نندی گرام کی ہار قبول مگر بے ضابطگی کی جانچ ضروری

Updated: May 04, 2021, 9:00 AM IST | Agency | Kolkata

ممتا بنرجی نے اپنی ہار میں کسی سازش کا شبہ ظاہر کیا، بتایا کہ ریٹرننگ افسر نے دوبارہ گنتی کا حکم اس لئے نہیں دیا کہ اس کی جان کو خطرہ تھا، بطور ثبوت ایس ایم ایس بھی پیش کیا

Mamata Banerjee on Monday thanked the people of West Bengal and also addressed a press conference.Picture:PTI
ممتا بنرجی نےپیر کو مغربی بنگال کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔ تصویرپی ٹی آئی

لیکشن میں بی  جےپی کو دھول چٹانے اور ٹی ایم سی کو غیر معمولی فتح سے ہمکنار کرانے کے بعد پیر کوممتا بنرجی  نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے نندی گرام سے  اپنی ہار  میں کسی  سازش  کا شبہ ظاہر کیا۔ انہوں  نے حیرت کااظہار کیا کہ انہیں فاتح قرار دینے کے بعد الیکشن کمیشن  اپنا فیصلہ کیسے بدل سکتاہے۔ ووٹوں کی گنتی دوبارہ کرانے سے کمیشن کے انکار  کے تعلق سے  ممتا نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ ریٹرننگ آفیسر کا کہناتھا کہ اگر وہ دوبارہ گنتی کا حکم دیتا ہے تو اس کی جان کو خطرہ لاحق ہوجائےگا۔  ممتا بنرجی نے اس معاملے کو عدالت تک لےجانے کا اعلان کیا ہے۔
 ریٹرننگ آفیسر کی جان کو خطرہ تھا، ثبوت پیش کیا
 پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےممتا بنرجی  نے ایک بار پھر اعلان کیاکہ وہ نندی گرام میں اپنی شکست کو عدالت میں چیلنج کریں گی۔ ممتا بنرجی نے انکشاف کیا کہ ٹی ایم سی کی اپیل کے باوجود ریٹرننگ آفیسر نے دوبارہ گنتی کا حکم اس لئے نہیں دیا کہ اس کی جان کو خطرہ تھا۔اس کیلئے انہوں نے بطور  ثبوت ایک ایس ایم ایس بھی پیش کیا۔ سی ای او کو بھیجے گئے اس ایس ایم ایس میں   مبینہ طور پر ریٹرننگ آفیسر  نے کہا ہے کہ اگر وہ دوبارہ   گنتی کا حکم دیتا ہے تواسے سنگین نتائج بھگتنے پڑسکتے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ خود کشی بھی کرنی پڑے۔ ممتا بنرجی نے سوال کیا کہ ’’ووٹوں کی گنتی کے دوران ۴؍ گھنٹے تک سروَر  کیوں ڈاؤن تھا؟‘‘ انہوں  نے کہا کہ ’’ہمیں عوام کا فیصلہ قبول کرنے میں کوئی تردد نہیں ہے مگر  فیصلے میں  اگر بے قاعدگی  ہے تو بہت ممکن ہے کہ جو کچھ نظر آرہاہے، حقیقت اس  کے برخلاف ہو۔ ہمیں سچ کا پتہ لگانا پڑےگا۔‘‘
اپنے حامیوں سےتحمل کی اپیل
  انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد تشدد کی وارداتوں  پرممتا بنرجی نے اپنے حامیوں سے صبروتحمل   کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی کے جال میں نہ پھنسیں۔  ممتا   نے الزام لگایا کہ’’ الیکشن کے دوران مرکزی سیکوریٹی فورسیز نے ٹی ایم سی کے کارکنوں پر بہت ظلم ڈھایا ہے۔ نتائج کے اعلان کے بعد بھی بی جےپی نے کئی علاقوں میں ہمارے کارکنوں پرحملے کئےمگر ہم اپنے حامیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ مشتعل نہ ہوں  بلکہ پولیس میں اس کی شکایت درج کرائیں۔‘‘         انہوں نے متنبہ کیا کہ الیکشن کےدوران چند پولیس افسران نے بھی جانبداری کا مظاہرہ کرتےہوئے  ٹی ایم سی کے خلاف کام کیا ہے۔ 
’’الیکشن کمیشن کی مدد نہ ہوتی تو
 بی جےپی ۵۰؍ سیٹ بھی نہ جیت پاتی‘‘
  ممتا بنرجی نے پریس کانفرنس میں لگاتار دوسرے دن الیکشن کمیشن کو آڑے ہاتھوں لیا۔ غیر معمولی فتح  حاصل کرنے کےبعد بھی وہ اپنے اس الزام پر قائم ہیں کہ مغربی بنگال میں الیکشن کے دوران الیکشن کمیشن نے بی جےپی کی بی ٹیم کے طور پر کام کیا اور اسے ہر طرح کی مدد پہنچانے کی کوشش کی۔ممتا بنرجی نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن مدد نہ کرتا تو بی جےپی ۵۰؍ سیٹ سے آگے نہ بڑھ پاتی۔ 
بائیں محاذ سے ہمدردی کااظہار
   بایاں محاذ جو کئی دہائیوں تک مغربی بنگال میں راج کرچکاہے، کو ایک بھی سیٹ نہ ملنے پر ممتا نے افسوس کااظہار کیا۔   

 انہوں نے کہا کہ بائیں محاذ کے جو ووٹ بی جےپی کی طرف راغب ہوگئے تھے،انہیں دوبارہ حاصل کرنے میں وہ کامیاب نہیں ہوسکا۔ ممتا بنرجی نےکہا کہ’’بائیں محاذ سے  بھلے ہی میرا سیاسی اختلاف  ہے مگر میں انہیں صفر ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی۔بہتر ہوتا کہ وہ بی جےپی سے اپنے ووٹ چھیننے میں کامیاب ہو جاتے۔ ‘‘ وزیراعظم نے فون کرکے مبارکباد نہیں دی۔ ممتا بنرجی  نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے ماضی کی روایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انہیں فون کرکے فتح کی مبارکباد نہیں دی۔  ٹی ایم سی سربراہ نے کہا کہ ’’ یہ پہلا موقع ہے جب  وزیراعظم  نے فون نہیں کیا۔کوئی بات نہیں۔ ہوسکتاہے کہ وہ مصروف ہوں۔میں اسے جذباتی طور پر نہیں لیتی۔‘‘ واضح رہے کہ انتخابی مہم کے دوران وزیراعلیٰ کے تعلق سے وزیراعظم کا رویہ عام تنقیدوں کا موضوع رہاہے جب انہوں نے اپنے  منصب کا خیال کئے بغیر ایک ریاس کی وزیراعلیٰ کو انتہائی بھونڈے انداز میں  ’’دیدی...او دیدی‘‘ کہہ کر مخاطب کیاتھا۔

 کل ممتا کی حلف برداری 

 ممتا بنرجی بدھ ۵؍ مئی کو تیسری مرتبہ وزارت اعلی ٰ کا حلف لیں گی۔ انہوں نے نئی حکومت سازی کیلئے  پیر کی شام گورنر  جگدیپ دھنکرسے ملاقات کرکے اپنا استعفیٰ  سونپ دیا۔ گورنر نے انہیں  کارگزار وزیراعلیٰ کے طور پر ذمہ داریاں نبھانے کیلئے کہا ہے۔ اس سے قبل ٹی ایم سی کے نومنتخب  ممبران نے ممتا بنرجی کو قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کرلیا ۔رخصت پذیر اسپیکر بمان بنرجی تیسری مرتبہ کیلئے اسپیکر منتخب کئے گئے ہیں۔ ممبران اسمبلی۶؍مئی سے حلف لیں گے ۔

 اپوزیشن کے اتحاد کا نعرہ دیا

  ممتا بنرجی نے  تیسری مرتبہ وزارت اعلیٰ کی ذمہ داری سنبھالنے سے قبل ایک بار پھر اپوزیشن کو متحد ہوجانےکی تلقین کی ہے۔ انہوں نے ملک کی تمام اپوزیشن پارٹیوں کو دعوت دی کہ ۲۰۲۴ء میں  بی جےپی کا متحد ہوکر مقابلہ کیا جائے۔   انہوں  نے گورنر سے  ملاقات سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ’’ میں سڑک پر اتر کر لڑنے والی ہوں۔ میں لوگوں کے حوصلے بلند کرسکتی ہوں تاکہ ہم بی جےپی کے خلاف ایک مضبوط لڑائی لڑیں۔ کوئی اکیلا سب کچھ نہیں کرسکتا،اس کیلئے متحدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’اگر ہم متحد ہوکر فیصلہ کریں تو ہم سب مل کر ۲۰۲۴ء کی جنگ جیت سکتے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK