بوریولی میں واقع ایک عمارت کی کمیٹی نے قانونی نوٹس بھیج کر لازمی اسمارٹ میٹر لگانے کا نوٹس واپس لینے کا مطالبہ کیا، بصورت دیگر قانونی چارہ جوئی کی وارننگ، ای میل کے ذریعہ بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے بھی شکایت کی۔
من مانے طریقہ سے اسمارٹ میٹر نصب کرنے کے تعلق سے اکثر شکایتیں سامنے آتی رہتی ہیں- تصویر:آئی این این
ممبئی: ممبئی میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ شہر و مضافات میں بیسٹ کے ۴۲؍ فیصد یعنی تقریباً ساڑھے ۴؍ لاکھ صارفین کے اسمارٹ میٹر نصب کئے جاچکے ہیں جبکہ من مانے طریقہ سے اسمارٹ میٹر نصب کرنے کے تعلق سے اکثر شکایتیں سامنے آتی رہتی ہیں، ایسا ہی ایک معاملہ بوریولی میں واقع ایک عمارت کا سامنے آیا ہے جہاں ایک کوآپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹی نے اڈانی الیکٹرسٹی کو وجہ بتائو نوٹس جاری کیا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہیں گمراہ کن نوٹس بھیجا گیا ہے جس میں اسمارٹ میٹر لگانے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ سوسائٹی نے ۷؍ دنوں میں نوٹس واپس نہ لینے پر قانونی چارہ جوئی کی وارننگ دی ہے۔
بوریولی (مغرب) میں ایم سی ایف گارڈن کے قریب ایس وی پی روڈ پر واقع پریم نگر بلڈنگ نمبر ۵؍ کوآپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹی کے سیکریٹری، چیئر مین اور منیجنگ کمیٹی کی جانب سے اڈانی الیکٹرسٹی اور بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ای میل کے ذریعے شکایت بھیجی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اڈانی الیکٹریسٹی کی جانب سے اس عمارت کے مکینوں کو نوٹس بھیجا جارہا ہے جن میں یہ گمراہ کن ہدایت دی گئی ہے کہ موجودہ الیکٹرک میٹر کو ’اسمارٹ یا پری پیڈ میٹر‘ میں تبدیل کروانا لازمی ہے ۔ اس ای میل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کمپنی ۷؍ دنوں میں وضاحت کرے کہ اس نوٹس کو فوری طور پر واپس کیوں نہیں لینا چاہئے۔
اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسمارٹ میٹر نہ لگوانے کی صورت میں انجام بھگتنے کی وارننگ دی گئی ہے۔ اس ای میل کو بھیجنے والے ’سٹیزن ویجیلنس فورم‘ نامی غیرسرکاری تنظیم سے وابستہ کشیپ ویاس نے کہا ہے کہ اسمارٹ میٹر کو لازمی قرار دینے سے نہ صرف ’الیکٹریسٹی ایکٹ ۲۰۰۳ء‘ کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ اسمارٹ میٹر کو قانونی طور پر لازمی قرار دیا جاسکتا ہے یا نہیں اس موضوع پر مفاد عامہ کی ایک عرضداشت بامبے ہائی کورٹ میں پہلے سے زیر التواء ہے ۔ صارفین کے مطابق چونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لئے اس طرح سے یکطرفہ فیصلہ کرنا نظام عدلیہ میں مداخلت کے مترادف ہے اور اس سے آئین میں دیئے گئے حق انصاف، من مانی نہ کرنے اور صارفین کے تحفظ کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
بلڈنگ کی کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ کمپنی بتائے کہ کس قانون کے تحت اسمارٹ میٹر لگانے کو لازمی کہا گیا ہے۔ مزید یہ کہ جو بھی گمراہ کن اور جبر کرنے والا نوٹس بھیجا گیا ہے اسے واپس لے، اس بات کی یقین دہانی کرائے کہ جب تک یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے تب تک جو صارفین اسمارٹ میٹر لگوانے سے انکار کریں گے ان کے خلاف کوئی تعزیری، تکنیکی یا بجلی سپلائی سے متعلق کارروائی نہیں کی جائے گی۔ متذکرہ تمام باتوں کی تحریری یقین دہانی ۷؍ دنوں میں کرائی جائے۔
ای میل کے مطابق اگر ۷؍ دنوں میں نوٹس واپس نہیں لیا گیا تو عمارت کی کمیٹی کمپنی کے خلاف قانونی اقدام کرے گی۔اڈانی کمپنی کے علاوہ بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھی ای میل بھیجا گیا ہے اس میں شکایت کی گئی ہے کہ عدالت میں معاملہ زیر سماعت ہونے کے باوجود کمپنی صارفین کو لازمی طور پر اسمارٹ میٹر لگانے کیلئے نوٹس جاری کررہی ہے ۔ چیف جسٹس سے درخواست کی گئی ہے کہ اس بات کا نوٹس لیتے ہوئے عدالت مناسب عبوری حکم جاری کرکے وضاحت کرے کہ مفاد عامہ کی عرضداشت پر حتمی فیصلہ آنے تک کوئی بھی کمپنی موجودہ صارفین کو اسمارٹ میٹر لگانے پر مجبور نہیں کرسکتی۔ اس کے علاوہ اڈانی کمپنی یا دیگر کمپنی نے اگر لازمی طور پر اسمارٹ میٹر لگانے کا کوئی نوٹس جاری کیا ہے تو عدالت اس کو منسوخ کرے۔
انقلاب کے پوچنے پر منگل کی شام کو کشیپ ویاس نے بتایا کہ اب تک اڈانی کمپنی کی طرف سے انہیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔