پولیس اب تک آلۂ قتل برآمد نہیں کرسکی۔ ملزم ۲؍ مہینوں سے بیگ میں چاقو لے کر گھوم رہا تھا، روشن رمیش سورنا ۲۹؍ جون تک کیلئے پولیس تحویل میں۔
EPAPER
Updated: June 28, 2026, 5:07 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
پولیس اب تک آلۂ قتل برآمد نہیں کرسکی۔ ملزم ۲؍ مہینوں سے بیگ میں چاقو لے کر گھوم رہا تھا، روشن رمیش سورنا ۲۹؍ جون تک کیلئے پولیس تحویل میں۔
ممبئی کی چلتی لوکل ٹرین کے فرسٹ کلاس کمپارٹمنٹ میں ۲۲؍ سالہ مینک لوہار کو معمولی بات پر چاقو مار کر قتل کرنے کا ملزم آلۂ قتل کو پھینکنے کے تعلق سے لگاتار اپنا بیان بدل رہا ہے جس کی وجہ سے پولیس اب تک حملہ میں استعمال ہونے والے چاقو کو تلاش نہیں کرسکی ہے۔
ملزم روشن رمیش سورنا (۳۰) کو مقامی عدالت نے ۲۹؍ جون تک کیلئے پولیس تحویل میں دیا ہے۔ پولیس کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران اس نے بیان دیا تھا کہ اس نے ریلوے اسٹیشن کے قریب چاقو پھینک دیا تھا لیکن اس کی بتائی ہوئی جگہ کی تلاشی لینے پر وہاں کوئی چاقو برآمد نہیں ہوا۔ اس پر اس تعلق سے اس سے پھر سے پوچھ گچھ کی گئی اور تب سے وہ چاقو پھینکنے کے تعلق سے اپنا بیان بدل رہا ہے اور پولیس کو گمراہ کن باتیں بتا رہا ہے۔
روشن کے والدین نے پولیس کو بتایا ہے کہ وہ گزشتہ تقریباً ۲؍ مہینوں سے اپنے بیگ میں خود کی حفاظت کیلئے چاقولے کر سفر کررہا تھا۔ ان کے مطابق وہ رات کو اکثر تنہا دیر سے گھر آتا تھا اس لئے اس نے اپنے تحفظ کیلئے اپنے پاس چاقو رکھا ہوا تھا۔
ملزم ایئر پورٹ کارگو کے قریب اپنے والد کے ساتھ بار کوڈ کی پرنٹنگ اور اس کی فوٹو کاپی بنانے کا کام کرتا تھا۔ چاقو حاصل کرنے کے تعلق سے اس نے پولیس کو بتایا ہے کہ اس نے اپنے ایک دوست کے باورچی خانہ سے ۲؍ چاقو حاصل کئے تھے۔ ایک چھوٹی چھری کو وہ اپنے بار کوڈ کاٹنے کے کام میں استعمال کرتا ہے دوسری بڑی چھری اس نے اپنی حفاظت کیلئے بیگ میں رکھ لی تھی۔ اس نے ماہانہ پاس نکالا ہوا تھا اور روزانہ لوکل ٹرین کے فرسٹ کلاس ڈبے میں سفر کیا کرتا تھا۔ تاہم دو مہینوں سے وہ بیگ میں چاقو لے کر گھوم رہا تھا لیکن ریلوے اسٹیشنوں پر لگے اسکینر اور میٹل ڈیٹیکٹر کے باوجود اتنے دنوں میں کبھی ریلوے پولیس کو پتہ نہیں چلا کہ اس کے پاس کوئی ہتھیار ہے جس سے ریلوے اسٹیشنوں اور ٹرینوں میں مسافروں کے تحفظ پر سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کی اپیل
’آر پی ایف‘ (ریلوے پروٹیکشن فورس) کا کہنا ہے کہ ان کے اہلکار عام طور پر پلیٹ فارم پر گشت کرتے ہیں اور کوئی ایمرجنسی پیش آجائے تو وہاں پہنچتے ہیں۔ ان کے مطابق مسافروں کی تلاشی لینے پر عام طور پر مسافر ناراض ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے تلاشی لینے کی مہم سرد مہری کا شکار ہوگئی ہے۔
پولیس نے اس شخص کی شناخت کرلی ہے جس سے روشن نے چاقو لیا تھا اور اب اس کا اور دیگر دو چشم دید گواہوں کا بیان درج کیا جانا ہے جن میں سے ایک نے واردات کے وقت کی ویڈیو ریکارڈنگ کی تھی اور دوسرا وہ جس نے بے ہوش پڑے مینک لوہار کی ’سی پی آر‘ کی مدد سے جان بچانے کی کوشش کی تھی۔
ویرار (مغرب) میں واقع شمشان گھاٹ پر جمعہ کو مینک کی آخری رسومات ادا کردی گئیں۔
یاد رہے کہ منگل، ۲۳؍ جون کو نالاسوپارہ جانے والی فاسٹ لوکل ٹرین جب اندھیری اسٹیشن سے آگے بڑھی تب روشن نے ٹرین کا دروازہ کھول دیا تھا جس سے بارش کا پانی اندر آنے لگا تب وہاں کھڑے مینک نے دروازہ دوبارہ بند کردیا جس پر ان دونوں میں جھگڑا ہوگیا تھا۔ دیگر مسافروں نے سمجھا بجھا کر مینک کو کمپارٹمنٹ کے دوسرے دروازے پر بھیج دیا تھا لیکن روشن جھگڑے پر آمادہ تھا اور پھر اس نے گوریگائوں سے ملاڈ کے درمیان تقریباً ۱۰؍ بج کر ۵۰؍ منٹ پر اپنے بیگ سے چاقو نکال کر مینک کے پیٹ اور سینے پر ۳؍ سے ۴؍ وار کردیئے جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوکر دروازے کے قریب ہی گر گیا اور اس کے جسم سے بڑی مقدار میں خون بہنے لگا۔ بعد میں اسے اسپتال میں داخلے سے قبل ہی مردہ قرار دے دیا گیا۔