کم بارش سے ذخیرہ میں کمی اورباروی ڈیم میں دستیاب پانی کو ۳۱؍ اگست ۲۰۲۷ء تک سپلائی کرنے کیلئے ریاستی حکومت نے ۲۲؍ اکتوبر سے ہر ہفتے جمعرات سے سنیچر تک پانی سپلائی بند کرنے کا اعلان کیا۔
EPAPER
Updated: October 16, 2026, 5:22 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
کم بارش سے ذخیرہ میں کمی اورباروی ڈیم میں دستیاب پانی کو ۳۱؍ اگست ۲۰۲۷ء تک سپلائی کرنے کیلئے ریاستی حکومت نے ۲۲؍ اکتوبر سے ہر ہفتے جمعرات سے سنیچر تک پانی سپلائی بند کرنے کا اعلان کیا۔
کم بارش سے باروی ڈیم میں پانی کا ذخیرہ کم ہونے اور اس پانی کو ۳۱؍ اگست ۲۰۲۷ء تک شہریوں کو سپلائی کرنے کیلئے سنبھال کر استعمال کرنے کےمقصد سے تھانے، کلیان، نوی ممبئی، الہاس نگر اور اطراف میں ہر ہفتہ ۲۲؍ اکتوبر، جمعرات سے ۳۶؍ گھنٹوں کیلئے پانی سپلائی بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ۱۵؍اور ۱۶؍ اکتوبر کو ۲۴؍گھنٹے پانی سپلائی بند رہے گی۔
ریاستی حکومت نے ۱۳؍ اکتوبر کو ایک گورنمنٹ ریزولیوشن (جی آر) جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس سال موسم باراں کا جلد اختتام ہوگیا ہے اور ’ایل نینو‘ کے اثرات سے آئندہ برس بھی بارش کم ہونے کا خدشہ ہے اس لئے باروی ڈیم میں دستیاب پانی کو ۳۱؍ اگست ۲۰۲۷ء تک سنبھال کر چلانا ہوگا۔ ان حالات میں شہریوں کیلئے پانی کی شدید قلت نہ پیدا ہو اس لئے ۱۰؍ فیصد پانی کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ان باتوں کے پیش نظر حکومت نے جامبھولی میں واقع ’واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ‘ کو ہر ہفتے ۳۶؍ گھنٹوں کیلئے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ باروی ڈیم سے اس پلانٹ میں پانی پہنچایا جاتا ہے جہاں سے پانی صاف کرنے کے بعد عوام کو سپلائی ہوتا ہے۔ پانی سپلائی بند کرنے کے فیصلے کے تحت ۱۵؍ اور ۱۶؍ اکتوبر کو ۲۴؍ گھنٹوں کیلئے پانی سپلائی بند رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم اس کے بعد والے ہفتے کے جمعرات یعنی ۲۲؍ اکتوبر سے ہر ہفتے جمعرات کی شب ۱۲؍ بجے سے سنیچر کو دوپہر ۱۲؍ بجے تک ۳۶؍ گھنٹوں کیلئے پانی سپلائی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک: نوجوانوں کیلئے ملازمت کا حصول مشکل، کالج ڈگری بھی روزگار کی ضامن نہیں
واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بند رکھنے کی وجہ سے تھانے، کلیان-ڈومبیولی، نوی ممبئی، میرا بھائندر اور الہاس نگر میونسپل کارپوریشنوں اور اطراف کے علاقوں کے علاوہ ڈومبیولی اور تلوجہ انڈسٹریل ایریا، ’ٹی ٹی سی(ٹرانس- تھانے کریک) انڈسٹریل ایریا اور واگلے اسٹیٹ انڈسٹریل ایریا میں متذکرہ اوقات میں پانی سپلائی بند رہے گی۔ اس کے علاوہ پانی سپلائی شروع ہونے کے بعد بھی پانی کا دبائو بحال ہونے میں کچھ گھنٹے لگیں گے جس کی وجہ سے عوام اور تاجروں کا پانی کا مسئلہ جلد حل نہیں ہوگا۔ان باتوں کے پیش نظر حکومت نے عوام سے پانی کو پیشگی جمع کرنے، سنبھال کر استعمال کرنے اور تعاون کرنے کی درخواست کی ہے۔
یاد رہے کہ فی الوقت ممبئی واسیوں کو ۴؍ ہزار ۶۰۰؍ ملین لیٹر (ایم ایل ڈی) پانی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) محض ۴؍ ہزار ۱۰۰؍ ایم ایل ڈی پانی ہی سپلائی کرپاتا ہے۔ شہریوں کیلئے پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے بی ایم سی اور ریاستی حکومت کے ذریعہ جو انتظامات کئے جارہے ہیں، ان میں گارگائی باندھ کی تعمیر اور ملاڈ کے منوری میں سمندر کے کھارے پانی کو صاف کرکے قابل استعمال بنانا مستقبل قریب میں ممکن ہوسکے گا۔ دیگر منصوبوں پرفوری طور پر عمل ہوتا نظر نہیں آرہاہے۔
ماہرین کی وارننگ
موجودہ حالات میں ماحولیات کے ماہرین نے وارننگ دی ہے کہ ممبئی اور نوی ممبئی میں کم بارش، ڈیم کی محدود گنجائش جیسی وجوہات کی وجہ سے پانی کی قلت کے بادل سر پر منڈلا رہے ہیںاور اگر جلد کوئی حل تلاش نہیں کیا گیا تو بڑھتی مانگ اور پانی کی گھٹتی سطح کی وجہ سے شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ان کے مطابق فوری طور پر ڈیم کی تہہ میں جمع کیچڑ اور مٹی وغیرہ کو صاف کرکے نکال دینا چاہئے جس سے ان ڈیم میں پانی جمع کرنے کی گنجائش بڑھ جائے گی۔ اس کے علاوہ بارش کے پانی کو عمارتوں اور دیگر مقامات پر جمع کرنا، زیر زمین پانی میں اضافہ اور اسے سنبھالنے کے فوری اقدامات بھی ضروری ہوگئے ہیں۔ مزید یہ کہ نہ صرف سمندر کے کھارے پانی کو میٹھا کرکے قابل استعمال بنانے بلکہ استعمال شدہ پانی کو بھی دوبارہ قابل استعمال بنانے کی سخت ضرورت ہے تاکہ اس پانی کو کھانے پینے کے علاوہ دیگر کاموں میں استعمال کیا جاسکے۔