ہندوستان کے بڑے نجی بینکوں میں شامل ایچ ڈی ایف سی بینک نے کہا ہے کہ خفیہ معلومات کے ممکنہ افشا ہونے کے معاملے کی اندرونی سطح پر جانچ کی جارہی ہے اور جائزہ مکمل ہونے کے بعد ہی آئندہ کارروائی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
EPAPER
Updated: October 21, 2026, 10:07 PM IST | New Delhi
ہندوستان کے بڑے نجی بینکوں میں شامل ایچ ڈی ایف سی بینک نے کہا ہے کہ خفیہ معلومات کے ممکنہ افشا ہونے کے معاملے کی اندرونی سطح پر جانچ کی جارہی ہے اور جائزہ مکمل ہونے کے بعد ہی آئندہ کارروائی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
ہندوستان کے بڑے نجی بینکوں میں شامل ایچ ڈی ایف سی بینک نے کہا ہے کہ خفیہ معلومات کے ممکنہ افشا ہونے کے معاملے کی اندرونی سطح پر جانچ کی جارہی ہے اور جائزہ مکمل ہونے کے بعد ہی آئندہ کارروائی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ بینک نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے سے متعلق تمام حقائق جمع کرنے اور ان کا جائزہ لینے کے بعد اپنے ضابطوں کے مطابق مناسب قدم اٹھائے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بینک میں اعلیٰ انتظامی سطح پر تبدیلیاں ہورہی ہیں اور نئے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی تقرری بھی ہونے والی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کوئمبٹور کے یوٹیوب اسٹار سے’’جیلر ۲‘‘ کے اداکار تک: رتھوک جوتی راج
این ڈی ٹی وی پروفٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایچ ڈی ایف سی بینک کے ترجمان نے کہا کہ بینک کی پالیسیوں کے تحت معاملے سے متعلق تمام حقائق جمع کرنے اور ان کا جائزہ لینے کے لیے اندرونی جانچ جاری ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ جائزے کے دوران اس عمل یا اس میں شامل افراد کے بارے میں تفصیلات پر تبصرہ نہیں کیا جائے گا، تاکہ جانچ کے عمل اور متعلقہ افراد کی رازداری برقرار رہے۔ بینک کے مطابق، جائزہ مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے والے نتائج کی بنیاد پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔
میڈیا کی بعض رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بینک کی اندرونی جانچ میں دو سینئر افسران کی جانب سے خفیہ معلومات افشا کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ان رپورٹوں کے مطابق، بینک کے کچھ اعلیٰ افسران نے معلومات کے ممکنہ افشا ہونے کے خدشات ظاہر کیے تھے، جس کے بعد جانچ شروع کی گئی۔رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بینک اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا مبینہ طور پر افشا ہونے والی معلومات کا کوئی غلط استعمال کیا گیا تھا۔ تاہم، ایچ ڈی ایف سی بینک نے اپنے بیان میں کسی فرد کو قصوروار قرار نہیں دیا ہے اور نہ ہی اندرونی جائزے کے نتائج کا اعلان کیا ہے۔ اس لیے خفیہ معلومات افشا کرنے سے متعلق دعووں کو فی الحال رپورٹوں میں بیان کردہ الزامات اور خدشات کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایچ ڈی ایف سی بینک کی قیادت میں تبدیلی ہونے والی ہے۔ انوپ باگچی ۲۷؍اکتوبر کو چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) کا عہدہ سنبھالنے والے ہیں۔ بینک میں رواں سال انتظامی سطح پر دیگر تبدیلیاں بھی ہوئی ہیں، جن کی وجہ سے ادارے کی قیادت اور انتظامی امور توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔بینک کے لیے موجودہ معاملے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ خفیہ معلومات کی حفاظت، داخلی ضابطوں کی پابندی اور انتظامی شفافیت مالیاتی اداروں کی ساکھ اور صارفین کے اعتماد کے بنیادی عناصر ہیں۔ تاہم، جاری اندرونی جائزے کے نتائج سامنے آنے تک معاملے کی مکمل نوعیت اور اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:ساتوک سائی راج رنکی ریڈی اور چراغ شیٹی مسلسل تیسری بار پہلے دور میں باہر
ایچ ڈی ایف سی بینک میں مارچ کے دوران اس وقت بھی اہم انتظامی تبدیلی ہوئی تھی جب اس وقت کے چیئرمین اتانو چکرورتی نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے اپنے ذاتی اصولوں اور بینک کے بعض طریقۂ کار کے درمیان اختلافات کا حوالہ دیا تھا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، بعد میں بینک کی جانب سے کرائے گئے آزاد قانونی جائزے میں ان کے خدشات کی توثیق نہیں ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ، بینک نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کیزاد بھروچا نے اپنے عہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ بینک کی ضابطہ جاتی اطلاع کے مطابق، انہوں نے ۳۱؍ دسمبر کو کاروباری اوقات ختم ہونے پر اپنی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہونے کی درخواست دی ہے۔
ایچ ڈی ایف سی بینک نے اپنے ضابطۂ اخلاق کے تحت اخلاقی طرزِ عمل اور بہتر انتظامی نظام کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ ضابطوں کی ممکنہ خلاف ورزی سے متعلق اطلاعات کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور معاملے کا جائزہ مکمل ہونے کے بعد مناسب قدم اٹھایا جائے گا۔ مجموعی طور پر، خفیہ معلومات کے ممکنہ افشا ہونے کا معاملہ ایچ ڈی ایف سی بینک کے لیے ایک اہم داخلی جانچ بن گیا ہے۔ اب توجہ اس بات پر ہے کہ جائزے میں کیا نتائج سامنے آتے ہیں، آیا معلومات کا غلط استعمال ہوا تھا یا نہیں، اور بینک ان نتائج کی بنیاد پر کیا کارروائی کرتا ہے۔ فی الحال بینک نے حتمی فیصلہ سنانے کے بجائے اندرونی جائزہ مکمل ہونے کا انتظار کرنے کا موقف اختیار کیا ہے۔