Inquilab Logo Happiest Places to Work

اڈانی کا امریکی مارکیٹ ریگولیٹر کے ذریعہ دھوکہ دہی کا مقدمہ خارج کرنے کا مطالبہ

Updated: April 08, 2026, 8:03 PM IST | New Delhi

اڈانی نے امریکی مارکیٹ ریگولیٹر کے ذریعہ دھوکہ دہی کے کیس کو خارج کرنے کا مطالبہ کیا ہے، گروپ کے سربراہ گوتم اڈانی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اس بانڈ پیشکش میں براہِ راست ملوث نہیں تھے جس پر الزامات کی بنیاد ہے۔

Adani Group Chairperson Gautam Adani. Photo: INN
اڈانی گروپ کی چیئرپرسن گوتم اڈانی۔ تصویر: آئی این این

اڈانی گروپ کی چیئرپرسن گوتم اڈانی نے امریکی عدالت میں درخواست دی ہے کہ ان کے خلاف یو ایس سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) کا دھوکہ دہی کا مقدمہ خارج کیا جائے، کیونکہ یہ امریکی قانون کا ناجائز بیرونی اطلاق ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق، کمیشن نے نومبر۲۰۲۴ء میں گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے ہندوستان میں شمسی توانائی کے معاہدوں کے لیے افسران کو رشوت دینے کا منصوبہ بنایا، اور پھر امریکہ میں سرمایہ کاروں کو کمپنی کے اینٹی برائیبیری طریقوں کے بارے میں غلط بیانی کی۔دھوکہ دہی کے الزامات اس بنیاد پر ہیں کہ اڈانی گرین نے مبینہ طور پر۲۰۲۱ء میں۷۵۰؍ ملین ڈالر کے بانڈ پیشکش سے متعلق دستاویزات میں اس اسکیم کا انکشاف نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھئے: یوگی سرکار پربدعنوانی کاالزام، بسیں چلی نہیں، تنخواہیں دے دی گئیں

بعد ازاں پی ٹی آئی کے مطابق، گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا کہ کمیشن کے الزامات قانونی طور پر کئی وجوہات کی بنا پر ناقص ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسٹرن ڈسٹرکٹ کورٹ آف نیویارک (جو مقدمہ سن رہی ہے) کو ان پر ذاتی دائرہ اختیار حاصل نہیں، کیونکہ ان میں سے کسی کا بھی امریکہ سے تعلق نہیں، اور وہ بانڈ پیشکش میں براہِ راست ملوث نہیں تھے۔ان کا مؤقف ہے کہ بانڈ کی فروخت امریکہ سے باہر ہوئی، اور یہ سیکیورٹیز امریکہ سے باہر انڈر رائٹرز کو فروخت کی گئیں۔ بعد میں انڈر رائٹرز نے ان سیکیورٹیز کا کچھ حصہ اہل ادارہ جاتی خریداروں کو دوبارہ فروخت کیا۔تاہم اڈانی  گروپ کی چیئرپرسن کی درخواست کے مطابق، شکایت میں یہ نہیں کہا گیا کہ گوتم اڈانی نے بانڈ جاری کرنے کی منظوری دی، اہم میٹنگوں میں شریک ہوئے، یا امریکی سرمایہ کاروں سے منسلک کسی سرگرمی کا حکم دیا۔ساتھ ہی درخواست میں مزید کہا گیا کہ اڈانی نے اس بات سے اختلاف کیا ہے کہ مبینہ رشوت اسکیم کا کوئی قابلِ اعتبار ثبوت موجود ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جے رام رمیش نے مودی حکومت پر تنقید کی، مغربی ایشیا میں جنگ بندی عالمی توجہ کا مرکز

دریں اثناءپی ٹی آئی کے مطابق درخواست میں کہا گیاہے کہ ’’خاص طور پرکمیشن یہ نہیں کہتا کہ سرمایہ کاروں کو کوئی نقصان ہوا، اور حقیقت میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بانڈز کی میچورٹی آ چکی ہے، اور اڈانی گرین نے۲۰۲۴ء میں تمام اصل رقم اور سود مکمل طور پر سرمایہ کاروں کو ادا کر دیا۔‘‘مزید برآں  اڈانی نے یہ بھی دلیل دی کہ کمیشن امریکہ میں کوئی ’’ملکی لین دین‘‘ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، جو امریکی سیکیورٹیز قوانین کے اطلاق کے لیے ضروری ہے۔پی ٹی آئی کے مطابق، یکم فروری کو گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی نے اس کیس میںکمیشن کا قانونی نوٹس قبول کرنے پر اتفاق کیا۔ اس سے امریکی جج کو اس فیصلے کی ضرورت ختم ہو گئی کہ صنعت کار کو قانونی نوٹس کس طرح پہنچایا جائے۔ اگست میں کمیشن نے نیویارک کی عدالت کو بتایا تھا کہ ہندوستان نے ابھی تک ان دونوں کو سمن فراہم نہیں کیے تھے ۔
واضح رہے کہ ۲۷؍ نومبر۲۰۲۴ء کو اڈانی گروپ نے اسٹاک ایکسچینج فائلنگ میں کہا کہ’’ گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی پر امریکہ میں رشوت کے نہیں بلکہ سیکیورٹیز فراڈ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ان الزامات نے گروپ کی مارکیٹ قیمتکو نقصان پہنچایا، اس وقت حصص کی قیمتیں۵۴؍ بلین ڈالر گر گئیں۔‘‘ اڈانی  کے وکلاء نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ باضابطہ طور پر۳۰؍ اپریل تک مقدمہ کو خارج کرنے کی درخواست دیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK