کمپنی نے ۲۰۳۵ء تک دنیا کے اس تیزی سے بڑھتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ۱۰۰؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ۔
اے آئی سمٹ میں یہ روبوٹ یہاں آنے والے مہمانان کی توجہ کا مرکز بناہوا ہے۔تصویر: پی ٹی آئی
اڈانی گروپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ۲۰۳۵ء تک قابلِ تجدید توانائی سے چلنے والے ہائپر اسکیل اور اے آئی کیلئے تیار ڈیٹا سینٹروں کی تعمیر کیلئے ۱۰۰؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ کمپنی نے منگل کو جاری ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ اس مقامی اے آئی انفراسٹرکچر کا مقصد ابھرتے ہوئے ’انٹیلی جنس انقلاب‘ میں ہندوستان کو عالمی سطح پر قائد بنانا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ سرمایہ کاری ۲۰۳۵ء تک سرور مینوفیکچرنگ، جدید برقی ڈھانچے، مقامی کلاؤڈ پلیٹ فارم اور معاون صنعتوں میں مزید ۱۵۰؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو بھی تحریک دے گی۔
اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے کہا کہ دنیا ایک ایسے انٹیلی جنس انقلاب میں داخل ہو رہی ہے جس کا اثر کسی بھی سابقہ صنعتی انقلاب سے زیادہ ہوگا۔ جو ممالک توانائی اور کمپیوٹ کے توازن میں مہارت حاصل کریں گے، وہ اگلی دہائی کی سمت طے کریں گے۔ ان کے مطابق ہندوستان اس میدان میں عالمی قیادت کی پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی مقامی توجہ کے ساتھ مکمل پانچ سطحی اے آئی اسٹیک میں توسیع کر رہی ہے۔
پریس ریلیز میں کہا گیا کہ یہ روڈ میپ اڈانی کونیکس کے موجودہ دو گیگاواٹ قومی ڈیٹا سینٹر نیٹ ورک پر مبنی ہے، جسے بڑھا کر پانچ گیگاواٹ تک کیا جائے گا۔ کمپنی گوگل کے ساتھ شراکت داری میں وشاکھا پٹنم میں ملک کا سب سے بڑا گیگاواٹ سطح کا ڈیٹا سینٹر کیمپس قائم کر رہی ہے۔ ساتھ ہی نوئیڈا میں اضافی کیمپس اور مائیکرو سافٹ کے ساتھ حیدرآباد اور پونے میں توسیعی منصوبے شامل ہیں۔ اڈانی گروپ دیگر عالمی کمپنیوں کے ساتھ بھی گفتگو کر رہا ہے جو ہندوستان میں بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹر کیمپس قائم کرنا چاہتی ہیں۔
اڈانی گروپ فلپ کارٹ کے ساتھ اپنی ڈیٹا سینٹر شراکت داری کو آگے بڑھاتے ہوئے اگلی نسل کی ڈیجیٹل تجارت، ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ اور بڑے پیمانے کی اے آئی ورک لوڈ کیلئے فلپ کارٹ کیلئے خصوصی طور پر تیار کئے گئے دوسرے اے آئی ڈیٹا سینٹر کی تعمیر کی سمت بھی قدم بڑھائے گا۔
اس دوران نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں جاری انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران موزیلا فاؤنڈیشن اور جی ۵؍ اے کے اشتراک سے ایک فکر انگیز سیشن منعقد کیا گیا، جسکا عنوان ’’اے آئی اور تخلیقی صلاحیتوں کا مستقبل: طاقت اور عوامی تصور‘‘ تھا۔ اس سیشن کی نظامت دیویا نے کی، جس میں ٹیکنالوجی اور فلم سازی کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے مصنوعی ذہانت کے اثرات اور اس کے ممکنہ خطرات پر سیر حاصل گفتگو کی۔
میٹا کے ڈائریکٹر آف انجینئرنگ، سرانین وگراہم نے اے آئی کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ انہوں نے کہا، لوگ اب گوگل کے بجائے چیٹ جی پی ٹی، اینتھروپک یا جیمنائی کو تلاش اور دریافت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔