رتنا گیری سے محض ۳؍کلومیٹر دورواقع یہ ساحل سیاہی مائل چاندی جیسی ریت اور دلکش غرور آفتاب کے نظاروں کیلئے جانا جاتا ہے،سیپیاں چننا اہم سرگرمی۔
بھاٹیے بیچ کی ہموار سطح والی ریت-تصویر:آئی این این
بھاٹیے بیچ رتناگری شہر سے محض۳؍کلومیٹر کے فاصلے پر بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع ہے۔یہ ساحل اپنی سیاہی مائل چاندی جیسی ریت اور دلکش غروبِ آفتاب کے نظاروں کیلئے مشہور ہے۔ رتناگری کےقریب ایک چھوٹے گاؤں بھاٹیے سے منسوب یہ ساحل اپنے سپاٹ اور صاف شفاف پھیلاؤ کے لیے جانا جاتا ہے، جہاں سے رتناگری لائٹ ہاؤس اور شہر کی مدوی بیچ بھی صاف نظر آتی ہے۔
تاریخی پس منظر
بھاٹیے بیچ کو پہلے ’ویتارنا‘ اور’بھٹکارنا‘کے ناموں سے جانا جاتا تھا۔یہ ساحل تاریخی اعتبار سے بھی اہم ہے کیونکہ برطانوی دور میں اسے ایک تجارتی بندرگاہ کے طورپر استعمال کیا جاتا تھا اور ۱۸؍ویں صدی میں یہ مراٹھا بحریہ کی ایک اہم پناہ گاہ بھی رہا ہے۔
ساحل کی خصوصیات
ڈیڑھ کلومیٹر لمبا یہ ساحل اپنی خاموشی اور دلکش مناظر کیلئے مشہور ہے۔یہاں صبح سویرے سیر کرنے والے، پکنک منانے والے خاندان اور سیپیاں چننے والے بچے ہمیشہ نظر آتے ہیں۔ ساحل کے قریب کوہِ نور پوائنٹ موجود ہے جہاں سے طلوع اور غروبِ آفتاب کا منظر انتہائی دلکش ہوتا ہے۔ ساحل کی ریت سیاہ رنگ کی، بالکل ملائم اور مخمل جیسی نرم ہے۔ یہ ساحل قدرتی خوبصورتی سے بھرپور ہے کیسوارینا کے درختوں کی قطاریں، صاف شفاف پانی اور سہیادری کے پہاڑوں کا دلکش پس منظر اسے ایک منفرد ساحل بناتے ہیں۔
کیا کیا جائے یہاں
بھاٹیے بیچ پر سیر کے علاوہ تیراکی، سیپیاں چننا، فٹ بال اور والی بال کھیلنا جیسی سرگرمیوں سےلطف اندوزہوا جاسکتا ہے، تاہم مانسون کے موسم میں پانی سے فاصلہ رکھنا ضروری ہے۔
یہاں اونٹ اور گھوڑے پر سواری کی سہولت بھی موجود ہے۔ ساحل کنارے متعدد فوڈ اسٹالز ہیں جہاں چاٹ، تازہ ناریل پانی اور دیگر مقامی پکوان دستیاب ہیں۔بعض خوش قسمت سیاحوں کو یہاں بائیو لیومینیسینس (رات کو سمندر کا جگمگانا) کا دلکش نظارہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے جو ایک انتہائی نادر اور یادگار تجربہ ہوتا ہے۔
قریبی سیاحتی مقامات
بھاٹیے بیچ کے قریب کئی دیکھنے کے لائق مقامات ہیں۔ جیجاماتا اُدیان تھیبا پوائنٹ ایک خوبصورت ویو پوائنٹ ہے جہاں سے ساحل کا دلکش نظارہ ملتا ہے۔ تھیبا پیلیس یہاں سے صرف۲ء۸۲؍کلومیٹر دور ہے۔یہ برما کے جلا وطن بادشاہ کی تاریخی محل ہے جو اس علاقے کے ثقافتی ورثے کا آئینہ دار ہے۔ رتناگری مرین میوزیم بھی قریب ہی ہےجہاں سمندری حیات کے بارے میں معلومات ملتی ہیں۔
یہاں کیسے پہنچیں؟
ممبئی سے رتناگری تک سڑک کافاصلہ تقریباً ۳۰۰؍کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ یہاں پہنچنے کے ۳؍ طریقے ہیں:
ریل کےذریعہ :ممبئی کے دادر اسٹیشن سے رتناگری کے لیے ہر۴؍ گھنٹےبعد ٹرین چلتی ہے اور سفر تقریباً۵؍سے۶؍گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے۔ممبئی سے رتناگری کے لیے ۳۶؍ ٹرینیں چلتی ہیں۔رتناگری اسٹیشن سے بھاٹیے بیچ تک آٹو رکشہ یا ٹیکسی سے محض ۱۰؍تا ۱۵؍ منٹ میں پہنچا جا سکتا ہے۔
بس کےذریعہ :ممبئی سے رتناگری کے لیے ۴۴؍سےزیادہ بس سروسزروزانہ چلتی ہیں۔پہلی بس شام۴؍ بجے اور آخری بس رات ۹؍ بجکر ۴۵؍ منٹ پرروانہ ہوتی ہے۔سفر تقریباً۱۱؍ سے۱۲؍گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے۔
سڑک کےراستے :ذاتی گاڑی یا ٹیکسی سے ممبئی تا رتناگری تقریباً ۷؍ گھنٹے میں پہنچا جا سکتا ہے۔ راستہ ممبئی-گوا ہائی وے(این ایچ ۶۶) سے ہے جو کوکن کے خوبصورت پہاڑی اور ساحلی نظاروں سے گزرتا ہے اور سفر بذاتِ خود ایک یادگار تجربہ ہوتا ہے۔رتناگری پہنچنے کے بعد بھاٹیے بیچ تک بس اسٹینڈ سے آٹو رکشہ یا ٹیکسی کے ذریعے آسانی سے پہنچا جا سکتا ہے۔