دھاراوی بچاؤ آندولن نے کہا: چوری چوری چپکے چپکے کیوں بھومی پوجن کیا جارہا ہے، دھاراوی واسیوں کے مطالبات کوکیوں نظرانداز کیا جارہا ہے۔ ایکسپیرئنس سینٹر میںبھی ان کی رسائی نہیںہورہی ہے جس سے ان میں ناراضگی پائی جارہی ہے۔
EPAPER
Updated: October 16, 2026, 5:26 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Dharavi
دھاراوی بچاؤ آندولن نے کہا: چوری چوری چپکے چپکے کیوں بھومی پوجن کیا جارہا ہے، دھاراوی واسیوں کے مطالبات کوکیوں نظرانداز کیا جارہا ہے۔ ایکسپیرئنس سینٹر میںبھی ان کی رسائی نہیںہورہی ہے جس سے ان میں ناراضگی پائی جارہی ہے۔
دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے تحت ماٹونگا (میگھ واڑی) میں ۲۲؍ ایکڑ ریلوے اراضی پر عمارتوں کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب ۳؍دن قبل منعقد کی گئی تھی۔اس کے تحت ۱۰؍ ٹاورس تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔ دھاراوی بچاؤ آندولن کی جانب سے یہ کہہ کر اِس کی شدید مخالفت کی گئی ہے کہ یہ ’چوری چوری چپکےچپکے‘کیوں بار بار بھومی پوجن کیا جارہا ہے ؟ دھاراوی واسی اپنے مستقبل کے تئیں فکرمند ہیں، وہ دھاراوی میں ہی گھر اور روزگارچاہتے ہیں،اس تعلق سےان کو مطمئن کیوں نہیں کیا جارہا ہے ۔
دھاراوی بچاؤ آندولن کےسابق رکن اور دلت لیڈر بھالے راؤ نے کہاکہ ’’یہ بھومی پوجن نہیں دھاراوی واسیوں کےساتھ دھوکہ اورنیا ڈرامہ ہے ۔ان کے مطابق ’چوری چوری چپکے چپکے‘ بھومی پوجن کا یہ تیسرا موقع ہے مگردھاراوی واسیوں کے حقیقی مسائل اوران کے مطالبا ت پر بات ہی نہیں کی جارہی ہے۔‘‘ انہوں نے یہ الزا م بھی عائد کیا کہ جو ایکسپیرئنس سینٹر (تجربہ گاہ) بنایاگیا ہے، اس میںعام دھاراوی واسی کوجانے ہی نہیں دیاجارہا ہے جبکہ اسے ان کےخوابوں کا علامتی آشیانہ قرار دیاگیا ہے۔کیااسی گمراہ کن انداز میںاڈانی گروپ دھاراوی واسیوں کا مستقبل سنوارنے کا ڈھکوسلہ کررہا ہے۔ضرورت اس کی ہے کہ پہلے ماسٹر پلان ظاہر کرکے ہر چیز واضح کی جائے نہ کہ دھوکہ میںرکھ کربار بار بھومی پوجن کیا جائے ۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: تھانے، کلیان، نوی ممبئی اور اطراف میں ۲۲؍ اکتوبر سے ۳۶؍ گھنٹے پانی بند
دھاراوی بچاؤ آندولن کے فعال رکن کامریڈ نصیرالحق نے کہا کہ ’’۱۲؍ستمبر ۲۰۲۴ء کو پہلا بھومی پوجن سیکٹر ۶؍ کے آر پی ایف گراؤنڈ پر کیا گیا، دوسرا بھومی پوجن ۱۲؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو کیا گیا۔۱۰؍ستمبر ۲۰۲۴ء کو دھاروی بچاؤ آندولن نے ایرانی ہوٹل کے قریب مزدور کیمپ میں علامتی بھوک ہڑتال کرکے شدید مخالفت کی تھی۔اس مظاہرے کا اثر یہ ہوا تھا کہ اڈانی کی کمپنی ڈی آر پی ایل نے ۱۲؍ستمبر کو علی الصباح ۴؍ بجے بھومی پوجن کیا۔اسی طرح دوسری عمارت ماہم اسٹیشن مشرق میں ریلوےا سکریپ یارڈ اور ڈائمنڈ بلڈنگ کے پیچھے تعمیر کی جا رہی ہے، یہاں کئی عمارتیں بنائی جائیں گی۔ ریلوے کی زمین لیز پر لی گئی ہے جہاں دھاراوی کے قانونی قرار دیئے جانے والوں کے لئے گھر بنائے جا رہے ہیں جبکہ دھاراوی کے مستحق لوگ ریلوے کی زمین پر جا کر دوبارہ بے گھر ہونا نہیں چاہتے۔‘‘ ان کایہ بھی کہنا ہے کہ ’’اصل میںبارباربھومی پوجن کے نام پر دھاراوی واسیوں کو گمراہ کیاجارہا ہے، ان کے مطالبات پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔‘‘
سابق رکن اسمبلی اوردھاراوی بچاؤ آندولن کےسربراہ بابو راؤ مانے نے کہا کہ ’’ یہ محض تماشہ ہے،کسی نہ کسی انداز میں دھاراوی واسیوں کو ورغلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سوال یہ ہےکہ دھاراوی واسیوں کو اعتماد میںکیوں نہیں لیا جارہا ہے، وہ سروے کی مخالفت کرتے ہیں، اس کا جواب کیوں نہیںدیا جاتا ؟اس کے علاوہ فرنویس حکومت کیوں عوام کےمفادات اڈانی گروپ کےہاتھوں گروی رکھ رہی ہے؟‘‘