کانگریس لیڈر گنیش گوڈیال نے پریس کانفرنس کرکے انکیتا بھنڈاری کے قتل میں ملوث وی آئی پی کے نام کو اجاگر کرنے کا مطالبہ دوہرایا،کہا کہ وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کے اعلان کےباوجود سی بی آئی جانچ پر کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔
انکتا بھنڈاری قتل معاملے کے خلاف عوامی غصہ بھی بڑھتا جارہا ہے۔ تصویر: آئی این این
کانگریس پارٹی نے اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت پر انکتا بھنڈاری قتل کیس کی تحقیقات کو پٹری سے اتارنے کا سنگین الزام لگایا۔ پارٹی کے اتراکھنڈ یونٹ کے صدرنے کہا کہ وزیراعلیٰ کے ذریعے سی بی آئی تحقیقات کا اعلان کرنے کے دو ہفتہ سے زائد وقت کے باوجودیہ واضح نہیں ہے کہ آیا حکومت نے واقعی سی بی آئی کو تحقیقات سونپنے کی رسمی رپورٹ پیش کی۔
کانگریس کے دفتر میں ایک پریس کانفرنس میں اتراکھنڈ کانگریس کے صدر گنیش گوڈیال نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ انکتا بھنڈاری کے والدین سے مشورہ کرنے کے بعد اس معاملے کی دوبارہ تحقیقات کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے دوران انکتا کے والدین نے قصورواروں کو پھانسی دینے، اس کیس میں ملوث وی آئی پیز کے ناموں کا انکشاف اور موجودہ جج کی نگرانی میں سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ لکھا تھا۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ سی بی آئی تحقیقات کرائی جائے گی۔
گوڈیال نے کہا کہ انکتاکے والدین کی درخواست کی بنیاد پر سی بی آئی کے لیے سفارش کی جانا فطری ہے۔ تاہم حکومت نے متاثرہ کے خاندان کی بجائے کسی تیسرے فریق کی طرف سے درج کی گئی ایف آئی آر کی بنیاد پر سی بی آئی تحقیقات کا انتخاب کیا، جس سے یہ شک پیدا ہوا کہ تحقیقات کو جان بوجھ کر کمزور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ حکومت کی طرف سے سی بی آئی کو بھیجی گئی رپورٹ کو ابھی تک عام نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ حکومت ایک نئی ایف آئی آر کی بنیاد پر کیس کی تحقیقات کر رہی ہے، جس سے وی آئی پی ملوث ہونے کو فرضی قرار دے کر اس کی جانچ کرانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی افسانہ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ ایک لڑکی کو وی آئی پی کی خدمت سے انکار پر قتل کر دیا گیا۔ جب کانگریس پارٹی نے کہا کہ تحقیقات اس حقیقت پر مبنی ہونی چاہئے، تو حکومت پیچھے ہٹ گئی اور یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ حکومت نے تحقیقات سی بی آئی کو سونپ دی ہے یا نہیں۔ سی بی آئی نے بھی اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ۔
بی جے پی حکومت پر بااثر افراد کو تحفظ فراہم کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے کے ملزمین نے خود نارکو ٹیسٹ کی درخواست کرنے کے باوجود حکومت نے عدالت میں اس کی مخالفت کی، جو کہ فوجداری مقدمات میں بہت کم ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے موقف سے پتہ چلتا ہے کہ اسے خدشہ ہے کہ نارکو تجزیہ سے حکمراں جماعت کے رہنماؤں کے نام سامنے آسکتے ہیں۔ گوڈیال نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ تحقیقات کے نتائج کو عام کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایس آئی ٹی کے سابق سربراہ جو اب سی بی آئی میں اعلیٰ عہدہ پر فائز ہیں، کو تحقیقاتی عمل سے باہر رکھا جائے۔