد دوبارہ کھڑے ہو سکیں، اور خود پر یقین رکھ سکیں۔ زندگی کا اصل امتحان مارکس شیٹ سے کہیں بڑا ہوتا ہے، اور اس میں وہی کامیاب ہوتا ہے جو ہمت نہیں ہارتا۔ نتیجے کے دن ہمیں اپنے رویے پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ بچے کو نتیجہ دیکھنے سے پہلے گلے لگائیں، اس کے ساتھ بیٹھیں، اسے یہ احساس دلائیں کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔ اگر نمبر اچھے آئیں تو شکر ادا کریں، مگر غرور نہ سکھائیں۔ اور اگر نمبر کم آئیں تو حوصلہ دیں، نہ کہ تنقید کریں۔ کیونکہ ایک لمحے کا سخت رویہ بچے کے دل پر عمر بھر کا نشان چھوڑ سکتا ہے۔ یاد رکھیں، بچہ اپنی مارکس شیٹ بھول سکتا ہے… مگر وہ یہ کبھی نہیں بھولتا کہ نتیجے کے دن اس کی ماں نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔ آخر میں، ہر ماں سے ایک خاموش مگر گہری گزارش:اپنے بچوں کو یہ مت سیکھائیں کہ ان کی قدر ان کے نمبرات سے ہے۔ انہیں یہ سکھائیں کہ وہ اپنی محنت، اپنی نیت اور اپنی انسانیت کی وجہ سے قیمتی ہیں۔ اپنی دعا کو بھی بدلیں …‘‘یا اللہ! میرے بچے کو صرف اچھے نمبر نہ دے… بلکہ اسے مضبوط دل، روشن سوچ، اور جینے کا حوصلہ دے۔ ‘‘کیونکہ اگر بچہ زندہ، خوش اور پُرامید ہے…تو وہ کل خود اپنی کامیابی کی ایک نئی، خوبصورت کہانی لکھ لے گا۔ یاد رکھیں …ایک رزلٹ فیل ہو سکتا ہے… مگر ایک بچہ نہیں۔ اور ایک ماں کا پیار وہ طاقت ہے… جو ٹوٹے ہوئے بچے کو بھی دوبارہ جینا سکھا سکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK