Updated: April 08, 2026, 8:58 PM IST
| Haifa
اسرائیلی شہر حیفہ میں ایک مبینہ ایرانی میزائل حملے میں ایک اسرائیلی خاتون فوجی شدید زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی رپورٹس کے مطابق متاثرہ خاتون، جس کی شناخت جولیٹا کے نام سے کی جا رہی ہے، کو سر پر شدید چوٹیں آئیں۔ تاہم اس واقعے کی باقاعدہ تصدیق نہیں ہوئی۔یہ وہی خاتون فوجی ہے جو فلسطینیوں کو ذلیل کرنے والی ویڈیوز بناتی ہے۔
اسرائیلی شہر حیفہ میں ایک مبینہ میزائل حملے کے بعد ایک اسرائیلی خاتون فوجی کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم اس واقعے کی باضابطہ تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس اور غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق متاثرہ خاتون کی شناخت ’’جولیٹا‘‘ کے نام سے کی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شہر میں پناہ گاہوں کے قریب ایک میزائل گرنے کی اطلاع ملی۔ غیر سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں مذکورہ خاتون فوجی کو سر پر شدید چوٹیں آئیں، جس کے نتیجے میں اس کی کھوپڑی متاثر ہوئی اور سر جھلس گیا۔ تاہم اس حوالے سے کسی مستند سرکاری یا عسکری ذریعے نے ابھی تک تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مواد میں یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ خاتون فوجی ماضی میں فلسطینیوں کے حوالے سے توہین آمیز مواد شیئر کرتی رہی تھی، تاہم اس دعوے کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ تھا، اور دونوں ممالک کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں کی خبریں مسلسل سامنے آ رہی تھی۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے حالیہ حملوں کے حوالے سے عمومی سیکوریٹی الرٹس جاری کیے گئے ہیں، تاہم اس مخصوص واقعے پر ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اسی طرح ایرانی حکام کی جانب سے بھی اس مبینہ حملے کے بارے میں کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایران نے اسے اپنی فتح قرار دیا
ماہرین کے مطابق جنگی حالات میں سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات کا پھیلاؤ عام ہوتا ہے، جس کے باعث حقائق کی تصدیق مشکل ہو جاتی ہے۔ اس تناظر میں ایسے واقعات کے حوالے سے مستند ذرائع کا انتظار ضروری سمجھا جاتا ہے۔ تاحال اس واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کے پیش نظر اس طرح کی اطلاعات میں اضافہ ہورہا ہے۔