آج ہندوستان کو جو آزادی حاصل ہے، اس کے حصول کیلئے ملک کے مسلمانوں نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔۱۸۵۷ء سے پہلے، انھوں نے ملک کو غلامی سے بچانے اور پھر۱۸۵۷ء میں نیز اس کے بعد ملک کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرانے کیلئے اپنا تن، من، دھن سب کچھ لگا دیا۔
آج ہندوستان کو جو آزادی حاصل ہے، اس کے حصول کیلئے ملک کے مسلمانوں نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔۱۸۵۷ء سے پہلے، انھوں نے ملک کو غلامی سے بچانے اور پھر۱۸۵۷ء میں نیز اس کے بعد ملک کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرانے کیلئے اپنا تن، من، دھن سب کچھ لگا دیا۔ انگریزوں کے خلاف مسلمان تبھی صف آرا ہو گئے تھے جب۱۸۵۷ء کے آنے میں ابھی ایک صدی باقی تھی۔ خاص طور پر بنگال کے حکمراں سراج الدولہ اور میسور کے حکمراں ٹیپو سلطان نے انگریزوں کی استعماری پیش قدمی کو روکنے کی بھرپور کوشش کی۔ ٹیپو سلطان نے دیگر راجاؤں اور فرمانرواؤں بلکہ کئی بین الاقوامی قوتوں کو بھی انگریزوں کے خلاف متحد کرنے کی کوشش کی اور خود بھی انگریزوں کے خلاف جنگ میں بنفسِ نفیس شریک ہوئے۔ انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے، سراج الدولہ نے۱۷۵۷ء میں اور ٹیپو سلطان نے۱۷۹۹ء میں جام شہادت نوش کیا۔ ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد انگریزوں کو یقین ہو گیا کہ ہندوستان بھی برطانیہ کا غلام ہو کر رہے گا۔
۱۸۰۳ء میں وقت کے سرکردہ عالم دین حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے انگریزوں کے خلاف لڑائی کا فتویٰ جاری کیا اور نتیجتاً انگریزوں کے عتاب کا شکار ہوئے۔ حضرت شاہ صاحب کی وفات کے بعد ان کے روحانی شاگرد حضرت سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ نے استاد کے مشن کو آگے بڑھایا۔ انھوں نے انگریزی استعمار کیخلاف جدوجہد میں ہندو اور مسلمان سبھی کو شامل کرنے کیلئے ملک بھرکا دورہ کیا۔ یہ حضرات بھی۱۸۳۱ء میں بالاکوٹ کے میدان میں شہید کر دیئے گئے لیکن شہیدین نے جوتحریک شروع کی تھی وہ چلتی رہی اور جو۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی صورت میں سامنے آئی۔
یہ بھی پڑھئے: یوم ِ آزادی، طلبہ اور نوجوان
۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں عام مسلمانوں اور علمائے کرام کی ایک بڑی تعداد شریک رہی۔ شاملی کے میدان میں اکابرِ دیوبند انگریزوں کے خلاف میدانِ جنگ میں اترے۔ معرکۂ شاملی میں شریک ہونے والوں میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ اورحضرت حافظ ضامن شہیدؒ نمایاں طور پر قابلِ ذکر ہیں۔۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں شامل علمائے کرام کو انگریزی حکومت نے خاص طور پر نشانہ بنایا، لیکن حصولِ آزادی کے جذبے سے سرشار سرفروشوں کا یہ قافلہ رکنے والا نہیں تھا؛ وہ مشکلات، مصائب اور قربانیوں کی راہ سے گزرتا ہوا آگے بڑھتا رہا اور آزادی کی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیا۔ہندوستان کی آزادی کے حوالہ سے، تحریکِ ریشمی رومال کے روح رواں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، مولانا عبیداللہ سندھیؒ اور مولانا حسین احمد مدنیؒ کی جدوجہد تاریخی رہی ہے۔ یہ تحریک ملک کو آزاد کرانے کیلئے ایک بین الاقوامی سطح کی کوشش تھی۔آزادی کے متوالوں کے قافلے میں مولانا حسرت موہانیؒ، مولانا فضل حق خیرآبادیؒ، مولانا احمد اللہ شاہؒ، مولانا ابوالکلام آزادؒ، مولانا ولایت علی عظیم آبادیؒ، مولانا عبدالرحیم صادق پوریؒ، مولانا محمد علی جوہرؒ، مولانا شوکت علیؒ، حکیم اجمل خانؒ، مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، مولانا حفظ الرحمان سیوہارویؒ، اشفاق اللہ خانؒ اور خان عبدالغفار خانؒ کے علاوہ علماء اور عام مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد شریک تھی، جن کا احاطہ یہاں ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: پورا پورا ہندوستان ہمارا
جدوجہدآزادی میں علمائے کرام اور عام مسلمانوں کا بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ملک کے تئیں ان کی ایک بڑی خدمت تھی۔ آزادی کسی بھی قوم کیلئے ایک عظیم نعمت ہے۔ اس کے بغیر اسے نہ تو بنیادی انسانی حقوق حاصل ہوتے ہیں نہ ہی وہ اپنے طرز حیات اور اپنی فلاح و بہبود کے فیصلے کرنے میں خودمختار ہوتی ہے۔ آزادی ہی کی بدولت قومیں اپنی تہذیب و ثقافت کی حفاظت کرتے ہوئے علم، سائنس، صنعت، تجارت اور دیگر شعبوں میں آگے بڑھ سکتی ہیں۔ہندوستان کوآزاد کرانے کے بعد بھی مسلمان ملک کی ترقی میں مختلف طریقوں سے اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ماناجاتا ہے۔ یہاں مختلف مذاہب پر عمل کرنے والے، مختلف ثقافتوں کو اپنانے والے، مختلف زبانیں بولنے والے، مختلف لباس پہننے والے، مختلف تہوار منانے والے اور زندگی گزارنے کے مختلف اصولوں کو ماننے والے افراد پائے جاتے ہیں۔ یہ مذہبی، ثقافتی اور لسانی تنوع ہمارے ملک کی پہچان ہے اور اسے برقرار رکھنا ہماری دستوری ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جو ہے مفہوم آزادی، وہی مقسوم آزادی
اپنے مذہب پر عمل کر کے، اپنے لباس کو اختیار کر کے اور خورد و نوش کی اپنی عادتوں کو برقرار رکھ کر مسلمان اس تنوع کو قائم رکھنے میں مدد کر رہے ہیں۔ ذرا تصور کریں کہ مسلمان اور دیگر قومیں اگر اپنی اپنی شناختوں سے دستبردار ہو جائیں تو کیا ’تنوع‘ باقی رہے گا؟ ہرگز نہیں۔ تنوع کی بقا کیلئے ضروری ہے کہ مختلف قومیں اپنی شناخت اور وابستگیوں پر قائم رہیں۔ ملکی سطح پر’انیکتا میں ایکتا‘ کو برقرار رکھنے میں ہندوستان کی مدد کرنے کے علاوہ، مسلمان عالمی سطح پر بھی اپنے ملک کی اہمیت کو بڑھاتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم آزادی کیلئے دی جانے والی قربانیوں کو نہ صرف یہ کہ یاد کریں بلکہ ان سے حوصلہ حاصل کرتے ہوئے اپنے حال کو بہتر اور مستقبل کو روشن بنائیں۔ہندوستانی مسلمان، جو ملک کی آبادی کا تقریباً۱۵؍ سے۲۰؍ فیصد ہیں، اپنی صلاحیتوں کا بہتر استعمال کر کے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنی حصہ داری بڑھا سکتے ہیں۔ جس ملک کی آزادی کیلئے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دیں، اس کی خوش حالی، ترقی، امن اور استحکام کیلئے کام کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ( استاذ شعبۂ انگریزی زبان و ادب،دارالعلوم دیوبند)