• Fri, 16 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی میں بی ایل اے کی مدد سے بی جے پی پر ووٹروں کے نام کٹوانے کا الزام

Updated: October 16, 2026, 5:30 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

انڈیا اتحاد کی کوششوں سے ایک بی ایل اے نے ای آر او کو خط لکھ کر۱۰؍ ناموں پراپنے اعتراض واپس لئے۔

MLA Rais Shaikh addressing a press conference. Other participants can also be seen. Photo: INN
پریس کانفرنس میں رکن اسمبلی رئیس شیخ خطاب کرتے ہوئے۔ دیگرشرکاء بھی نظر آرہے ہیں۔ تصویر: آئی این این
بھیونڈی سے انڈیا اتحاد کے لیڈران نے جمعرات کو  منعقدہ پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا ہے کہ بھیونڈی میں بی جے پی اپنے بی ایل اے کی مدد سے بڑے پیمانے پر ایسے ووٹروں کے نام انتخابی فہرست سے نکلوانے کی کوشش کررہی ہے جو ان  کے خلاف ووٹ دیتے ہیں۔ البتہ کئی دنوں کی انتھک محنت کے بعد ان حرکتوں پر کچھ حد تک قدغن لگایا جاسکا ہے۔ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر ایس آئی آر میں سے ۴۹؍ فیصد ووٹروں کے نام نکالے جانے کی تحقیق کروانے، ان ناموں کو دوبارہ فہرست میں شامل کرنے اور نام نکالنے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
انڈیا اتحاد کے لیڈران کی کوششوں سے جمعرات کو ایک بڑی کامیابی یہ ملی کہ بی جے پی کے ایک بی ایل اے موہن دیودیگا نے ’ای آر او (الیکٹورل رجسٹریشن آفس)‘ کو تحریری اطلاع دی ہے کہ  انہوں نے فارم ۷ ؍ اور ۱۰؍ کے ذریعہ جن ۱۰؍ ناموں پر اعتراض کیا تھا، وہ ان سب کے تعلق سے اپنا اعتراض واپس لے رہے ہیں۔
 
 
بھیونڈی مشرق سے سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے رئیس شیخ، ڈپٹی میئر طارق مومن (کانگریس)، عیشہ عمران خان (این سی پی شرد پوار،  اسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئر پرسن)، حسنین فاروقی (این سی پی، شرد پوار) اور کانگریس کے کارپوریٹر ساجو صدیقی، پرشانت لاڈ اور روہیداس واگھمارے ممبئی کے مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ    پریس کانفرنس میں موجود تھے۔
 
رئیس شیخ نے بتایا کہ بی جے پی لیڈر کپل پاٹل نے ای آر او کر ۱۲؍ ہزار ناموں کی فہرست دے کر ان پر اعتراض کیا تھا۔ تاہم جب انہیں بتایا گیا کہ ایک بی ایل اے ایک دن میں صرف ۱۰؍ ہی ناموں پر اعتراض کرسکتا ہے تو ان کے بی ایل اے ۱۰، ۱۰؍ ناموں کی فہرست جاری کرنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب تک ۵۴۰؍ ناموں پر اعتراض کیا گیا ہے جن میں سے ۵۰۰؍ مسلمان ہیں۔ رئیس شیخ کے مطابق انہوں نے کئی متاثرین کے گھر جاکر ان سے ملاقات کی تو پتہ چلا جو افراد برسوں سے ایک جگہ رہ رہے ہیں، ان کے تعلق سے کہا گیا کہ وہ وہاں موجود نہیں ہیں یا دیگر مقام پر منتقل ہوگئے۔ اس طرح کی تصدیق سے گزشتہ چند دنوں سے اعتراضات کا سلسلہ کچھ تھم گیا ہے البتہ ان کی بھاگ دوڑ جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK