• Wed, 21 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی: سی جے پی لیڈرز سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو عدالتی تحویل سے رہائی کا حکم

Updated: October 21, 2026, 8:38 PM IST | New Delhi

جنتر منتر میں احتجاج کے معاملے پر حراست میں لیے گئے کاکروچ جنتا پارٹی کے دو رہنماؤں سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو دہلی میں خصوصی ایگزیکٹو مجسٹریٹ نے عدالتی تحویل سے رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے بھی ان کی تحویل میں توسیع کے طریقۂ کار پر سوال اٹھائے تھے۔ دونوں رہنماؤں نے عدالتی تحویل میں توسیع کے حکم کو چیلنج کرنے والی اپنی عرضی واپس لے لی، جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

CJP leaders Ashutosh Ranka and Saurav Das. Photo: INN
سی جے پی لیڈرز اشوتوش رانکا اور سورَو داس۔ تصویر: آئی این این

دہلی میں خصوصی ایگزیکٹو مجسٹریٹ (ایس ای ایم) نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے لیڈروں سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو عدالتی تحویل سے رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ۱۹؍ اکتوبر کو مجسٹریٹ نے ان کی عدالتی تحویل میں مزید دو دن کی توسیع کی تھی۔ دہلی پولیس نے ان کی تحویل میں مزید تین دن کی توسیع کی درخواست کی تھی۔ داس اور رانکا کو ۱۳؍ اکتوبر کو اس الزام میں حراست میں لیا گیا تھا کہ انہوں نے بند پھاٹک پھلانگ کر جنتر منتر میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ اس سے ایک روز قبل جنتر منتر کو احتجاج کے لیے مقررہ مقام کی حیثیت سے منسوخ کردیا گیا تھا۔ ۱۴؍ اکتوبر کو ایک خصوصی ایگزیکٹو مجسٹریٹ نے دونوں لیڈروں کو پانچ دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا تھا۔ بعد ازاں مجسٹریٹ نے امنِ عامہ اور سلامتی سے متعلق خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں لیڈروں نے ان مقامات پر بار بار احتجاج کی اپیل کرکے ’’قانون کا کوئی احترام نہیں کیا‘‘، جنہیں مظاہروں کے لیے مقررہ مقامات کی فہرست سے خارج کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: کوگیٹو میڈیا فاؤنڈیشن کا صحافیوں پر ہوئی کارروائی پر قانونی چارہ جوئی کا اعلان

دہلی ہائی کورٹ نے تحویل کے طریقۂ کار پر سوال اٹھائے

اس سے قبل دن میں دہلی ہائی کورٹ نے اس طریقۂ کار پر سوال اٹھائے جس کے تحت کاکروچ جنتا پارٹی کے لیڈروں سورَو داس اور آشوتوش رانکا نے ۱۱؍ اکتوبر کو فی کس ۵۰؍ ہزار روپے کے مچلکے جمع کرائے تھے۔ عدالت ان کی اس عرضی پر سماعت کررہی تھی جس میں خصوصی ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے عدالتی تحویل میں توسیع کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ ان مچلکوں کے تحت دونوں لیڈروں کو ایک سال تک امنِ عامہ برقرار رکھنے اور خلل ڈالنے والی سرگرمیوں سے گریز کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔ ان کے وکیل ابھیک چمنی سے پوچھا گیا کہ مچلکوں کی خلاف ورزی کی صورت میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) میں مقررہ طریقۂ کار پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: سوروداس، آشوتوش رانکا نے عدالتی حراست کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے درخواست واپس لی

جسٹس سبرامنیم پرساد نے خبردار کیا کہ رکاوٹیں توڑنے سے دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے، جس کے نتیجے میں احتجاج کو قابو میں رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ دوسرے ممالک میں پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں طلبہ کے احتجاج نے شدت اختیار کرتے ہوئے آتش زنی اور عمارتوں کو جلانے کی صورت اختیار کرلی تھی۔ بعد ازاں لیڈروں کے وکیل نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ وہ عدالتی تحویل میں توسیع کے حکم کو چیلنج کرنے والی عرضی واپس لینا چاہتے ہیں۔ عدالت نے عرضی واپس لینے کی اجازت دے دی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK